بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے شقیق سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے کہا: نبی ﷺ نے کچھ مال تقسیم کیا ویسے ہی جیسا کہ آپؐ تقسیم کیا کرتے تھے تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم یہ تو ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مندی نہیں چاہی گئی۔ میں نے کہا: میں تو یہ بات نبی ﷺ سے ضرور کہوں گا۔ چنانچہ میں آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ اپنے صحابہ میں بیٹھے تھے۔ میں نے آپؐ سے چپکے سے یہ بات کہی۔ نبی ﷺ کو یہ بات بہت شاق گزری اور آپؐ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور رنجیدہ ہوئے۔ آپؐ کو ایسا رنج پہنچا کہ میں نے آرزو کی کاش کہ میں نے آپؐ کو نہ بتایا ہوتا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: موسیٰؑ کو بھی اس سے زیادہ ستایا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ مسلم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: نبی ﷺ نے ایک کام کیا، لوگوں کو بھی اس کے کرنے کی اجازت دی۔ بعض لوگوں نے اس سے پرہیز کیا۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی۔ آپؐ نے ان کو مخاطب کیا، اللہ کی تعریف کی پھر فرمایا: بعض لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کام کے کرنے سے بالا سمجھتے ہیں کہ جس کو میں کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں ان سے بڑھ کر اللہ کو جانتا ہوں اور ان سے زیادہ اس سے خشیت کرتا ہوں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ شعبہ نے قتادہ سے روایت کی کہ میں نے عبداللہ سے جو کہ حضرت انسؓ کے غلام ابوعتبہ کے بیٹے تھے سنا۔ عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم کیا کرتے تھے جو اپنے پردے میں رہتی ہے۔ جب آپؐ کسی ایسی چیز کو دیکھتے کہ آپؐ اس سے نفرت کرتے تو ہم یہ (نفرت) آپؐ کے چہرے سے پہچان لیتے۔
محمد (بن یحيٰ ذہلی) اور احمد بن سعید (دارمی) نے ہم سے بیان کیا کہ ان دونوں نے کہا: عثمان بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مبارک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے یوں کہے: اے کافر۔ تو پھر اُن میں سے ایک نے اپنے کفر کا اقرار کر لیا۔ اور عکرمہ بن عمار نے یحيٰ سے نقل کیا۔ یحيٰ نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی کہ انہوں نے ابوسلمہ سے سنا۔ ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے یہی روایت کی۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بھی اپنے بھائی سے کہا: اے کافر۔ تو اُن میں سے ایک نے یقیناً اس کفر کا اقرار کر لیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ایوب (سختیانی) نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت ثابت بن ضحاکؓ سے، حضرت ثابتؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی۔ پھر وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا۔ اور جس نے اپنے تئیں کسی چیز سے مار ڈالا تو اس کو جہنم کی آگ میں اس چیز سے سزا دی جائے گی۔ اور مؤمن پر لعنت کرنا ایسا ہی ہے جیسا اس کو مار ڈالنا۔ اور جس نے مؤمن پہ کفر کا الزام لگایا۔ یہ بھی ایسا ہی ہے جیسا اس نے اُسے قتل کیا۔
محمد بن عبادہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید نے ہمیں بتایا۔ سلیم (بن حیان) نے ہمیں خبر دی۔ عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر اپنی قوم میں آ کر ان کو نماز پڑھاتے۔ ایک دفعہ (ان کو نماز پڑھاتے ہوئے) سورۂ بقرہ پڑھی۔ (حضرت جابرؓ) کہتے تھے: ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر مختصر سی نماز پڑھ لی۔ حضرت معاذؓ کو یہ علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ وہ منافق ہے۔ اس شخص کو یہ خبر پہنچی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! ہم ایسے لوگ ہیں کہ جو اپنے ہاتھوں سے محنت کرتے ہیں اور اپنے اونٹوں پر پانی لاتے ہیں۔ اور حضرت معاذؓ نے ہمیں گزشتہ رات نماز پڑھائی تو انہوں نے سورۂ بقرہ پڑھی۔ میں نے الگ (مختصر سی نماز) پڑھی اور حضرت معاذؓ نے کہا: میں منافق ہوں۔ نبی ﷺ نے تین بار فرمایا: معاذ! کیا تم ابتلاء میں ڈالنے والے ہو؟ وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى اور ایسی سورتیں پڑھا کرو۔
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوالمغیرہ (عبدالقدوس بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ زُہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تم میں سے قسم کھائی اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کا نام لیا۔ پھر چاہیئے کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کرے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ میں تم سے جؤا کھیلوں تو وہ صدقہ دے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ایک قافلے میں جاتے ہوئے ملے اور وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے پکار کر فرمایا: دیکھو اللہ نے تمہیں اپنے باپ دادا کی قسمیں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ جس نے قسم کھانی ہو تو چاہیئے کہ وہ اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔
یسرہ بن صفوان نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور گھر میں ایک پردہ تھا جس میں کچھ صورتیں تھیں۔ انہیں دیکھ کر آپؐ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر آپؐ نے پردہ کو لیا اور اس کو پھاڑ ڈالا۔ وہ بیان کرتی تھیں: نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز جن لوگوں کو سخت سزا دی جائے گی اُن میں سے وہ بھی ہیں جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔
(تشریح)