بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
خالد بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحصین سے، ابوحصین نے ذکوان (ابوصالح) سے، ذکوان نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: (حضرت جبریلؑ) نبی ﷺ کے ساتھ ہر سال ایک دفعہ قرآن کا دَور کیا کرتے تھے۔ جس سال آپؐ نے وفات پائی آپؐ کے ساتھ انہوں نے دو دفعہ دَور کیا اور ہر سال آپؐ دس دن اعتکاف بیٹھا کرتے تھے مگر جس سال آپؐ نے وفات پائی اس سال آپؐ بیس (۲۰) دن اعتکاف بیٹھے۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ (بن عاص) نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ذکر کیا اور کہا: میں ان سے ہمیشہ محبت رکھتا ہوں۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ فرماتے تھے: چار آدمیوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعودؓ، سالم (مولیٰ ابوحذیفہؓ)، معاذ (بن جبلؓ) اور اُبَيّ بن کعبؓ۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ شقیق بن سلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہم سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کے منہ سے ستر سے کچھ اوپر سورتیں سیکھی ہیں۔ اللہ کی قسم ! نبی ﷺ کے صحابہ کو بخوبی علم ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ان میں سے کتاب اللہ کو سب سے زیادہ جانتے ہیں اور میں ان سے افضل نہیں ہوں۔ شقیق نے کہا: میں مختلف حلقوں میں بیٹھا جو لوگ باتیں کرتے تھے، سنتا تھا۔ میں نے کسی معترض کو نہیں سنا کہ وہ حضرت ابن مسعودؓ کی اس بات کے خلاف کہتا ہو۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حمص میں تھے وہاں حضرت ابن مسعودؓ نے سورۃ یوسف پڑھی۔ ایک شخص نے کہا: یہ سورۃ اس طرح نازل نہیں کی گئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا: میں نے یہ سورۃ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پڑھی تھی اور آپؐ نے فرمایا: خوب پڑھی اور حضرت ابن مسعودؓ نے اس (شخص) سے شراب کی بو محسوس کی تو کہا: تم دو دو باتیں کرتے ہو۔ کتاب اللہ کو جھٹلاتے ہو اور شراب پیتے ہو۔ اس لئے انہوں نے اس کو حد لگائی۔
عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مسلم (بن صبیح) سے، مسلم نے مسروق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ میں سے کوئی سورۃ نازل نہیں کی گئی جس کو میں نہ جانتا ہوں کہ کہاں نازل کی گئی اور نہ کتاب اللہ میں سے کوئی ایسی آیت نازل کی گئی ہے جسے میں نہ جانتا ہوں کہ کس کے متعلق نازل کی گئی اور اگر میں کسی کو جانتا کہ وہ مجھ سے بڑھ کر کتاب اللہ کو جانتا ہے اور اونٹ اس کے پاس پہنچا سکتے تو میں ضرور ہی سوار ہو کر اس کے پاس پہنچتا۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ھمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی ﷺ کے زمانہ میں کسی نے قرآن سارے کا سارا یاد کیا۔ انہوں نے کہا: چار شخصوں نے وہ سبھی انصار میں سے تھے۔ حضرت اُبَيّ بن کعبؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت ابوزیدؓ (سعد بن عبید)۔ حفص بن عمر کی طرح اس حدیث کو فضل (بن موسیٰ) نے بھی روایت کیا ہے۔ انہوں نے حسین بن واقد سے، حسین نے ثمامہ سے، ثمامہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔
معلّیٰ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مثنیٰ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا) کہ مجھے ثابت بنانی اور ثمامہ نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ وفات پا گئے اور اس وقت تک سوائے چار شخصوں کے سارا قرآن کسی نے یاد نہیں کیا تھا۔ ابودرداءؓ، معاذ بن جبلؓ، زید بن ثابتؓ اور ابوزیدؓ۔ حضرت انسؓ نے کہا: اور ابوزیدؓ کے ہم وارث ہوئے تھے۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے حبیب بن ابی ثابت سے، حبیب نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ اُبَيّؓ ہم میں سب سے زیادہ قاری ہیں اور ہم اُبَيّ کی قراءت کی غلطی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اُبَيّ کہتے رہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے منہ سے قرآن سیکھا ہے، میں کسی اور وجہ سے اس کو نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا یعنی ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا کہ بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی لاتے ہیں۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: خبیب بن عبد الرحمٰن نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے، حفص نے ابوسعید بن معلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی ﷺ نے مجھے بلایا۔ میں نے آپؐ کو جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا: اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ یعنی اللہ اور رسول کی مانو جب وہ تمہیں بلائیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: سنو! مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں جو قرآن میں سب سے بڑی سورة ہے بتاؤں گا۔ آپؐ نے میرا ہاتھ پکڑا جب ہم باہر جانے لگے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ نے تو فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآن میں سب سے بڑی سورة بتاؤں گا۔ آپؐ نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ وہب (بن جریر) نے ہمیں بتایا کہ ہشام (بن حسان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے معبد سے، معبد نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں تھے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ اتنے میں ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹا ہے اور ہمارے مرد کہیں گئے ہوئے ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ تو ایک شخص اس کے ساتھ اٹھ کر چلا۔ ہم خیال نہیں کرتے تھے کہ اسے بھی کوئی دم آتا ہے۔ چنانچہ اس نے اس پر پھونکا وہ اچھا ہو گیا اور اس سردار نے اس کو ۳۰ بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ بھی پلوایا۔ جب وہ شخص لوٹا ہم نے اس سے پوچھا: کیا تم کوئی دَم اچھی طرح کر سکتے تھے؟ کیا تم جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں نے تو صرف سورۂ فاتحہ پڑھ کر پھونک دیا تھا۔ ہم نے کہا: (اپنی طرف سے) کچھ نہ کہو، جب تک کہ ہم نبیﷺ کے پاس پہنچ نہ جائیں یا کہا: جب تک ہم نبیﷺ سے پوچھ نہ لیں۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے کیا پتہ تھا کہ وہ بھی کوئی دم ہے۔ ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی ایک حصہ رکھو۔ ابومعمر نے (اپنی سند میں) یوں کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے کہا کہ ہمیں ہشام (بن حسان) نے بتایا کہ محمد بن سیرین نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں معبد بن سیرین نے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے یہی روایت بیان کی۔
(تشریح)