بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 25 hadith
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے عامر (شعبی) سے، عامر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہؓ شہید ہوئے اور بال بچے اور قرض چھوڑ گئے۔ میں نے قرض خواہوں سے چاہا کہ وہ اُن کے قرض سے کچھ چھوڑ دیں۔ وہ نہ مانے تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورآپؐ سے چاہا کہ اُن کے پاس اس کی سفارش فرمائیں۔ وہ پھر بھی نہ مانے ۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی کھجوروں کو قسم وار ترتیب دو اور انہیں علیحدہ علیحدہ کردو۔ عذق بن زید قسم کی کھجور الگ ہو اور لِین الگ ہو اور عجوہ الگ ہو۔ پھر میرے آنے تک قرض خواہوں کو لے آئو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھجوروں کے ڈھیر پر بیٹھ گئے اور ہر شخص کو ماپ کردیتے گئے یہاں تک کہ ہر شخص نے اپنا حق پورا کا پورا پالیا اور کھجور ویسی ہی رہی، گویا کہ اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:)میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے کہا: میں خریدو فروخت میںٹھگا جاتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم خریدو فروخت کرو تو یہ کہا کرو: اس میں دھوکہ فریب نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ شخص ایسا ہی کہا کرتا تھا۔
اور (ایک بار) میں نبی ﷺ کے ساتھ اپنے ایک پانی بھرنے کے لئے استعمال ہونے والے اُونٹ پر سوار ہوکر جنگ کے لئے نکلا۔ وہ اُونٹ تھک کر چلنے سے رہ گیا اور باوجود میری کوشش کے پیچھے ہی رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیچھے سے لکڑی کی چوک لگائی۔آپؐ نے فرمایا: اسے میرے پاس بیچ دو اور مدینہ تک تم اسی پر سوار رہو۔ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے؛ میں نے آپؐ سے اجازت چاہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے نئی شادی کی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کس سے شادی کی ہے؛ کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے۔عبداللہؓ شہید ہوگئے اور انہوں نے کم سن لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس لئے میں نے بیوہ سے شادی کی ہے کہ وہ اُن کو تعلیم دے گی اور اُن کی تربیت کرے گی۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی بیوی کے پاس جائو۔ میں آیا اور اپنے ماموں (ثعلب) کو بتایا کہ اُونٹ بیچ دیا ہے۔ انہوں نے مجھے ملامت کی۔ میں نے انہیں بتایا کہ اُونٹ چلنے سے رہ گیا تھا اور جو بات نبی ﷺ سے ہوئی اور جو آپؐ نے اُسے مارا تھا (یہ بھی انہیں بتایا۔) جب نبی ﷺ مدینہ میں آئے تو میں دوسرے دن صبح اُونٹ لے کر آپؐ کے پاس گیا۔ آپؐ نے مجھے اُونٹ کی قیمت دی اور وہ اُونٹ بھی دے دیا اور لوگوں کے ساتھ میرا حصہ بھی مجھے دیا۔
(تشریح)عثمان (بن ابی شیبہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے شعبی سے، شعبی نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے غلام ورّاد سے، ورّاد نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: مائوں کی نافرمانی اور بیٹیوں کا زندہ گاڑنا اور خود تو نہ دینا لیکن دوسروں سے مانگنا؛ اِن سب باتوں کو اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کیا ہے۔ اِسی طرح سے فضول باتیں کرنے اور بہت سوال کرنے اور مال برباد کرنے کو تمہارے لئے ناپسند کیا ہے۔
(تشریح)ابوالیمان (حکم بن نافع) نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور اُس سے اپنی رعیت کے متعلق پرسش ہوگی۔ بادشاہ تو حاکم ہے اِس لئے اس سے اس کی رعیت کی نسبت پوچھا جائے گا اور ہر آدمی اپنے گھروالوں کا حاکم ہے۔ پس اس سے بھی اُس کی رعیت(خاندان) کی نسبت پوچھا جائے گا۔ اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر میں حکمران ہے۔ پس اس سے بھی اس کی رعیت کی نسبت پوچھا جائے گا۔ اور نوکر بھی آقا کے مال کی حفاظت کا ذمہ وار ہے ۔ پس اس سے بھی اس کی نسبت پوچھاجائے گا۔ (حضرت ابن عمرؓ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوںکا ذکر سنا اور میں سمجھتا ہوں کہ نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آدمی اپنے باپ کے مال میں بھی ذمہ وار ہے۔ اور اس سے بھی اس کے مال کی نسبت پوچھا جائے گا۔ اِس لئے تم میں سے ہر ایک حکمران اور ذمہ وار ہے اور اس سے اپنی اپنی رعیت (زیر حفاظت چیزوں) کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(تشریح)