بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
اور فرمایا: سورج قیامت کے دن اتنا قریب ہوگا کہ پسینہ کان کے نصف تک پہنچ جائے گا۔ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ وہ حضرت آدمؑ سے فریاد کریں گے۔ پھر حضرت موسیٰ ؑسے۔ پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور عبداللہ (بن صالح) نے اپنی روایت میںاتنا بڑھایا۔ (کہا:) لیث نے مجھ سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابن ابی جعفر نے مجھ سے بیان کیا: پھر آپؐ سفارش کریں گے کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کیا جائے۔ آپؐ جاکر دروازے کا کنڈا تھام لیں گے۔ اُس دن اللہ تعالیٰ آپؐ کو مقامِ محمود پر کھڑا کرے گا۔ مجمع کے سب لوگ آپؐ کی تعریف کریں گے اور معلی نے کہا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ نعمان بن راشد سے مروی ہے۔ انہوں نے زہری کے بھائی عبداللہ بن مسلم سے، عبداللہ بن مسلم نے حمزہ (بن عبداللہ) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے سوال کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی ہی حدیث بیان کی۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) محمد بن زیاد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جو ایک دو لقمے کے لئے (دَربدر) مانگتا پھرے۔ بلکہ مسکین وہ ہے جو محتاج ہو اور شرمائے اور لوگوں کے پیچھے پڑ کر نہ مانگے۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اسماعیل بن عُلیَّہ نے ہم سے بیان کیا۔ خالد حذاء نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے(سعید بن عمرو) بن اشوع سے، سعید نے شعبی سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے کارپرداز نے مجھ سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جو آپؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ چنانچہ انہوں نے معاویہ کو لکھا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین باتیںناپسند فرمائی ہیں۔ بے فائدہ بات کرنا اور مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔
محمد بن غریر زہری نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عامر بن سعد نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے اپنے باپ (حضرت سعد بن ابی وقاصؓ) سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مال دیا اور میں بھی اُنہی میں بیٹھا ہوا تھا۔ (حضرت سعدؓ) کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا۔ آپؐ نے اس کو نہیں دیا اور اُن لوگوں میں سے وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اُٹھ کر گیا اور آپؐ سے راز میں بات کی۔ فلاں سے متعلق آپؐ کا کیا خیال ہے؟ اللہ کی قسم! میں تو اُسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: یا مسلم۔ حضرت سعدؓ کہتے تھے: میں تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر اُس کی نسبت جو میرا علم تھا، اُس نے مجھے بے بس کر دیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟ بخدا میں تو اُسے مومن ہی سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: یا مسلم۔ حضرت سعدؓ کہتے تھے: میں تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر جو حال اُس کا جانتا تھا؛ اُس نے مجھ پر غلبہ کیا اور میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا ہے؟ بخدا میں تو اُسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: یا مسلم۔ }تین بار یہی ہوا۔ آپؐ نے فرمایا:٭{ میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ حالانکہ دوسرا شخص اُس سے زیادہ مجھ کو پیارا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ آگ میں اوندھے منہ نہ گرایا جائے۔ اور (یعقوب نے) اپنے باپ سے، ان کے باپ نے صالح سے، صالح نے اسماعیل بن محمد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ (محمد بن سعد) سے سنا۔ وہ بھی یہی بیان کرتے تھے اور انہوںنے اپنی روایت میں یہ کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ مارا اور میری گردن اور کندھے کے درمیانی حصے کو اپنے ہاتھ میں مضبوط پکڑ لیا اور اُس کے بعد فرمایا: سعد! اِدھر آئو۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ (آخر حدیث تک بیان کیا۔) ابوعبداللہ (بخاریؒ) نے کہا: فَکُبْکِبُوْا کا لفظ جو (سورۃ الشعراء میں) آیا ہے اس کے معنی ہیں: اوندھے گرا دیئے گئے اور (سورۃ الملک) میں جو مُکِبًّا کا لفظ ہے وہ اَکَبَّ الرَّجُلُ سے ہے جبکہ اَکَبَّ کا فعل دوسرے پر واقع نہ ہو۔ (یعنی فعل لازم ہو) اور جب یہ فعل متعدی ہو تو تُو کہے گا:اللہ تعالیٰ نے اُسے اوندھے منہ گرا دیا اور میں نے اُسے اوندھے (منہ) گرایا۔ } ابو عبد اللہ نے کہا: صالح بن کیسان؛ زہری سے بڑے ہیں اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے ملے ہیں۔٭{
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے پاس گھومتا پھرے۔ ایک دولقمے اور ایک دو کھجوریں اُس کو دَربدر لے جائیں۔ بلکہ مسکین وہ ہے جو اتنا مال نہیں پاتا کہ اس کی ضرورتوں کو پورا کر دے اور نہ اُس کا حال کسی کو معلوم ہو کہ اس کو صدقہ دے اور نہ وہ اُٹھ کر لوگوں سے سوال کرتا پھرتا ہو۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ (اُنہوں نے کہا:) ہم سے اعمش نے بیان کیا، (کہا:) ابوصالح (ذکوان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے۔ پھر صبح کو- میرا خیال ہے یوں فرمایا- پہاڑ کی طرف نکل جائے اور لکڑیاں اکٹھی کرے اور اُن کو بیچے اور کھائے اور صدقہ بھی کرے۔ اُس کے لئے اِس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگے۔
(تشریح)سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن یحيٰ سے، عمرو نے عباس ساعدی سے، ساعدی نے حضرت ابوحمیدساعدیؓ سے روایت کی کہ انہوںنے کہا: غزوئہ تبوک میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے۔ جب آپؐ وادیٔ قریٰ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت اپنے باغ میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اندازہ لگائو کتنی کھجور ہوگی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق کا اندازہ لگایا اور آپؐ نے اُس عورت سے فرمایا: شمار کرنا جو کھجور اس باغ سے نکلے۔ جب ہم تبوک میں آئے تو آپؐ نے فرمایا: ہوشیار رہنا۔ آج رات سخت آندھی چلے گی اور کوئی کھڑا نہ رہے اور جس کے ساتھ اونٹ ہو وہ اُس کے گھٹنے باندھ دے۔ چنانچہ ہم نے اُن کو باندھ دیا اور زور کی آندھی چلی۔ ایک شخص کھڑا تھا تو آندھی نے اُس کو طَی کے پہاڑوں پر پھینک دیا اور اَیْلَہ کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر تحفہ دی اور آپؐ کو ایک اَوڑھنے کی چادر پیش کی۔ آپؐ نے اس کے ملک کی حکومت اس کے نام لکھ دی۔ جب آپؐ وادیٔ قریٰ میں آئے تو آپؐ نے اس عورت سے پوچھا: تیرے باغ نے کتنا پھل دیا ہے؟ اس نے کہا: دس وسق۔ وہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ کیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مدینہ جلدی پہنچنا ہے۔ اس لئے جو تم میں سے میرے ساتھ جلدی جانا چاہے جلدی چلے۔ جب (سہل) بن بکار نے ایک لفظ بولا جس کے معنی ہیں؛ مدینہ پر آجھانکے تو آپؐ نے فرمایا: یہ طابہ ہے۔ جب آپؐ نے اُحد کو دیکھا تو آپؐ نے فرمایا: یہ پہاڑ ہے جس کو ہم سے محبت ہے اور ہم کو اس سے محبت ہے۔ (فرمایا:) میں تمہیں انصار کے بہترین گھر نہ بتائوں؟ تو صحابہ نے کہا: ضرور۔ آپؐ نے فرمایا: بنی نجار کے گھر۔ پھر فرمایا: بنی عبدالاشہل کے گھر۔ پھر فرمایا: بنی ساعدہ یا بنی حارث بن خزرج کے گھر اور انصار کے سارے گھروں میں ہی ہے یعنی بھلائی۔
اور سلیمان بن بلال نے کہا: عمرو نے مجھ سے بیان کیا۔ پھر بنی حارث (بن خزرج) کے گھر، پھر بنی ساعدہ کے گھر۔ اور سلیمان نے کہا: سعد بن سعید سے مروی ہے۔ انہوں نے عمارہ بن غزیہ سے، عمارہ نے عباس (بن سہل بن سعد الساعدی) سے، عباس نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: اُحد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ ابوعبداللہ (بخاریؒ) نے کہا: جس باغ کے اردگرد چار دیواری ہو اُسے (عربی میں) حَدِیقہ کہتے ہیں اور جس کی چار دیواری نہ ہو اُسے حَدِیقہ نہیں کہتے۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یونس بن یزید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (ابن شہاب) زُہری سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ (بن عمر) سے، سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جسے آسمان اور چشمے پانی دیں یا جو خود بخود سیراب ہو۔ اس میں (زکوٰۃ) دسواں حصہ ہوگی اور جو کنوئیں سے پانی نکال نکال کر سینچی جائے، اس میں بیسواں حصہ۔ ابوعبداللہ (بخاریؒ) نے کہا: یہ (حدیث) پہلی (حدیث) کی تشریح ہے۔ کیونکہ پہلی (یعنی حضرت ابوسعید خدریؓ کی حدیث) میں زکوٰۃ کی مقدار مقرر نہیں کی گئی۔ اس (حدیث) سے مراد (سالم بن عبداللہ) ابن عمرؓ کی حدیث ہے کہ جس کھیتی کو آسمان پانی پلائے اس میں دسواں حصہ ہے اور اس میں کھول کر بیان کیا گیا ہے اور مقدار مقرر کی گئی ہے اور زیادہ (تفصیل) مقبول ہے اور جس بات میں تشریح ہو وہ مبہم بات کا فیصلہ کر دیتی ہے، جبکہ اس کو ثقہ روایت کریں۔ جیسا کہ حضرت فضل بن عباسؓ کی روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی اور حضرت بلالؓ نے کہا: آپؐ نے پڑھی۔ تو حضرت بلالؓ کی بات قبول کی گئی اور حضرت فضلؓ کی بات چھوڑ دی گئی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ کہا: محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو چیز پانچ وسق سے کم ہو، اُس میں صدقہ (زکوٰۃ) نہیں اور نہ پانچ مہار اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں صدقہ ہے۔ ابوعبداللہ (بخاریؒ) نے کہا: یہ پہلے (قول) کی تفسیر ہے۔ جب آپؐ نے فرمایا کہ پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔ }کیونکہ راوی نے کھول کر بیان نہیں کیا٭{ اور (قاعدہ یہ ہے کہ) ہمیشہ علم میں اُن کے قول کو اختیار کیا جاتا ہے کہ جو اہل ثقہ زائد بات بتائیں یا اس کی شرح کریں۔
(تشریح)