بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 24 hadith
حسین بن حریث نے ہم سے بیان کیا کہ فضل (بن موسیٰ) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے جُعَید سے، جُعَید نے عائشہ جو حضرت سعدؓ کی بیٹی ہیں؛ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی مدینہ والوں سے دھوکا فریب نہیں کرے گا؛ مگر وہ اسی طرح پانی ہوجائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا (ابراہیم) سے، ان کے دادا نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوںنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: مسیح دجال کا رعب مدینہ میں داخل نہیں ہوگا۔ اس دن اس کے سات دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دوفرشتے مقرر ہونگے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوںنے نعیم بن عبداللہ مجمر سے، نعیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کے دروازوں پر فرشتے ہوں گے۔ طاعون ا س میں داخل نہ ہوگی اور نہ دجال۔
قُتَیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواریں دیکھتے تو اپنی اونٹنی کو تیز چلاتے اور اگر کسی اور جانور پر ہوتے تو اسے بھی دوڑاتے؛ بوجہ مدینہ کی محبت کے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عروہ نے مجھے خبر دی۔ (کہا:) میں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے محلوں میں سے ایک محل پر سے جھانکا اور فرمایا: کیا تم بھی دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں۔ میں تو تمہارے گھروں میں فتنوں کے برپا ہونے کی جگہیں دیکھ رہا ہوں؛ اس کثرت سے جیسے بارش کے قطرے۔ معمر اور سلیمان بن کثیر نے بھی زُہری سے سفیان کی طرح بیان کیا۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ ولید (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔ ابوعمرو (او زاعی) نے ہم سے بیان کیا۔ اسحق (بن عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کوئی بھی شہر نہیں مگر دجال عنقریب اسے پامال کرے گا؛ سوائے مکہ اور مدینہ کے۔ اس کے راستوں میں سے کوئی راستہ بھی ایسا نہیں ہوگا مگر اس پر صف بستہ فرشتے ہوں گے؛ جو اس کی حفاظت کریں گے۔ پھر مدینہ تین بار اپنے باشندوں سے لرزے گا تو اللہ تعالیٰ ہر کافرومنافق کو (جنگ کے لئے) نکالے گا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبردی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کی نسبت ہمیں ایک لمبی بات بتائی۔ اس میں یہ بھی فرمایا کہ دجال ایک شور زمین میں آئے گا جو مدینہ کی شور زمینوں میں سے ہوگی۔ جبکہ مدینہ کے دروازوں میں گھسنا اس پر حرام ہوگا۔اس دن ایک شخص جو لوگوں میں سے نہایت نیک ہوگا، اس کی طرف نکلے گا۔ آپؐ نے خَیْر النَّاس فرمایا، یا مِنْ خَیْرِ النَّاس۔ تو وہ کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی متعلق بتایا تھا۔ دجال کہے گا: بتا تو سہی اگر میں اس شخص کو مارڈالوں پھر اسے زندہ کر دوں تو کیاتم اس امر میں شک کرو گے؟ لوگ کہیں گے: نہیں۔چنانچہ وہ اسے قتل کردے گا۔ پھر اس کو زندہ کرے گا تو وہ (نیک شخص) جب اسے دجال زندہ کردے گا، کہے گا: بخدا! میں کبھی (تیرے متعلق) اس سے بڑھ کر علیٰ بصیرت نہیں ہوا جتنا کہ آج۔ تو دجال دل میں کہے گا: میں اسے مار ڈالوں مگر مجھے اس پر قدرت نہیں ہوگی۔
(تشریح)عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، ابن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام پر آپؐ سے بیعت کی۔ دوسرے دن وہ آیا۔ اسے بخار تھا تو کہنے لگا: مجھے بیعت سے آزاد کردیں۔ آپؐنے انکار کیا۔ تین بار ایسا ہی کہا۔پھر آپؐ نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنا میل کچیل نکال کر پھینک دیتی ہے۔ اس کا خالص مال کندن ہوجاتا ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے عدی بن ثابت سے، عدی نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ وہ کہتے تھے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد کی جنگ کے لئے نکلے تو آپؐ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ لوٹ گئے تو ایک فریق نے کہا: ہم انہیں قتل کردیں گے اور ایک فریق نے کہا کہ ہم انہیں قتل نہیں کریں گے تو یہ آیت اُتری۔ یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے تم منافقوں کے بارہ میں دو گروہ ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ (یعنی مدینہ ایسے) آدمیوں کو اس طرح دور کرتا ہے؛ جیسے آگ لوہے کا میل کچیل دور کرتی ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ وہب بن جریر نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یونس سے میں نے سنا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: اے میرے اللہ! مدینہ میں دُگنی برکت دے، اس سے جو تو نے مکہ کو دی ہے۔ عثمان بن عمر نے بھی یونس سے انہی کی طرح بیان کیا۔