بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 26 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ حضرت ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات رہے اور یہ ان کی خالہ تھیں۔ کہتے تھے: میں بچھونے کی چوڑائی میں لیٹا اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کی زوجہ اس کی لمبائی میں لیٹے۔ رسول اللہ ﷺ سو رہے۔ یہاں تک کہ آدھی رات گذر گئی یا اس سے کچھ پہلے کا وقت ہوگا یا بعد کا کہ رسول اللہ ﷺ جاگے اور اُٹھ بیٹھے اور اپنے منہ پر اپنے ہاتھ پھیر کر نیند دور کرنے لگے۔ پھر آپؐ نے سورئہ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں۔ پھر اُٹھ کر ایک مشکیزہ لیا جو لٹک رہا تھا۔ اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: میں اُٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپؐ نے کیا تھا۔ پھر میں جا کر آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان اپنے ہاتھ سے مسلنے لگے۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر ایک وتر پڑھا۔ اس کے بعد آپؐ لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ مؤذن آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ اُٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر گئے اور فجر کی نماز پڑھائی۔
(تشریح)(محمد بن عبداللہ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: (محمد) بن فضیل نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کو سلام کیا کرتے تھے۔ بحا لیکہ آپؐ نماز میں ہوتے اور آپؐ ہمیں جواب دیا کرتے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے۔ ہم نے آپؐ کو سلام کیا تو آپؐ نے ہمیں جواب نہ دیا اور آپؐ نے (نماز کے بعد) فرمایا: نماز میں بھی ایک بڑی مصروفیت ہوتی ہے۔ (محمد بن عبداللہ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اسحق بن منصور (سلولی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہُریم بن سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عیسیٰ (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے حارث بن شبیل سے، حارث نے ابو عمرو (سعد بن ابی ایاس) شیبانی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت زید بن ارقمؓ نے مجھ سے کہا: ہم نماز میں نبی ﷺ کے زمانہ میں باتیں کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے اپنے کام کے متعلق باتیں کرتا۔ آخر یہ آیت نازل ہوئی۔ نمازوں کی حفاظت کرو (اور اس نماز کی جو کاروبار کے درمیان ہو اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔) پھر ہمیں خاموش رہنے کا حکم ہوا۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہلؓ (بن سعد) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اور نماز کا وقت آگیا۔ حضرت بلال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: نبی ﷺ تو رک گئے ہیں۔ اس لئے آپ لوگوں کی امامت فرمائیں۔ انہوں نے کہا: اچھا اگر تم ایسا ہی چاہتے ہو۔ حضرت بلالؓ نے نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نماز شروع کی۔ اتنے میں نبی ﷺ صفوں کو چیرتے ہوئے تشریف لے آئے۔ یہاں تک کہ پہلی صف میں آپؐ کھڑے ہوگئے اور لوگوں نے تصفیح شروع کردی۔ حضرت سہل نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں تصفیح کیا ہوتی ہے؟ تالی بجانا اور حضرت ابوبکرؓ نماز میں کسی اور طرف دھیان نہیں کرتے تھے۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو انہوں نے مڑ کر دیکھا۔ تو کیا دیکھتے ہیں: نبی ﷺ صف میں ہیں۔ آپؐ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔ پھر اُلٹے پائوں پیچھے کو ہٹے اور نبی ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔
(تشریح)عمرو بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابو عبدالصمد عبدالعزیز بن عبدالصمد نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) حصین بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نماز میں التحیات پڑھا کرتے تھے اور (لوگوں کا) نام لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو سلام کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: یوں کہا کرو: زبان سے متعلقہ تمام عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں بھی (اللہ ہی کے لئے ہیں) اے نبی! تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں اور سلامتی ہو ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدؐ اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔ کیونکہ جب تم نے یہ کہا تو تم نے اللہ تعالیٰ کے ہر نیک بندے کو جو زمین و آسمان میں ہے سلامتی کی دعا دی۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) زہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے۔
یحيٰ (بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ابوحازم (سلمہ بن دینار) سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے۔
(تشریح)بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یونس (بن یزید) نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے بتایا۔ پیر کے دن جبکہ مسلمان فجر کی نماز میں تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نبی ﷺ ان کے سامنے آئے۔ آپؐ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کا پردہ اٹھا کر انہیں دیکھا اور وہ صف بستہ کھڑے تھے۔ آپؐ مسکرائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹے اور خیال کیا کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے آنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو خوشی کے مارے اپنی نمازیں توڑنے کو ہی تھے کہ آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ نماز پوری کرو۔ پھر آپؐ حجرہ میں چلے گئے اور پردہ نیچے ڈال دیا اور اسی دن آپؐ نے وفات پائی۔
(تشریح)لیث (بن سعد) نے کہا: جعفر (بن ربیعہ) نے مجھے بتایا۔ عبدالرحمن بن ہرمز سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت نے اپنے بیٹے کو آواز دی جبکہ وہ اپنے عبادت خانہ میں تھا۔ کہنے لگی : اے جریج ! تو اس نے کہا: اے میرے اللہ ! میں اپنی ماں کو جواب دوں یا نماز پڑھوں؟ پھر اس عورت نے (آواز دی اور) کہا: اے جریج ! تو اس نے کہا: اے میرے اللہ ! اپنی ماں کو جواب دوں یا نماز پڑھوں؟ پھر(تیسری بار) اس عورت نے (آواز دی اور) کہا؟ اے جریج! تو اس نے کہا: اے میرے اللہ! اپنی ماں کو جواب دوں یا نماز پڑھوں؟ ماں نے بددعا کی۔ اے اللہ! جریج نہ مرے جب تک کہ وہ کنچنیوں کا منہ نہ دیکھ لے اور اس کے عبادت خانہ میں ایک گڈرنی آیا کرتی تھی جو بکریاں چرایا کرتی۔ وہ بچہ جنی تو اس سے پوچھا گیا کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ اس نے کہا: جریج کا جو اپنے عبادت خانہ سے اُتر کر میرے پاس آیا کرتا تھا۔ جریج نے کہا: یہ عورت کہاں ہے جو کہتی ہے کہ اس کا بچہ میرا بچہ ہے؟ (جب بچہ ان کے پاس لایا گیا) تو انہوں نے (بچے سے) پوچھا؟ بچے! تیرا باپ کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا۔ بکریوں کا چرواہا۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: معَیقیب (بن ابی فاطمہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے متعلق؛ جو جہاں سجدہ کرتا، وہاں سے مٹی برابر کرتا؛ فرمایا: اگر تم نے کرنا ہی ہے تو ایک ہی بار کرو۔
(تشریح)