بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 34 hadith
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوغسان نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے کہ ابوحازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا۔ آپؐ نے اس میں سے پیا اور آپؐ کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا؛ جو عمر میں سب سے چھوٹا تھا اور بڑی عمر والے آپؐ کی بائیں طرف تھے۔ آپؐ نے فرمایا: لڑکے کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ بڑوں کو دے دوں؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ سے بچا ہوا جو میرا حق ہے، میں تو وہ کسی کو نہیں دوں گا۔ اس پر وہ (پیالہ) آپؐ نے اُسے دے دیا۔
عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پانی بچ رہے، اس کو اس لئے نہ روکا جائے کہ گھاس نہ اُگے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے گھر میں پلی ہوئی بکری دوہی گئی اور وہ حضرت انس بن مالکؓ کے گھر میں ہی تھی اور اس کے دودھ کو اُس کنوئیں کے پانی سے ملایا گیا جو حضرت انسؓ کے گھر میں تھا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پیالہ دیا۔ آپؐ نے اسے پیا۔ جب آپؐ نے اپنے منہ سے وہ پیالہ الگ کیا تو اس وقت آپؐ کے بائیں طرف حضرت ابوبکرؓ تھے اور دائیں طرف ایک بدوی۔ تو حضرت عمرؓ ڈرے کہ کہیں آپؐ اس بدوی کو نہ دے دیں۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! ابوبکرؓ کو دے دیجئے جو آپؐ کے پاس ہیں۔ لیکن آپؐ نے وہ (پیالہ) اس بدوی کو دے دیا جو آپؐ کے دائیں طرف تھا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دائیں طرف والے کو دو۔ پھر اس کو جو اس کی دائیں طرف ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے (سعید) بن مسیب اور ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے ہوئے پانی کو اس لئے نہ روکو کہ تا ضرورت سے زیادہ گھاس نہ اُگنے پائے۔
محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ (بن موسیٰ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابوحصین سے، ابوحصین نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کان سے جو نقصان ہو، اس کا تاوان نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی کنوئیں میں گر کر مرجائے تو اس کا بھی کوئی تاوان نہ ڈالا جائے گا۔ اسی طرح اگر جانور کے چھوٹ جانے سے کوئی انسان اس کی زد میں آکر مر جائے تو اس کا بھی کوئی تاوان نہ ہوگا اور جو دفن شدہ مال ملے، اس کا پانچواں حصہ دینا ہوگا۔
(تشریح)عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص کسی٭ کا مال مارنے کے لئے قسم کھائے اور وہ قسم میں جھوٹا ہو، وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی کہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے وسیلے سے تھوڑا مول لیتے ہیں (آخر آیت تک۔) پھر حضرت اشعثؓ آئے اور انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) نے تم سے کیا بیان کیا۔ یہ آیت تو میرے متعلق اُتری تھی۔ میرا ایک کنواں میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں تھا۔ (اس کا جھگڑا تھا) آپؐ نے مجھ سے فرمایا: اپنے گواہ لائو۔ میں نے کہا: (یا رسول اللہ!) میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر دوسرے فریق سے قسم لے لے۔ میںنے کہا: یارسول اللہ! پھر تو وہ قسم کھا لے گا۔ اس پر نبی ﷺ نے یہ حدیث بیان کی۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی تصدیق کے لئے یہ آیت نازل کی۔
(تشریح)عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص کسی٭ کا مال مارنے کے لئے قسم کھائے اور وہ قسم میں جھوٹا ہو، وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی کہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے وسیلے سے تھوڑا مول لیتے ہیں (آخر آیت تک۔) پھر حضرت اشعثؓ آئے اور انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) نے تم سے کیا بیان کیا۔ یہ آیت تو میرے متعلق اُتری تھی۔ میرا ایک کنواں میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں تھا۔ (اس کا جھگڑا تھا) آپؐ نے مجھ سے فرمایا: اپنے گواہ لائو۔ میں نے کہا: (یا رسول اللہ!) میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر دوسرے فریق سے قسم لے لے۔ میںنے کہا: یارسول اللہ! پھر تو وہ قسم کھا لے گا۔ اس پر نبی ﷺ نے یہ حدیث بیان کی۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی تصدیق کے لئے یہ آیت نازل کی۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد بن زیادنے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوصالح سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ہیں؛ جنہیں اللہ قیامت کے دن (شفقت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا اور نہ اُن کو پاک کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔ ایک وہ شخص جس کے پاس سفر میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور اس نے مسافر کو نہیں دیا اور ایک وہ شخص جس نے کسی امام کی بیعت کی اور یہ بیعت محض دنیا کی خاطر کی۔ اگر اس نے اسے دنیاوی مال دیا تو وہ راضی ہوگیا اور اگر نہ دیا تو خفا ہوگیا اور ایک وہ شخص جس نے عصر کے بعد اپنا سامانِ تجارت بازار میں رکھا اور کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں مجھے تو اس کی یہ یہ قیمت ملتی تھی اور پھر کوئی شخص اس کو سچا سمجھے اور (خرید لے) اس کے بعد آپؐ نے یہ آیت پڑھی (یعنی) جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت لیتے ہیں…۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری شخص نے حضرت زبیرؓ سے حرّہ کی اس ندی کے بارے میں جھگڑا کیا؛ جس سے لوگ کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے۔ انصاری نے (حضرت زبیرؓسے) کہا: پانی بہنے دو اور حضرت زبیرؓ نے نہ مانا تو وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ سے فرمایا: زبیر! تم (اپنے درختوں کو) سیراب کرلو۔ پھر اپنے ہمسایہ کے لئے پانی چھوڑ دو۔ انصاری کو غصہ آگیا اوراس نے کہا: آپؐ نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ یہ آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺکا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا: زبیر اپنے درختوں کو پانی دو۔ پھر پانی کو روکے رکھو۔ یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک بھر آئے۔ حضرت زبیرؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی تھی۔ یعنی تیرے ربّ کی قسم! وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ تجھے ان باتوں میں حکم نہ مانیں جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔ محمد بن عباس نے کہا کہ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: صرف لیث ہی نے عروہ کو عبد اللہ سے روایت کرتے ہوئے ذکر کیا ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری شخص نے حضرت زبیرؓ سے حرّہ کی اس ندی کے بارے میں جھگڑا کیا؛ جس سے لوگ کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے۔ انصاری نے (حضرت زبیرؓسے) کہا: پانی بہنے دو اور حضرت زبیرؓ نے نہ مانا تو وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ سے فرمایا: زبیر! تم (اپنے درختوں کو) سیراب کرلو۔ پھر اپنے ہمسایہ کے لئے پانی چھوڑ دو۔ انصاری کو غصہ آگیا اوراس نے کہا: آپؐ نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ یہ آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺکا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا: زبیر اپنے درختوں کو پانی دو۔ پھر پانی کو روکے رکھو۔ یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک بھر آئے۔ حضرت زبیرؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی تھی۔ یعنی تیرے ربّ کی قسم! وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ تجھے ان باتوں میں حکم نہ مانیں جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔ محمد بن عباس نے کہا کہ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: صرف لیث ہی نے عروہ کو عبد اللہ سے روایت کرتے ہوئے ذکر کیا ہے۔
(تشریح)