بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
ابن شہاب نے کہا اور مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے بتایا۔ انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: جب ہم نے مصحف کو نقل کیا تو مجھے سورۃ الاحزاب میں سے ایک آیت نہ ملی جو میں رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے سنا کرتا تھا۔ ہم نے اس کو ڈھونڈا، آخر ہمیں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاریؓ کے پاس وہ آیت ملی یعنی مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ یعنی مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اُسے سچا کرکے دکھایا۔ اس لئے ہم نے مصحف میں جس سورۃ میں وہ تھی اس میں شامل کر دی۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابن سباق نے کہا: حضرت زید بن ثابتؓ کہتے تھے: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ فرمایا: تم رسول اللہ ﷺ کے لئے وحی لکھا کرتے تھے اس لئے اب قرآن کی جہاں جہاں ہو تلاش کرو۔ چنانچہ میں نے تلاش کی۔ یہاں تک کہ سورۃ توبہ کی آخری دو آیتیں حضرت ابو خزیمہ انصاریؓ کے پاس پائیں۔ ان کے سوا کسی کے پاس بھی میں نے ان کو نہ پایا۔ (وہ یہ ہیں:) لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ …
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براءؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ تو نبی ﷺ نے فرمایا: میرے پاس زیدؓ کو بلاؤ اور وہ تختی اور دوات اور کندھے کی ہڈی یا فرمایا: کندھے کی ہڈی اور دوات لے کر آئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: لکھو لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ اور نبی ﷺ کی پشت کے پیچھے حضرت عمرو بن امّ مکتومؓ جو نابینا تھے، بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔ میں ایک نابینا شخص ہوں تو پھر اس وقت یہ آیت نازل ہوئی لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (النساء: ۹۶)
(تشریح)سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیث (بن سعد) نے مجھے بتایا کہ عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھ سے عبید اللہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ (حضرت عبد اللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے (قرآن) ایک ہی لہجے کے مطابق پڑھایا۔ میں ان سے بار بار کہتا رہا اور ان سے ایک (لہجہ) سے زیادہ (پر پڑھنے) کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ مجھے اس سے زیادہ (لہجوں کے مطابق) پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سات محاوروں پر پہنچ کر بس کی۔
سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیث (بن سعد) نے مجھے بتایا کہ عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسور بن مخرمہؓ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری دونوں نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطابؓ سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے ہشام بن حکیمؓ کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورۃ فرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قراءت کو غور سے سنتا رہا تو کیا دیکھا کہ وہ بہت سی ایسی طرزوں پر پڑھ رہے ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں۔ قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر لپکتا مگر میں اس وقت تک صبر کئے رہا کہ انہوں نے سلام پھیرا۔ میں نے ان کی چادر سینے سے پکڑ لی اور میں نے کہا: کس نے تمہیں یہ سورۃ پڑھائی ہے جو میں نے تم کو پڑھتے ہوئے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے یہ سورۃ مجھے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم نے غلط کہا ہے۔ مجھے بھی رسول اللہ ﷺ نے یہ سورۃ پڑھائی ہے مگر اس طرز پر نہیں جو تم نے پڑھی ہے۔ میں ان کو کھینچتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گیا اور میں نے کہا: میں نے ان کو سورۃ فرقان ایسی طرزوں پر پڑھتے سنا ہے جو آپؐ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ (پھر آپؐ نے فرمایا) ہشامؓ پڑھو۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ کے سامنے اسی قراءت سے پڑھا جو میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح یہ نازل کی گئی۔ پھر آپؐ نے (مجھ سے) فرمایا: عمرؓ پڑھو۔ تو میں نے وہ قراءت پڑھی جو آپؐ نے مجھے پڑھائی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح نازل کی گئی۔ دیکھو! یہ قرآن سات لہجوں کے مطابق اتارا گیا ہے جو بھی ان میں سے آسان ہو وہ پڑھو۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا؛ اور یوسف بن ماہک نے بھی مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ امّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ اُن کے پاس ایک عراقی آیا اور اس نے پوچھا: کونسا کفن بہتر ہوتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم پر افسوس اور تجھے کیا نقصان دے گا (جو بھی ہو؟) اُس نے کہا: ام المؤمنین! مجھے اپنا مصحف دکھائیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کیوں؟ اس نے کہا: تا کہ میں اُس کے مطابق قرآن کو ترتیب دے دوں کیونکہ وہ بغیر ترتیب کے ہی پڑھا جاتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اور تمہیں اس سے کیا نقصان جو حصہ اس میں سے پہلے پڑھ لے؟ کیونکہ پہلی سورۃ جو قرآن (کی سورتوں میں) سے نازل ہوئی وہ مفصل کی ایک سورۃ تھی جس میں جنت اور آگ کا ذکر ہے۔ جب لوگوں نے اسلام کی طرف رجوع کیا حلال اور حرام کے احکام نازل ہوئے اگر پہلے یہی نازل ہوتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ ضرور کہتے ہم تو شراب کبھی نہیں چھوڑیں گے اور اگر یہی پہلے اترتا کہ زنا نہ کرو تو وہ کہتے ہم تو زنا کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ محمد ﷺ پر مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ اور میں اس وقت ابھی چھوٹی بچی ہی تھی جو کھیلا کرتی تھی اور سورۃ البقرہ اور سورۃ النساء اس وقت نازل ہوئیں جب میں آپؐ کے پاس تھی۔ یوسف بن ماہک کہتے تھے: پھر حضرت عائشہؓ نے اس کے لیے مصحف نکالا اور اس کو ہر سورۃ کی آیتیں لکھوا دیں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے (حضرت عبد اللہ) بن مسعودؓ سے سنا۔ سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف، سورۃ مریم، سورۃ طٰہٰ اور سورۃ الانبیاء کے متعلق وہ کہتے تھے کہ وہ پہلی اعلیٰ درجے کی فصیح سورتوں میں سے ہیں اور وہ میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: نبی ﷺ کے (مدینہ) آنے سے پہلے میں نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى سیکھ لی تھی۔
عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حمزہ (محمد بن میمون) سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہؓ (بن مسعود) کہتے تھے: ایک دوسرے سے ملتی جلتی (ان سورتوں) کو خوب جانتا ہوں جن کو نبی ﷺ دو دو کرکے ہر رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ یہ کہہ کر حضرت عبداللہؓ اٹھ کر چلے گئے اور علقمہ بھی ان کے ساتھ اندر گئے۔ پھر علقمہ باہر آگئے۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن مسعودؓ کی ترتیب کے مطابق مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں ہیں (ان کے نزدیک) ان میں سے آخری (سورتیں) وہ ہیں جو حٰم سے شروع ہوتی ہیں۔ حٰم، الدخان اور عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ بھی (ان میں سے) ہیں۔
(تشریح)یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ بھلائی پہنچانے میں تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور زیادہ سخی جو ہوتے تو آپؐ ماہِ رمضان میں ہوتے۔ کیونکہ جبریلؑ رمضان کے مہینہ میں ہر رات کو آپؐ سے ملاقات کرتے یہاں تک کہ وہ مہینہ گزر جاتا۔ رسول اللہ ﷺ ان کو قرآن سنایا کرتے تھے اس لئے جب جبریلؑ آپؐ سے ملتے تو آپؐ بھلائی پہنچانے میں بادِ بہار سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔