بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 11 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا: یہ بات ہمیں یاد ہے یعنی زہری سے سن کر انہوں نے یاد رکھا۔ زہری نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو بجذبہ ایمان رضائِ الٰہی کی غرض سے ماہ رمضان میں روزے رکھے تو اُس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں اُن کی مغفرت کی جائے گی اور جو لیلۃ القدر میں جوش ایمان میں رضائِ الٰہی کی غرض سے رات کو اُٹھے تو اُس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں اُن کی مغفرت کی جائے گی۔ سفیان کی طرح سلیمان بن کثیر نے بھی زہری سے روایت کی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کئی لوگوں کو آخری سات راتوں میں لیلۃ القدر خواب میں دِکھائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہاری خوابیں آخری سات راتوں کے متعلق ایک دوسرے سے متفق ہیں۔ پس جس کو اس کی تلاش ہو تو چاہیے کہ وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔
معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعیدؓ (خدری) سے پوچھا اور وہ میرے دوست تھے تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ ہم رمضان کے درمیانی عشرہ (دہاکہ) میں اعتکاف بیٹھے۔ پھر بیسویں روزے کی صبح کو آپؐ (اعتکاف سے) نکلے اور ہمیں مخاطب کیا اور فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھلائی گئی، پھر بھلا دی گئی۔ (راوی کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اُنْسِیْتُھَا کا لفظ استعمال فرمایا یا نُسِّیْتُھَا کا) سو تم آخری عشرے کی طاق رات میں اسے تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پس جس نے اللہ کے رسولؐ کے ساتھ اعتکاف کیا ہو تو وہ لَوٹ آئے۔ چنانچہ ہم لَوٹے اور آسمان میں ہم ابر کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ اِتنے میں اَبر آیا اور برسنے لگا۔ اِتنا برسا کہ مسجد کی چھت بہنے لگی اور وہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہے تھے، یہاں تک کہ آپؐ کی پیشانی میں مَیں نے کیچڑ کا نشان دیکھا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ ابو سہیل نے اپنے باپ (مالک بن ابی عامر) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے آخری دہاکے کی طاق رات میں لیلۃ القدر کی جستجو کرو۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبدالعزیز) بن ابی حازم اور (عبدالعزیز) دراوردی نے بھی مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید (بن ہاد) سے، یزید نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے اُس دہاکے میں جو مہینے کے وسط میں ہوتا ہے، اِعتکاف بیٹھ جاتے تھے اور جب بیس راتیں گزر جاتیں اور شام کی گھڑی ہوتی اور اکیسویں رات شروع کرتے تو آپؐ اپنے گھر میں لَوٹ آتے اور وہ (صحابہ) بھی لَوٹ آتے جو آپؐ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے۔ ایک رمضان میں ایسا ہوا۔ آپؐ جس رات کو لَوٹ آتے تھے، اُس رات اعتکاف ہی میں رہے اور آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور اللہ نے جو چاہا آپؐ نے اُن سے فرمایا، پھر کہا: میں اس دہاکے میں معتکف ہوا کرتا تھا۔ پھر معلوم ہوا کہ اس آخری دہاکے میں اعتکاف کیا کروں۔ پس جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو تو چاہیے کہ وہ اپنے اعتکاف ہی میں رہے اور آج رات مجھے لیلۃ القدر دِکھائی گئی۔ پھر وہ مجھے بھلا دی گئی۔ سو اَب تم آخری دہاکے میں اُس کی جستجو کرو اور ہر طاق رات میں ڈھونڈ و اور میں نے اپنے تئیں دیکھا کہ میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں تو اُس رات مینہ برسا کہ مسجد کی چھت اُس جگہ سے ٹپکی جہاں رسول اللہ ﷺ کی جائے نماز تھی۔ یہ اکیسویں رات کو ہوا جو میری آنکھوں نے مشاہدہ کیا۔ میں نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ صبح کو لَوٹے ہیں اور حالت یہ تھی کہ آپؐ کا چہرہ کیچڑ اور مٹی سے بھرا ہوا تھا۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا کہ ہشام (بن عروہ) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تم (لیلۃ القدر کی) جستجو کرو۔
نیز محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دہے میں مسجد میں گوشہ نشین ہوا کرتے (یعنی اعتکاف بیٹھا کرتے) تھے اور فرماتے: رمضان کے آخری دہے میں لیلۃ القدر کی جستجو کرو۔
موسیٰ بن اِسماعیل (تبوذکی) نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا کہ ایوب (سختیانی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: رمضان کے آخری دہاکے میں اسے تلاش کرو یعنی لیلۃ القدر کو۔ نویں رات میں جو باقی رہے۔ ساتویں رات میں جو باقی رہے۔ پانچویں رات میں جو باقی رہے۔
عبداللہ بن ابی اسود نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ عاصم (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابومجلز (لاحق بن حمید) اور عکرمہ سے روایت کی۔ اُن دونوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ آخری دہا کے میں ہے، جب نو راتیں گزر جائیں یا سات راتیں باقی رہیں۔ عبدالوہاب نے ایوب اور خالد سے نقل کیا ہے کہ عکرمہ سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ چوبیسویں رات کو تلاش کرو یعنی لیلۃ القدر۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد بن حارث نے مجھے بتایا۔ حمید (طویل) نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت انسؓ نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ باہر آئے تا ہمیں لیلۃ القدر کی بابت بتائیں تو مسلمانوں میں سے دو شخص ایک دوسرے کو سخت سُست کہہ رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میں نکلا تھا کہ لیلۃ القدر سے متعلق تمہیں خبر دوں تو فلاں اور فلاں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو (میرے ذہن سے خبر) اُٹھ گئی اور ہو سکتا ہے کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہو۔ اس لئے تم اسے نویں، ساتویں اور پانچویں (رات) کو تلاش کرو۔