بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی قسم کو کبھی نہ توڑتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے قسم کے کفارہ کا حکم نازل کیا تو انہوں نے کہا: میں کوئی ایسی قسم نہیں کھاؤں گا کہ اس کے سوا کسی اور کو اس سے بہتر سمجھوں تو میں ضرور وہی کروں گا جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یہ وہ حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہؓ نے ہم سے بیان کی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: ہم سب سے آخر میں ہیں، قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے ۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم اگر تم میں سے کوئی اپنی قسم پر جو اُس نے گھر والوں کے متعلق کھائی ہے اَڑ جائے تو یہ اللہ کے نزدیک اسے زیادہ گنہگار کرنے والی ہوگی بنسبت اس کے کہ وہ اپنی قسم توڑ کر اس کا وہ کفارہ ادا کردے جو اللہ نے اس پر مقرر کیا ہے۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی قسم ہوتی: لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک (بن عمیر) سے، عبدالملک نے حضرت جابر بن سمرہؓ سے، حضرت جابرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اب جو قیصر مرا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور اب جو کسریٰ مرا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہو گا۔ اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور بالضرور ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔
ابو نعمان محمد بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ جریربن حازم نے ہمیں بتایا۔ حسن (بصری) نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن سَمُرہؓ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن بن سَمُرہ! حکومت کی درخواست نہ کرو۔ اگر مانگنے پر تمہیں وہ دی گئی تو تمہیں اُس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں وہ دی جائے تو پھر تمہاری اس میں مدد کی جائے گی اور اگر تم کوئی قسم کھاؤ اور پھر اس کے سوا کسی دوسری (بات) کو اُس سے بہتر سمجھو تو اپنی قسم کا کفارہ دو اور وہ کروجو بہتر ہے۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے غیلان بن جریر سے، غیلان نے ابوبُردہ سے، ابوبُردہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ آپؐ سے سواری مانگوں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور میرے پاس کوئی سواری نہیں جس پر تمہیں سوار کروں۔ کہتے تھے کہ ہم جب تک اللہ نے چاہا کہ ٹھہرے رہیں ہم ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد آپؐ کے پاس تین اونٹ جوعمدہ سفید کہانوں والے تھے، لائے گئے تو آپؐ نے ہمیں ان پر سوار کیا ۔ جب ہم چلے ہم نے کہا یا ہم میں سے کسی نے کہا: اللہ کی قسم ہمیں کبھی برکت نہ دی جائے گی۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپؐ سے سواری مانگنے آئے تو آپؐ نے قسم کھائی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے، پھر آپؐ نے ہمیں سواری دی۔ آؤ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس جائیں اور آپؐ کو یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم آپؐ کے پاس آئے تو آپؐ فرمانے لگے: میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ نے تمہیں سواری دی اور بخدا، اللہ نے چاہا تو میں کبھی قسم کھاؤں گا پھر اس کے علاوہ دوسری کو اس سے بہتر سمجھوں گا تو ضرور ہی اپنی قسم کا کفارہ ادا کروں گا اور وہ بات کروں گا جو بہتر ہو یا (فرمایا) جو بہتر ہو وہ کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
اسحاق یعنی ابراہیم کے بیٹے نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن صالح نے ہمیں بتایا۔ معاویہ (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا۔ معاویہ نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی قسم کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے متعلق اَڑا رہے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ وہ اپنی قسم کو پورا کرے یعنی کفارہ دے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اسماعیل بن جعفر سے، اسماعیل نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستۂ فوج بھیجا اور اُن پر حضرت اُسامہ بن زیدؓ کو امیر مقرر فرمایا تو بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے اور اللہ کی قسم وہ بھی امارت کے یقیناً لائق تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت ہی پیارے ہیں اور یہ بھی اس کے بعد انہی لوگوں میں سے ہے جو مجھے بہت ہی پیارے ہیں۔