بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیںبتایا کہ خالد حذّاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا اور یہود ونصاریٰ کا۔ پھر حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان دیں( الفاظِ اذان) دو دفعہ کہیں اور اقامت (میں) ایک ہی دفعہ۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سماک بن عطیہ سے، سماک نے ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابو قلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ کہا: حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ الفاظِ اذان دو دو بار کہیں اور اقامت میں ایک ہی بار ، سوائے الفاظ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃِ کے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذّن کہتاہے، کہا کرو۔
محمود بن غیلان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن جُرَیج نے ہمیں بتایا۔ کہا: نافع نے مجھے بتایا: حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: مسلمان جب مدینہ میں آئے تو اکٹھے ہوا کرتے تھے اور نماز کے وقت کا اندازہ کرلیا کرتے تھے۔ اس کے لئے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ تو انہوں نے ایک دن اس سے متعلق بات چیت کی۔ ان میں سے بعض نے کہا: عیسائیوں کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنالو اور بعض نے کہا: نہیں۔ بلکہ یہودیوں کے ناقوس کی طرح۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: کیوں نہ تم کسی آدمی کو مقرر کرلو کہ(وہ جاکر) نماز کے لئے بلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! اُٹھو نماز کے لئے بلائو۔
(تشریح)حمد بن سلام نے مجھسے بیان کیا، کہا: عبدالوہاب (ثقفی۲؎) نے ہمیں بتایا۔ کہا: خالد حذاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب لوگ زیادہ ہوگئے، لوگوں نے ذکر کیا کہ وہ اوقاتِ نماز کے لئے کوئی نشان مقرر کرلیں۔ جس سے وہ وقت معلوم کریں۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ آگ جلائیں یا ناقوس بجائیں۔ تو حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ الفاظِ اذان دو دفعہ کہیں اور اقامت میں ایک ہی بار۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ الفاظِ اذان دہرائیں اور اقامت ایک ہی بار کہیں۔ اسماعیل نے کہا کہ پھر میں نے ایوب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: سوائے الفاظ اِقامت کے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا انہوں نے ابوزناد سے،ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازکے لئے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتے ہوئے چلا جاتا ہے۔ تاکہ وہ اذان نہ سنے۔ جب اذان ہوچکتی ہے تو وہ پھر سامنے آجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب نماز کے لئے تکبیر کہی جاتی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔ آخرجب تکبیر ختم کی جاتی ہے تو پھر وہ سامنے آجاتا ہے۔ تاکہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان خیالات ڈالے۔ کہتا ہے یہ یاد کر۔ وہ یاد کر۔ اور ایسی ایسی باتیں جو اس کو یاد نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ آدمی ایسا ہوجاتا ہے کہ اسے پتہ نہیںرہتا کہ کتنی نماز پڑھی ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد الرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ انصار ی مازنی سے روایت کی۔ عبدالرحمن نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے بتایا۔ حضرت ابوسعیدخدریؓ نے ان سے کہا: میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل کو پسند کرتے ہو۔ پس تم اپنی بکریوں یا اپنے جنگل میں ہو تو نماز کی اذان دو اور اپنی آواز اذان کے ساتھ بلند کیا کرو۔ کیونکہ جہاں تک مؤذن کی آواز پہنچے، جن و انسان اور جو کوئی بھی اسے سنے گا تو وہ ضرور اس کے لئے قیامت کے روز شہادت دے گا۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن جعفر نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے حُمید سے، حُمید نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں ساتھ لے کر کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو آپؐ تاوقتیکہ صبح نہ ہوجائے، ہمیں حملے کا حکم نہ دیتے اور انتظار فرماتے۔ اگر آپؐ اذان سنتے توان سے رُک جاتے۔ اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کر دیتے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے:ہم خیبر کی طرف نکلے تو ہم ان کے پاس رات کو پہنچے۔ جب آپؐ صبح کو اُٹھے اور اذان نہ سنی تو آپؐ سوار ہوئے اورمیں حضرت ابوطلحہؓ کے پیچھے سوار ہوگیا اور میرا پائوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں سے چھوتا تھا۔ کہتے تھے: وہ باہر نکلے۔ اپنی ٹوکریاں اور کدالیں لئے ہوئے ہماری طرف چلے آرہے تھے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے کہا: محمدؐہیں۔ اللہ کی قسم محمدؐ اور فوج۔ (حضرت انسؓ )کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آپؐ نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا اور فرمایا: خیبر برباد ہوگیا۔جب ہم کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ لگاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بہت بُری ہوتی ہے جو قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دیئے گئے ہوں۔
(تشریح)معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے محمد بن ابراہیم بن حارث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عیسیٰ بن طلحہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ایک دن حضرت معاویہؓ سے سنا کہ وہ (اذان کے الفاظ) اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ تک اسی طرح کہتے جاتے تھے۔ اسحاق بن راہویہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے یحيٰ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ یحيٰ سے اسی طرح مروی ہے۔