بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 6 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا؛ رمضان سے متعلق فرماتے تھے: جو جذبۂ ایمان سے بھر پور ہوکر رضائِ الٰہی حاصل کرنے کی غرض سے عبادت کے لئے رات کو بیدا ہوا تو جو گناہ اُس کے ہوچکے ہوں گے اُن کی مغفرت کی جائے گی۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالکؒ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن سے، حمید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جذبہ ایمان سے بھر پور ہو کر رضائِ الٰہی حاصل کرنے کی غرض سے رمضان میں عبادت کے لئے رات کو بیدار ہوا تو جو گناہ اُس کے پہلے ہو چکے ہوں گے اُن کی مغفرت کی جائے گی۔ ابن شہاب نے کہا: رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے اور دستور یہی تھا۔ پھر حضرت ابوبکر کی خلافت میں یہی دستور رہا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں بھی۔
اور (مالک نے) ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے عبدالرحمن بن عبد قاری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رمضان کی ایک رات میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ الگ الگ گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی شخص اپنے طور پر اکیلے نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی شخص ایسے طور پر نماز پڑھ رہا ہے کہ اُس کی اِقتداء میں چند ایک لوگ نماز پڑھ رہے ہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ اگر اُن کو ایک ہی قاری کی اِقتداء میں اکٹھا کردوں تو یہ بہتر ہوگا۔ پھر انہوں نے پختہ اِرادہ کرلیا اور حضرت ابی بن کعبؓ کی اِقتداء میں انہیں اکٹھا کردیا۔ پھر آپؓ کے ساتھ میں ایک اور رات نکلا اور لوگ اپنے قاری کی اِقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ کیا اچھی جدّت ہے۔ اور رات کا وہ حصہ جس میں یہ لوگ سوئے ہوتے ہیں اُس حصہ سے افضل ہے جس میں نماز پڑھتے ہیں یعنی رات کا پچھلا حصہ افضل ہے اور لوگ شروع ہی رات میں تراویح پڑھ لیتے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ رمضان میں نماز (تراویح) پڑھی۔
اور یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی، (کہا:) عروہ (بن زبیر) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات بوقت نصف شب نکلے اور مسجد میں نماز پڑھی اور آپؐ کی اِقتدا میں کچھ مردوں نے بھی پڑھی۔ لوگ صبح اُٹھے تو انہوں نے یہ سن کر ایک دوسرے کو بتایا تو (دوسری رات) لوگ اور زیادہ جمع ہو گئے اور آپؐ نے نماز پڑھی تو انہوں نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگ صبح اُٹھے تو لوگوں میں اور چرچا ہوا تو تیسری رات مسجد میں جمع ہونے والے بہت زیادہ ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نکلے اور نماز پڑھی تو انہوں نے بھی آپؐ کی اِقتدا میں نماز پڑھی۔ جب چوتھی رات ہوئی تو (لوگوں کا اِس قدر اَنبوہ ہوا) کہ نمازی مسجد میں سما نہ سکے۔ (مگر اُس رات آپؐ نماز تراویح کے لئے نہ نکلے یہاں تک کہ صبح ہو گئی) اور جب آپؐ صبح کی نماز کے لئے نکلے اور فجر کی نماز پڑھا چکے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور تشہد پڑھا۔ پھر اُس کے بعد فرمایا: تمہاری موجودگی مجھ سے پوشیدہ نہ تھی لیکن میں ڈرا کہ تم پر یہ نماز فرض نہ کردی جائے اور تم اِس کی ادائیگی میں عاجز آجاؤ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اور پہلا دستور ہی رہا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز رمضان میں کیسی تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ آپؐ رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت نماز سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے اور اُن کی خوبی اور لمبائی کے متعلق نہ پوچھ۔ پھر چار رکعت پڑھتے اور اُن کی خوبی اور لمبائی کے متعلق نہ پوچھ۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ میں نے (ایک بار آپؐ سے) عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا آپؐ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا: عائشہؓ ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔
(تشریح)