بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زکریا بن اسحاق سے، زکریا نے یحيٰ بن عبداللہ بن صیفی سے، یحيٰ نے ابومعبد سے، ابومعبد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: انہیں اس شہادت کی طرف دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ پس اگر وہ یہ مان لیں تو پھر انہیں (یہ) بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رات دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ اس کو بھی مان لیں، پھر انہیں بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر اُن کے مالوں میں صدقہ بھی فرض کیا ہے جو اُن کے مالداروں سے لیا اور اُن کے محتاجوں کی طرف لوٹایا جائے گا۔
اس پر (حضرت ابوبکرؓ نے) کہا: اللہ کی قسم! میں (ان سے) ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک بچہ بھی نہ دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں وہ نہ دینے پر ان( لوگوں) سے ضرورلڑوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اللہ کی قسم! یہ اسی لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا ۔ میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔
(محمد بن عبداللہ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہمیں بتایا کہ قیس ( بن حازم) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت جریر بن عبداللہؓ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نماز سنوار کر پڑھنے، زکوٰۃ دینے اور ہر ایک مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر کی۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (محمد) بن عثمان بن عبداللہ بن موہب سے، محمد بن عثمان نے موسیٰ بن طلحہ سے، موسیٰ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا ہے؟ اسے کیا ہوا ہے؟ ( یعنی اس کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت بڑی ضرورت ہے۔ (تمہیں چاہیے کہ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائو اور نماز سنوار کر ادا کرو اور زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو اوربہز ( بن اسد) نے یوں نقل کیا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا،(کہا:) محمد بن عثمان اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا۔ موسیٰ نے حضرت ابو ایوبؓ سے، حضرت ابو ایوبؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ ) نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ محمد (بن عثمان) صحیح نام نہ ہو بلکہ عمرو (بن عثمان) ہو۔
محمد بن عبدالرحیم نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) عفان بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید بن حیان سے، یحيٰ نے ابوزُرعہ سے۔ ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایسے کام کا پتہ دیجئے کہ جب میں وہ کرلوں تو جنت میں چلا جائوں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو۔ اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور نمازِ فریضہ سنوار کر پڑھو اور مقررہ زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا: اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں اس سے زیادہ نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی خوشی ہو کہ جنتیوں میں سے کسی آدمی کو دیکھے تو وہ اِسے دیکھ لے۔ مسدد( بن مسرہد) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) سے مروی ہے۔ انہوں نے ابوحیان سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوزُرعہ نے نبی ا سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہی بتایا۔
حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابوجمرہ ( نصر بن عمران ضبعی) نے ہمیں بتایا۔ کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ( ہمارے) قبیلہ ربیعہ سے ہے۔ ہمارے اور آپؐ کے درمیان کفار مضر(روک) ہیں۔ ہم سوائے محرم مہینوں کے آپؐ کے پاس سلامتی سے نہیں پہنچ سکتے۔ پس آپؐ ہمیں ایسی بات فرمائیں کہ ہم آپؐ سے اسے سیکھ لیں اور پھر جو ہمارے پیچھے ہیں ان کو اس کی طرف دعوت دیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم کو چار باتیں کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔ اللہ پر ایمان لانا اور یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی انگلی کو کھڑا کرکے اس طرح اشارہ کیا۔ (یعنی ایک کام) اورنماز کو سنوار کر پڑھنا اور زکوٰۃ دینا اور یہ کہ جو مالِ غنیمت تمہیں حاصل ہو؛ اس کا پانچواں حصہ ادا کرنا اور میں تمہیں کدوکے تونبے اور سبز لاکھی مرتبان اور کریدی ہوئی لکڑی کے باسن اور روغنی برتن سے منع کرتا ہوں اور سلیمان ( بن حرب) اور ابونعمان نے حماد سے روایت کرتے ہوئے (یوں) کہا: اللہ پر ایمان لا نا اور گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
ابوالیمان حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب بن ابی حمزہ نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عربوں میں سے جنہوں نے انکار کرنا تھا، انکار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپؓ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں؛ اس وقت تک کہ وہ یہ اقرار کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس جس نے یہ کلمہ کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور جان بچا لی۔ سوائے اس کے کہ جہاں حقوق کا تعلق ہو اور اس کا حساب اللہ پر رہے گا۔
(ابوالیمان) حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب ( بن ابی حمزہ) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن ہرمز اَعرج نے اسے بتایاکہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) اونٹ اپنے مالک کے پاس اچھی حالت میں آئیں گے؛ جیسے وہ تھے تو اگر اس نے ان کا وہ حق جو اُن سے متعلق ہے نہ دیا ہوگا تو وہ اس کو اپنے پائوں سے روندیں گے اور بکریاں بھی اپنے مالک کے پاس اچھی حالت میں آئیں گی جیسے وہ تھیں۔ اگر اس نے ان کا وہ حق جو اُن سے متعلق ہے نہ دیا ہوگا تو وہ اپنے کُھروں سے اس کو روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی۔ آپؐ نے فرمایا: بکریوں کا حق یہ بھی ہے کہ پانی پر پہنچ کر اُنہیں دوہا جائے۔ فرمایا:تم میں سے کوئی قیامت کے دن ایسی حالت میں نہ آئے کہ بکری کو اس نے اپنی گردن پر اُٹھایا ہوا ہو اور وہ بھائیں بھائیں کر رہی ہو۔ پھر وہ پکارے: محمد! میں کہوں گا: میں تمہارے لئے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تو (پیغامِ حق) پوری طرح پہنچا دیا تھا اور نہ کوئی اپنی گردن پر اونٹ کو اُٹھائے ہوئے آئے کہ وہ بڑبڑ کر رہا ہو اور پھر وہ کہے: محمد! میں کہوں گا: میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے تو (اللہ کا پیغام) اچھی طرح پہنچا دیا تھا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہاشم بن قاسم نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوصالح روغن فروش سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن (اس کا مال) اس گنجے سانپ کی شکل میں پیش کیا جائے گا جس کی آنکھوں پر اُبھرے ہوئے داغ ہوتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن اس کے گلے کا ہار ہوگا۔ پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا۔ پھر کہے گا: میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔ اس کے بعد آپؐ نے یہ آیت پڑھی کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دیا ہو اور وہ اس میں بُخل کریں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ بُخل ان کے لئے بہتر ہے۔نہیں بلکہ وہ ان کے لئے بہت ہی بُرا ہے۔ عنقریب قیامت کے دن وہ مال جس سے متعلق انہوں نے بُخل کیا ان کے گلے کا ہار بنایا جائے گا۔
(تشریح)احمد بن شبیب بن سعید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے خالد بن اسلم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے تو ایک بدوی نے پوچھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے معنے بتائیے: وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے (سونے چاندی کو) جمع کر رکھا اور اس کی زکوٰۃ نہ دی۔ اس کے لئے ہلاکت ہے اور یہ آیت زکوٰۃ کا حکم نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے۔ جب زکوٰۃ فرض ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو مالوں کے پاک کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔