بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 15 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے غیلان بن جریر سے، غیلان نے ابوبردہ (بن ابی موسیٰ) سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں کچھ اشعریوں کی جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کہ میں آپؐ سے سواری مانگوں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دوں گا، میرے پاس سواری نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ پھر ہم جتنا عرصہ اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے۔ اتنے میں کچھ اُونٹ لائے گئے تو آپؐ نے ہمیں تین اُونٹ دینے کے لئے حکم دیا۔ جب ہم چل پڑے تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ اللہ ہمیں کبھی برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سواری مانگنے کے لئے آئے تھے تو آپؐ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے اور اب آپؐ نے ہمیں سواری دے دی ہے۔ حضرت ابوموسیٰؓ کہتے تھے: (یہ خیال کر کے) ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے نہیں تمہیں سواری دی بلکہ اللہ ہی نے تمہیں سواری دی ہے اور بخدا میں جو بھی ایسی قسم کھاؤں پھر اس کے سوا کسی اور بات کو بہتر سمجھوں تو انشاء اللہ ضرور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردوں اور وہی کروں جو بہتر ہو۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں (یہی) بتایا اور یوں کہا: تو ضرور ہی اپنی قسم کا کفارہ دے دوں اور وہی کروں جو بہتر ہو یا (کہا:) وہی کروں جو بہتر ہو اور کفارہ دوں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن حُجیر سے، ہشام نے طاؤس سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت سلیمانؑ نے کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس سے ہو آؤں گا۔ ہر بیوی ایک لڑکا جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ تو حضرت سلیمانؑ کے ساتھی نے اُن سے کہا، سفیان کہتے تھے: یعنی فرشتہ نے (کہا) انشاء اللہ کہو مگر وہ بھول گئے اور ان بیویوں کے پاس گئے۔ ان میں سے کسی بیوی نے بھی بچہ نہ جنا مگر ایک بیوی نے اور وہ بھی ادھورا بچہ۔ حضرت ابوہریرہؓ اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: اگر انشاء اللہ کہتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور وہ قسم ان کی حاجت براری کر دیتی۔ اور کبھی (حضرت ابوہریرہؓ نے) یوں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر حضرت سلیمانؑ استثناء کرتےہوئے کہتے۔ اور ابو الزناد نے اعرج سے روایت کرتے ہوئے حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث کی طرح ہی ہمیں بتایا۔
(تشریح)علی بن حجر نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے قاسم تمیمی سے، قاسم نے زہدم جرمی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰؓ کے پاس تھے اور ہمارے اور جَرم کے اس قبیلہ کے درمیان برادری اور راہ و رسم تھی۔ (زہدم نے) کہا: اتنے میں کھانا سامنے رکھا گیا۔ کہا: اور اس کھانے میں مرغی کا گوشت بھی رکھا گیا۔ کہا: اور ان لوگوں میں بنو تیم اللہ سے ایک شخص تھا جو سرخ رنگ کا تھا جیسے کہ وہ کوئی غلام ہے۔ کہا: وہ کھانے کے قریب نہ آیا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے اس سے کہا: آگے آؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ بھی اس کا گوشت کھایا کرتے تھے۔ وہ بولا: میں نے اس کو کچھ کھاتے دیکھا، مجھے اس سے کراہت ہوئی اور میں نے قسم کھائی کہ میں اس کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ (حضرت ابوموسیٰؓ نے) کہا: آگے آؤ میں تمہیں اس (قسم) کے متعلق بتاتا ہوں۔ ہم اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کہ آپؐ سے سواری مانگیں اور اس وقت آپؐ صدقہ کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ تقسیم کر رہے تھے۔ ایوب نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ (حضرت ابوموسیٰؓ نے) یہ بھی کہا: اور آپؐ اس وقت ناراض تھے، آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہیں دوں گا اور میرے پاس سواری ہے بھی نہیں کہ جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ (حضرت ابوموسیٰؓ) کہتے تھے: ہم (یہ سن کر) چلے گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس غنیمت کے کچھ اونٹ آئے۔ کہا گیا: یہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ یہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ ہم آئے اور آپؐ نے ہمیں پانچ اونٹ جو سفید کہان والے تھے دینے کا حکم دیا۔ (حضرت ابوموسیٰؓ) کہتے تھے: ہم یہ لے کر جلدی سے چل پڑے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے کہ آپؐ سے سواری مانگیں اور آپؐ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے، پھر آپؐ نے ہمیں بلا بھیجا اور سواریاں دیں۔ رسول اللہ ﷺ اپنی قسم بھول گئے۔ اللہ کی قسم اگر ہم نے رسول اللہﷺ کو آپؐ کی قسم کے متعلق غفلت میں ہی رہنے دیا تو ہم کبھی بھی بامراد نہیں ہوں گے۔ چلو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس جائیں اور آپؐ کو آپؐ کی قسم یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم لوٹے اور ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپؐ کے پاس آپؐ سے سواری مانگنے کے لئے آئے تھے، آپؐ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے پھر آپؐ نے ہمیں یہ سواریاں دے دی ہیں۔ ہم نے خیال کیا یا ہم سمجھے کہ آپؐ اپنی قسم بھول گئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ اللہ ہی نے تمہیں سواریاں دی ہیں۔ اللہ کی قسم میں جو بھی ایسی قسم کھا بیٹھوں کہ پھر میں اس کے سوا کسی اور بات کو بہتر سمجھوں تو انشاء اللہ ضرور ہی وہ کروں جو بہتر ہو اور کفارہ دے کر اس قسم سے آزاد ہوجاؤں۔ (اسماعیل کی طرح) اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب سے روایت کیا۔ ایوب نے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی سے روایت کی۔ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے، ان دونوں نے زہدم سے یہی حدیث روایت کی۔ ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے قاسم سے، قاسم نے زہدم سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بیان کی۔
6722: محمد بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عثمان بن عمر بن فارس نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے ہمیں خبر دی۔ ابن عون نے حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم حکومت نہ مانگنا کیونکہ اگر تم بغیر مانگنے کے دئیے گئے تو اس کے انتظام کرنے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر مانگنے پر تمہیں دی گئی تو تجھے اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور اگر تم کوئی ایسی قسم کھا بیٹھو کہ پھر اس کے سوا کسی اور بات کو بہتر سمجھو تو اسی کو کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ (عثمان بن عمر کی طرح) اشہل (بن حاتم) نے بھی ابن عون سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی۔ اور ان کی طرح یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی اسے روایت کیا۔
(تشریح)