بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
اسماعیل بن ابی اویس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے جبکہ آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوں گی۔ جنہیں ساتھ لئے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں پر اُن کے پیچھے پیچھے پھرے گا۔ وہ اپنے دین کو بچاتے ہوئے فتنوں سے بھاگے گا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کفر کی چوٹی مشرق کی طرف ہے اور فخر اور تکبر گھوڑے والوں، اونٹوں والوں اور اُجڈ زمینداروں میں ہے اور طمانیت، سکون اور دھیما پن بکری والوں میں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: قیس (بن ابی حازم) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عقبہ بن عمرو ابی مسعودؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ایمان یمن کا ہے، اس طرف دیکھو۔ سن رکھو ہر طرح کی بے رحمی اور سنگدلی ان گنواروں میں ہے جو اونٹوں کی دموں کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہاں جہاں سے شیطان کے سینگ نکلیں گے۔ یعنی ربیعہ اور مضر میں۔
قُتَیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے اَعرج سے، اَعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ کیونکہ وہ فرشتہ دیکھتا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔ کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ رَوح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: عطاء نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رات چھا جائے یا (فرمایا:) جب تمہیں شام ہو جائے تو تم اپنے بچوں کو (اِدھر اُدھر پھرنے سے) روک دو۔ کیونکہ شیطان اس وقت پھیل جاتے ہیں اور جب کچھ رات گزر جائے تو پھر انہیں جانے دو اور دروازے بند کر لیا کرو اور اللہ کا نام لو۔ کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا۔ ابن جریج نے کہا: اور عمرو بن دینار نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے یہی سنا جو عطاء نے مجھے بتایا اور انہوں نے یہ بیان نہیں کیا: اور اللہ کا نام لو۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وُہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد (حذائ) سے، خالد نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک قوم گم ہوگئی۔ پتہ نہیں کہاں گئی اور میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ وہ چوہے ہی ہیں۔ اگر ان کے سامنے اونٹوں کا دودھ رکھا جائے تو اُسے نہ پئیں، اگر بکریوں کا دودھ رکھا جائے تو پی لیں۔ (حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے:) میں نے یہ حدیث حضرت کعبؓ سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم نے خود نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے مجھ سے بار بار یہی پوچھا۔ میں نے کہا: اگر اُن سے نہیں تو کیا میں تورات پڑھنا جانتا ہوں؟
سعید بن عُفَیر نے ہمیں بتایا۔ ابن وہب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: نبی ﷺ نے گرگٹ کو چھوٹا فاسق قرار دیا ہے۔ اور میں نے آپؐ سے نہیں سنا کہ آپؐ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم دیا ہو۔ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا خیال تھا کہ نبی ﷺ نے اس کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔ عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے ہمیں بتایا۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ امّ شریک نے ان کو بتایا: نبی ﷺ نے گرگٹوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو دھاری والے سانپ کو مار ڈالو۔ کیونکہ وہ آنکھ پر ہی جھپٹا مارتا ہے اور حمل گرا دیتا ہے۔ ابو اسامہ کی طرح حماد بن سلمہ نے بھی یہی روایت کی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے باپ (عروہ) نے مجھے بتایا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ نبی ﷺ نے دم کٹے سانپ کے مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا: وہ بینائی کو صدمہ پہنچاتا ہے اور حمل ضائع کر دیتا ہے۔