بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 10 hadith
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبدالملک نے قزعہ (بن یحيٰ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے چار باتیں سنیں۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ اور وہ نبی ﷺ کے ساتھ بارہ جنگوں میں گئے تھے۔
(نافع نے یہ بھی) کہا اور (حضرت ابن عمرؓ) کہتے تھے: میں بھی اسی طرح کرتا ہوں جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو کرتے دیکھا اور میں کسی کو منع نہیں کرتا۔ رات کو یا دن کو، جس وقت چاہے نماز پڑھے۔ مگر قصد کرکے سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے کے وقت نماز نہ پڑھے۔
علی (بن مدینی) نے (بھی) ہم سے بیان کیا۔ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: کجاوے نہ باندھے جائیں۔ مگر تین مسجدوں ہی کی طرف (جانے کے لئے۔) مسجد ِحرام، مسجد ِرسول ﷺ اور مسجد ِاقصیٰ۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغر سے، انہوں نے ابو عبداللہ (سلمان) اغر سے، ابو عبداللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز ان ہزار نمازوں سے بہتر ہے جو اور جگہ پڑھی جائیں۔ سوائے مسجد ِ حرام کے۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، (انہوں نے کہا: اسماعیل) بن علیہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ایوب نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صرف دو دن ہی چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک تو جس دن مکہ میں آتے۔ کیونکہ وہ چاشت کے وقت مکہ میں آتے تھے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرتے اور پھر مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھتے اور دوسرے اس دن جب مسجد قباء میں آتے اس میں ہر ہفتہ آیا کرتے تھے۔ جب مسجد میں داخل ہوتے تو ناپسند کرتے کہ اس سے نکلیں تا وقتیکہ اس میں نماز نہ پڑھ لیں۔ نافع نے کہا اور حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے۔ سواری پر بھی اور پیدل چل کر بھی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالعزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ مسجد قباء ہر ہفتہ جایا کرتے تھے۔ پیدل بھی اور سوار ہو کر بھی اور حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ (مسجد) قباء میں آیا کرتے تھے؛ سوار ہو کر بھی اور چل کر بھی۔ (عبداللہ) بن نمیر نے اتنا اور بڑھایا۔ (کہا:) عبیداللہ نے ہمیں بتایا کہ نافع سے مروی ہے۔ پھر اس میں آپؐ دو رکعتیں پڑھتے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے، عبداللہ نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے گلستانوں میں سے ایک گلستان ہے۔
مسدد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے عبیداللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: خبیب بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے گلستانوں میں سے ایک گلستان ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عبدالملک (بن عمیر) سے روایت ہے۔ (کہا:) میں نے زیاد کے آزاد کردہ غلام قزعہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے چار باتیں بیان کرتے سنا۔ جو مجھے پسند آئیں اور پاکیزہ معلوم ہوئیں۔ آپؐ نے فرمایا: عورت دو دن کا سفر اسی صورت میں کرے کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا محرم رشتہ دار ہو اور دو دِنوں میں روزہ نہیں، عید الفطر اور عید الاضحی میں اور دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں، صبح کے بعد سورج چڑھنے تک اور عصر کے بعد (سورج) ڈوبنے تک اور کجاوے نہ باندھے جائیں مگر تین مسجدوں کی طرف؛ مسجد ِحرام، مسجد ِاقصیٰ اور میری مسجد۔
(تشریح)