بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ لیث بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو پھر صبح و شام اس کا ٹھکانہ اس کے سامنے لا کر اس کو دکھلایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتیوں میں سے ہو تو جنت والوں میں سے اور اگر دوزخیوں میں سے ہو تو دوزخ والوں میں۔
ابوالولید نے ہمیں بتایا کہ سلم بن زریر نے ہم سے بیان کیا کہ ابورجاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت عمران بن حصینؓ سے، حضرت عمرانؓ نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو کیا ہے کہ جنت میں اکثر غریب ہی ہیں جو میں نے دیکھے اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو دوزخیوں میں اکثر عورتیں ہی میں نے دیکھیں۔
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا، کہا: عُقَیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک بار ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ایک محل کے پاس وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا: عمر بن خطابؓ کا۔ ان کی غیرت کا مجھے خیال آیا تو میں پیٹھ موڑ کر واپس چلا آیا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ روئے اور کہا: یا رسول اللہ! کیا میں آپؐ سے غیرت کروں گا۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے ابوعمران جونی سے سنا۔ انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اشعری سے، اشعری نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (جنت کا) خیمہ ایک خول دار موتی ہوگا جس کی بلندی اوپر سے تیس میل تک ہوگی۔ اس کے ہر کونے میں مومن کے اہل و عیال ہوں گے۔ جنہیں دوسرے نہیں دیکھیں گے۔ ابو عبدالصمد اور حارث بن عبید نے بھی ابوعمران سے یہ روایت کی۔ اس میں ساٹھ میل ہیں (بجائے تیس میل کے۔)
حمیدی نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اَعرج سے، اَعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: کوئی نفس بھی نہیں جانتا کہ آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک ان کے لئے چھپا کر رکھی گئی ہے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام بن منبّہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا، ان کی شکل چودھویں رات کے چاند جیسی ہوگی۔ اس میں نہ وہ تھوکیں گے، نہ رینٹھ پھینکیں گے، نہ پاخانہ پھریں گے۔ اس میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے۔ ان کی کنگھیاں بھی سونے چاندی کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیاں ایسی ہوں گی کہ ان سے عود کی خوشبو مہک رہی ہوگی اور ان کے پسینہ سے بھی مُشک کی خوشبو آئے گی اور ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی۔ ایسی خوبصورت نازک کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت میں سے دکھائی دے گا۔ نہ ان کے درمیان کوئی اختلاف ہوگا اور نہ ایک دوسرے سے کاوش۔ سب ایک دل ہوں گے۔ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اَعرج سے، اَعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوگا اور وہ جو اُن کے بعد ہوں گے وہ نہایت چمکدار ستارہ کی طرح ہوں گے۔ اُن کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی وضع پر ہوں گے۔ اُن کے درمیان نہ کوئی اختلاف ہوگا اور نہ ایک دوسرے سے کوئی کاوش ہوگی۔ ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی۔ ہر بیوی ایسی خوبصورت نازنین ہوگی کہ اس کی پنڈلی کا گودا پنڈلی کے گوشت میں سے دکھائی دے گا۔ صبح و شام وہ اللہ کی تسبیح کریں گے۔ نہ وہ بیمار ہوں گے اور نہ رینٹھ پھینکیں گے اور نہ وہ تھوکیں گے ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے اور اُن کی کنگھیاں بھی سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن الوّہ ہوگا۔ ابوالیمان نے کہا: الوّہ کے معنی ہیں عود۔ اور اُن کا پسینہ مُشک کی خوشبو دے گا۔ اور مجاہد نے کہا: اِبْکَار کے معنی ہیں صبح سویرے اور عَشِيِّ سورج ڈھلنے سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو کہتے ہیں۔
محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، حضرت سہلؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا سات سو ہزار (یعنی سات لاکھ) جنت میں داخل ہوں گے۔ جب تک ان میں سے پچھلے داخل نہ ہو لیں گے پہلے داخل نہ ہوں گے۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا کہ یونس بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کو باریک ریشمی چوغہ ہدیہ دیا گیا اور آپؐ ریشمی کپڑے پہننے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ لوگوں نے ریشمی چوغہ کی عمدگی کو دیکھ کر تعجب کیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ اچھے ہوں گے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ سفیان (بن عیینہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابواسحاق نے مجھ سے بیان کیا۔ ابواسحاق نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ کے پاس ریشم کا ایک کپڑا لایا گیا۔ صحابہ اس کی عمدگی اور نرمی سے تعجب کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں سعد بن معاذ کے رومال تو اس سے بڑھ کر ہوں گے۔