بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سوقہ سے مروی ہے۔ انہوں نے منذر سے، منذر نے (محمد) بن حنفیہ سے روایت کی، کہا کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے والے ہوتے تو وہ اس دن ان کے خلاف کہتے جس دن آپؓ کے پاس کچھ لوگ آئے اور حضرت عثمانؓ کے کارکنوں کا شکوہ کرنے لگے تو حضرت علیؓ نے مجھ سے کہا: حضرت عثمانؓ کے پاس جاؤ اور انہیں اطلاع دو کہ یہ زکوٰۃ کا مال رسول اللہ ﷺ کی طرف سے صدقہ ہے۔ آپؐ کارکنوں سے کہیں کہ وہ اس کے بارے میں آپؐ کے عمل کے مطابق عمل کریں۔ چنانچہ میں یہ اطلاع لے کر ان کے پاس آیا۔ تو حضرت عثمانؓ نے کہا: ہمیں اس اطلاع کی ضرورت نہیں (کیونکہ ہمارے پاس پروانہ موجود ہے) تو میں یہ پیغام لے کر حضرت علیؓ کے پاس آیا اور ان کو اطلاع دی تو حضرت علیؓ نے کہا کہ یہ اطلاع نامہ وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے لیا ہے۔
حمیدی نے کہا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سوقہ نے ہمیں بتایا، کہا کہ میں نے منذر ثوری کو ابن حنفیہ سے روایت کرتے سنا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بھیجا اور (کہا:) یہ تحریر لو اور حضرت عثمانؓ کے پاس لے جائو۔ کیونکہ اس میں زکوٰۃ کے بارے میں نبی ﷺ کا حکم موجود ہے۔
(تشریح)بدل بن محبر نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حکم نے بتایا کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) حضرت علیؓ نے ہم سے بیان کیا کہ فاطمہ علیہ السلام نے اس تکلیف کی شکایت کی جو چکی میں آٹا پیسنے کی وجہ سے ان کو ہوئی تھی تو فاطمہؓ کو خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے ہیں اور (فاطمہؓ) آپؐ کے پاس ایک خادم مانگنے کے لئے آئیں تو آپؐ سے ملنے کا اتفاق نہ ہوا۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے ذکر کیا۔ نبی ﷺ آئے تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ سے فاطمہؓ کی تکلیف کا ذکر کیا۔ یہ سن کر آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اس وقت اپنے بستروں میں داخل ہو چکے تھے۔ ہم اُٹھنے لگے تو آپؐ نے فرمایا: اپنی جگہ پر ہی رہو (آپؐ بستر پر بیٹھ گئے) اور میں نے آپؐ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو ایسی بات نہ بتائوں جو اس سے بہتر ہے جس کا تم دونوں نے مطالبہ کیا ہے۔ جب تم اپنے بستروں میں (سونے کے لیے) لیٹو تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو اور تینتیس بار الحمدللہ اور تینتیس بار سبحان اللہ۔ یہ تمہارے لئے یقینا اس بات سے بہتر ہے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان، منصور اور قتادہ سے مروی ہے۔ انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا۔ وہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: ہم انصاریوں کے ہاں ایک شخص کے لڑکا پیدا ہوا تو اس نے چاہا کہ اس کا نام محمد رکھے۔ شعبہ نے اپنی اس حدیث میں کہا جو منصور سے روایت ہے کہ انصاری نے کہا: میں نے اس بچے کو اپنی گردن پر اُٹھایا اور اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اور سلیمان کی حدیث میں یوں ہے کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا تو آپؐ نے فرمایا: میرے نام پر نام تو رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ مجھے قاسم بنایا گیا ہے۔ میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں اور حصین نے کہا: میں بطور قاسم مبعوث کیا گیا ہوں تا کہ تمہارے درمیان تقسیم کروں۔ عمرو (بن مندوب) نے کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی کہ قتادہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے سالم سے سنا کہ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا تو نبی ﷺ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔
محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش سے مروی ہے۔ انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا تو انصار نے کہا: ہم تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور نہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی کریں گے۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔ میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے اور انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور نہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی کریں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انصار نے اچھا کیا۔ میرے نام سے نام رکھو۔ لیکن میری کنیت سے کنیت نہ رکھو۔ کیونکہ میں تو قاسم ہوں۔
حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یونس سے مروی ہے۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے حُمَید بن عبدالرحمن سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت معاویہؓ سے سنا کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی اللہ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کے بارے میں سمجھ دے دیتا ہے اور اللہ دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں۔ یہ امت ہمیشہ اپنے مخالفوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے جبکہ وہ پھر غالب ہوں۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح نے ہمیں بتایا (کہا:) ہلال نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں نہیں دیتا اور نہ تم سے روکتا ہوں۔ میں تو قاسم ہوں۔ وہیں دیتا ہوں جہاں مجھے حکم ہے۔
عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن ابی ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوالاسود نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی عیاش سے مروی ہے اور ان کا نام نعمان تھا۔ انہوں نے خولہ (بنت قیس) انصاریہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں بلا ضرورت دخل دیتے اور بے جا خرچ کرتے ہیں۔ انہیں قیامت کے روز آگ کی سزا ہوگی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا (کہا) حصین نے ہم سے بیان کیا کہ عامر (شعبی) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ سے مروی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں پر خیروبرکت کی گرہ بندھی ہوئی ہے۔ روزِ قیامت تک اجر بھی ملتا رہے گا اور غنیمت بھی حاصل ہوگی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ (کہا) ابوالزناد نے ہمیں بتایا کہ اَعرج سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسریٰ (شاہِ ایران) جب ہلاک ہوگا اس کے بعد اور کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر (شاہِ روم) ہلاک ہوگا اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔ اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اللہ کی راہ میں ان دونوں کے خزانے خرچ کرو گے۔