بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 49 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں بیمار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ میری عیادت کے لیے آئے اور وہ دونوں پیدل ہی چل کر آئے۔ جب وہ میرے پاس پہنچے تو میں بے ہوش تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا تو میں ہوش میں آیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی جائیداد کا کیا کروں؟ میں اپنی جائیداد میں کیسے فیصلہ کروں؟ تو آپؐ نے مجھے کچھ جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ابن طاؤس نے ہم سے بیان کیا۔ ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ
حضرت ابوبکرؓ نے اُن کو جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ہمارا کوئی ورثہ نہیں پائے گا۔ جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوگا۔ آل محمدؐ اس مال سے صرف کھاتے پیتے رہے ہیں، حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اس امر کو نہیں چھوڑوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا۔ میں وہی کروں گا جو آپؐ نے کیا۔ (عروہ) کہتے تھے: اس پر حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو چھوڑ دیا اور اپنے مرنے تک ان سے (اس بارے میں) بات نہیں کی۔
اسماعیل بن ابان نے ہم سے بیان کیا کہ ابن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا۔ جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے وارث ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں گے۔ اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے کارندوں کے خرچ کے بعد جو میں چھوڑ جاؤں تو وہ صدقہ ہوگا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ابن طاؤس نے ہم سے بیان کیا۔ ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: حصہ داروں کو ان کا مقررہ حصہ دے دو۔ پھر جو بچ رہے تو وہ سب سے زیادہ قریبی مرد رشتہ دار کو دیا جائے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔لیث نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے مالک بن اوس بن حدثان نے بتایا اور محمد بن جبیر بن مطعم نے بھی مجھ سے ان کی اس حدیث سے کچھ حصہ ذکر کیا تھا۔ (یہ سن کر) میں چل پڑا اور اُن کے پاس پہنچا اور میں نے اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں چل پڑا کہ حضرت عمرؓ کے پاس جاؤں۔ جب وہاں پہنچا تو اُن کا دربان یرفا اُن کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا آپؓ حضرت عثمانؓ اور حضرت عبدالرحمٰنؓ اور حضرت زبیرؓ اور حضرت سعدؓ کو ملنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اور اس نے ان کو اجازت دی، پھر یرفا نے کہا: کیا آپؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کو ملنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عباسؓ نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی ورثہ نہیں پائے گا، جو ہم چھوڑ جائیں صدقہ ہوگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد اپنی ذات تھی۔ اس جماعت نے کہا: بے شک آپؐ نے ایسا فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺنے ایسا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: بے شک آپؐ نے ایسا فرمایا تھا۔ حضرت عمر ؓنے کہا: پھر میں تمہیں اس معاملہ کے متعلق بیان کرتا ہوں۔ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لیے فے میں سے کچھ حصہ مخصوص فرمایا جو اس نے آپؐ کے سوا کسی اور کو نہیں دی۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ…۔ تو یہ جائیدادیں رسول اللہ ﷺ کے لئے ہی خاص تھیں۔ اللہ کی قسم آپؐ نے ان کو تمہارے سوا کسی کے لیے محفوظ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے خرچ کرنے میں تم پر کسی کو ترجیح دی، تمہیں ہی دیں اور تم پر ہی تقسیم کیں یہاں تک کہ ان میں سے یہ جائیداد باقی رہ گئی اور نبی ﷺ اس جائیداد سے اپنے گھر والوں کو ایک سال کا خرچ دیا کرتے تھے پھر جو باقی بچ جاتا وہ آپؐ لیتے اور اس کو ان کاموں میں خرچ کرتے جہاں اللہ کا مال خرچ کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ساری عمر اسی پر عمل کرتے رہے۔ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم یہ جانتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں ایسا ہی تھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے کہا: میں تم دونوں سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم یہ جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو وفات دی اور حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوں اور انہوں نے ان جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں لیا اور ان میں وہی تصرف کرتے رہے جو رسول اللہ ﷺ نے ان جائیدادوں میں کیا تھا۔ پھر اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کو وفات دی اور میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوں اور میں نے دو سال تک ان جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں رکھا اس میں وہی تصرف کرتا رہا جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے کیا۔ پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تمہاری بات ایک ہی تھی اور تمہاری رائے متفقہ تھی، تم میرے پاس آئے، مجھ سے اپنے بھتیجے کے مال سے اپنا حصہ مانگنے لگے اور یہ بھی میرے پاس آئے اپنی بیوی کا حصہ مجھ سے مانگنے لگے جو انھیں ان کے باپ کی طرف سے پہنچتا تھا۔ میں نے کہا: اگر تم دونوں چاہو تو میں یہ جائیدادیں تمہارے سپرد اسی شرط پر کئے دیتا ہوں۔ پھر کیا تم مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟اس ذات کی قسم ہے جس کے حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں میں ان جائیدادوں کے متعلق اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کروں گا خواہ قیامت بھی برپا ہو جائے۔ اگر تم دونوں عاجز آگئے ہو تو پھر ان کو میرے سپرد کر دو، میں تمہاری جگہ ان کا انتظام کروں گا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے چاہا کہ حضرت عثمانؓ کو حضرت ابوبکرؓ کے پاس بھیجیں تا کہ ان سے اپنی میراث مانگیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوگا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوسلمہ نے مجھے بتایا۔ ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں مؤمنوں سے ان کی اپنی جانوں سے بڑھ کر تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے جو (مؤمن) مرجائے اور اس کے ذمہ قرض ہو اور وہ اس کے ادا کرنے کے لئے کوئی مال نہ چھوڑے تو ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس قرض کو چکائیں اور جو کوئی جائیداد چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کی ہوگی۔