بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 24 hadith
(محمد) بن سلام (بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ (مروان بن معاویہ) فزاری نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے حمید طویلسے، حمید نے حضرت انس ص سے روایت کی۔کہا: بنوسلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنی جگہیں چھوڑ کر مدینہ کے قریب آجائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ مدینہ کے کسی طرف جگہ خالی رہے اور فرمایا: اے بنی سلمہ ! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے۔ پھر وہ وہیں ٹھہرے رہے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوںنے یحيٰ سے، یحيٰ نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: خبیب بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حفص بن عاصم سے مروی ہے۔ انہوںنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر حوض پر ہے۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوںنے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ کو بخار ہوگیا تو حضرت ابوبکرؓ جب ان کو بخار ہوتا تو یہ شعر پڑھتے:- ہر شخص جب اپنے گھر میں صبح کو اُٹھتا ہے تو اسے صباح الخیر کہا جاتا ہے؛ بحالیکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے نزدیک تر ہوتی ہے۔ اور حضرت بلالؓ جب اُن کا بخار اُترجاتا تو بلند آواز سے رو کر یہ شعر پڑھتے:- کاش مجھے معلوم ہو! آیا میں کوئی رات وادی (مکہ) میں بسر کروں گا اور میرے ارد گرد اذخر اور جلیل (گھاس پات) ہوں اور کیا میں کسی دن مجنّہ پہنچ کر اس کا پانی پیوں گا اور کیا شامہ اور طفیل پہاڑ میرے سامنے ہوں گے؟ حضرت بلالؓ کہتے: اے اللہ! شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیّہ بن خلف پر لعنت ہو۔ کیونکہ انہوں نے ہمیں ہماری سرزمین سے وباء والی زمین کی طرف نکال دیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! مدینہ کو ہمیں ایسا ہی پیارا بنا دے جیسا کہ ہمیں مکہ پیارا ہے یا اس سے بڑھ کر۔ اے اللہ! ہمارے صاع میں اور ہمارے مُدّ میں برکت دے اور مدینہ کو ہمارے لئے صحت بخش مقام بنا اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کردے۔ (حضرت عائشہؓ) کہتی تھیں: ہم مدینہ آئے اوروہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وباء زدہ مقام تھا۔ انہوں نے کہا: بطحان نالے میں تھوڑا سا پانی بہتا تھا۔ وہ پانی بھی بدمزہ بودار۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے خالد بن یزید سے، خالد نے سعیدبن ابی ہلال سے، سعید نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عمر ص سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب کر اور تیرے رسول کے شہر میں میری موت ہو۔ (زید) بن زُرَیع نے روح بن قاسم سے نقل کیا۔ انہوںنے زید بن اسلم سے، زید نے اپنی ماں سے، ان کی ماں نے حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوںنے کہا: میں نے حضرت عمرؓ سے اسی طرح سنا۔ اور ہشام نے زید سے نقل کی۔ زید نے اپنے باپ سے، انہوںنے حضرت حفصہؓ سے روایت کی کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔
(تشریح)