بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 81 hadith
عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے اور نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز عصر جاتی رہی تو گویا اس کا گھر بار اور مال لوٹ لیا گیا۔ ابو عبد الله (بخاری) نے کہا: يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَتَرْتُ الرَّجُلَ ۔ جب میں اُس کا آدمی مار ڈالوں یا اس کا مال لے لوں۔
محمد بن مہران نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابونجاشی نے ہم سے بیان کیا اور وہ عطاء بن صہیب ہیں جو حضرت رافع بن خدیج کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج سے سنا کہ وہ کہتے تھے۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم میں سے ایک ایسے وقت میں لوٹتا کہ وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتایا: حضرت سلمہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج پس پردہ ہو جاتا۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے بتایا، کہا: بھی بن ابی کثیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابو قلابہ نے ابوا صبیح سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: ہم ایک لڑائی میں حضرت بریدہ کے ساتھ تھے۔ اس دن ابر تھا۔ انہوں نے کہا: عصر کی نماز جلدی پڑھ لو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کا عمل اکارت گیا۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: مروان بن معاویہ نے ہمیں بتایا۔ کہا: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قیس سے قیس نے جریر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ آپ نے ایک رات چاند دیکھا یعنی چودھویں رات کا چاند اور آپ نے فرمایا: تم ضرور اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح کہ تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے کے لئے تمہیں اس بات کی ضرورت نہ ہوگی کہ ایک دوسرے سے لپٹ کر پوچھو کہ وہ کہاں ہے؟ پس اگر تم سے ہو سکے کہ تم اس نماز کے پڑھنے میں ہمت نہ ہارو جو سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے ہے تو ایسا ہی کرو۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے تسبیح کیا کر۔ “اسماعیل نے کہا: افعلوا کے معنی ہیں تم سے یہ (نمازیں) نہ رہ جائیں۔
عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے۔ اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کچھ ملائکہ رات کو اور کچھ ملائکہ دن کو یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں اور فجر اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ ملائکہ جو تم میں رہے تھے، اوپر چلے جاتے ہیں اور ان سے (اللہ تعالی) پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کا حال بہتر جاننے والا ہے۔ میرے بندوں کو تم نے کیسے چھوڑ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اُن کو چھوڑا ہے ایسی حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ اور ہم اُن کے پاس ایسی حالت میں آئے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
(تشریح)عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے اور ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے۔ سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم سے پہلے جو امتیں گزر چکی ہیں؟ ان کے مقابل تمہاری بقائے حیات (کی مثال) ایسی ہے جیسے کہ نماز عصر سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک۔ اہل تورات کو تورات دی گئی اور وہ عمل کرتے رہے یہاں تک کہ جب آدھا دن ہو گیا تو وہ تھک کر رہ گئے اور اُن کو ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے عصر کی نماز تک کام کیا۔ پھر رہ گئے اور اُن کو ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر ہمیں قرآن دیا گیا اور ہم نے سورج کے غروب ہونے تک کام کیا اور ہم کو دو دو قیراط دیئے گئے۔ اس پر ان دونوں کتاب والوں نے کہا: اے ہمارے رب! ان کو تو نے دو دو قیراط دیئے ہیں اور ہم کو ایک ایک قیراط دیا ہے۔ حالانکہ ہم تو زیادہ کام کرنے والے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تم کو تمہاری مزدوری سے کم دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا: پھر یہ تو میرا فضل ہے جسے چاہتا ہوں، دیتا ہوں۔
ابوکریب نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرید سے، برید نے ابو بردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسی سے، حضرت ابو موسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ مسلمانوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت اس شخص کی حالت کی مانند ہے جس نے کچھ لوگ مزدوری پر لگائے کہ وہ اس کے لئے رات تک کام کریں تو انہوں نے آدھا دن کام کیا اور کہا: ہمیں تیری مزدوری کی ضرورت نہیں۔ اس نے اوروں کو مزدوری پر لگایا اور کہا کہ تم اپنا بقیہ دن پورا کرو اور تمہیں وہی مزدوری ملے گی جس کی میں نے شرط کی ہے۔ یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا: یہ لو سنبھالو جو ہم نے کیا ہے۔ اس پر اُس نے کچھ اور لوگ مزدوری پر لگائے اور وہ بقیہ دن کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے دونوں گروہوں کی مزدوری پوری کی پوری لے لی۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے سعد سے، سعد نے محمد بن عمرو بن حسن بن علیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حجاج آیا اور ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تو دو پہر کے بعد پڑھا کرتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ سورج ابھی روشن ہوتا اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب وہ غروب ہو جاتا اور عشاء کبھی کسی وقت اور کبھی کسی وقت۔ جب اُن کو دیکھتے کہ وہ اکٹھے ہو گئے ہیں تو آپ جلدی کرتے اور جب اُن کو دیکھتے کہ اُنہوں نے دیر کی ہے تو آپ تاخیر فرماتے اور صبح کی نماز وہ (لوگ) یا کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں پڑھتے کہ ابھی اندھیرا ہوتا۔