بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 6 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: میں نے (زہری) سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نماز پڑھی یعنی نمازِ خوف؟ تو انہوں نے کہا: سالم نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نجد کی طرف لڑائی کے لئے گیا۔ ہم دشمن کے مدّمقابل کھڑے ہوگئے اور اُن کے سامنے صفیں باندھ لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ ایک گروہ آپؐ کے ساتھ کھڑا نماز پڑھتا رہا اور ایک گروہ دشمن کی طرف منہ کئے رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مع ان کے جو آپؐ کے ساتھ تھے رکوع کیا اور دو سجدے کئے ۔پھر یہ لوگ اس گروہ کی جگہ پر لوٹ آئے جس نے ابھی نمازنہیں پڑھی تھی اور وہ آگئے۔ آپؐ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی اور دو سجدے کئے۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔ پھر اُن میں سے ہر ایک کھڑا ہوگیا اور اپنے طور پر اُس نے ایک رکعت پڑھ کر رکوع کیا اور دو سجدے کئے۔
(تشریح)سعید بن یحيٰ بن سعید قرشی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت (عبداللہ) بن عمرؓسے مجاہد کے قول کی طرح روایت کی کہ جب وہ (لڑائی میں) آپس میں مل جل جائیں تو کھڑے ہی (نماز پڑھ لیں) حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اتنا اوربڑھایا ہے کہ اگر (دشمن) زیادہ ہوں تو وہ کھڑے یا سوارہی نماز پڑھ لیں۔
(تشریح)حَیْوَہ بن شُرَیح نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن حرب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زبیدی سے، زبیدی نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (بن مسعود) سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگ بھی آپؐ کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ آپؐ نے اللہ اکبر کہا اور لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ اللہ اکبر کہا۔ آپؐ نے رکوع کیا اور اُن میں سے کچھ لوگوں نے رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور لوگوں نے آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر آپؐ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے اور جنہوں نے سجدہ کیا تھا وہ بھی کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اپنے بھائیوں کی حفاظت کی اور دوسرا گروہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا اور سب لوگ نماز میں ہی رہے لیکن ایک دوسرے کی حفاظت کرتے رہے۔
(تشریح)یحيٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علی بن مبارک سے، علی نے یحيٰ بن ابی کثیر سے،یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ (انصاری) سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ خندق کے دن آئے اور کفار قریش کو برابھلا کہنے لگے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی۔ مگر اس وقت کہ جب سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بھی بخدا ابھی تک نہیں پڑھی۔ (حضرت جابرؓ) کہتے تھے: آپؐ بطحان (کے میدان) میں گئے اور آپؐ نے وضو کیا اور عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا، کہاکہ جویریہ (بنت اسماء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپؐ جنگ احزاب سے لوٹے؛ ہم سے فرمایا: کوئی بھی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنومیں۔ پھر بعض کو عصر کا وقت راستے میں ہی آگیا اور بعض نے کہا: ہم وہاں پہنچ کر ہی نماز پڑھیں گے۔ بعضوں نے (مجھ سے) کہا: نہیں بلکہ ہم نماز پڑھ لیتے ہیں ۔ آپؐ کا یہ مطلب نہیں تھا ۔ (اس کا) ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپؐ نے ان میں سے کسی کو ملامت نہیں کی۔
(تشریح)مسدد (بن مسرہد) نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب اور ثابت بنانی سے، ان دونوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی اندھیرا ہی تھا، صبح کی نماز پڑھی۔ پھر آپؐ سوار ہوئے اور فرمایا: اللہ اکبر، خیبر برباد ہوگیا۔ ہم جب کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ لگاتے ہیں تو پھر اُن لوگوں کی صبح بہت ہی بری ہوتی ہے جو قبل از وقت خطرے سے ڈرائے گئے ہوں۔ یہودی گلی کوچوں میں دوڑتے ہوئے نکلے اور وہ کہہ رہے تھے: محمد اور لشکر۔ راو ی نے کہا: خمیس کے معنے لشکر کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر غالب آگئے۔آپؐ نے لڑنے والوں کو قتل کیا اور عورتیں اور بچے قید کرلئے۔ پہلے حضرت صفیہؓ؛ حضرت دحیہ کلبیؓ کے حصے میں آئیںاور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگئیں۔ تو آپؐ نے ان سے نکاح کر لیا اور آپؐ نے اُن کا مہر اُن کی آزادی کو ہی ٹھہرایا۔ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: ابومحمد کیا تم نے حضرت انسؓ سے پوچھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کیا مہر دیا؟ انہوں نے جواب میں کہا: خود انہیں کو ان کے مہرمیں دیا۔ (کہتے تھے:) یہ کہہ کر وہ مسکرائے۔
(تشریح)