بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
ابونعیم فضل بن دُکین نے ہمیں بتایا کہ ابن عیینہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبیﷺ نے اپنا سر رکوع سے اُٹھایا تو دعا کی: اے اللہ! ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ اور وہ مؤمنین جنہیں مکہ میں کمزور سمجھا جاتا ہے نجات دے۔ اے اللہ! مضر کو سختی سے روند دے۔ اے اللہ! اُن کے لئے اُن کے سالوں کو ایسے سال بنا دے جو یوسفؑ کے سال جیسے ہوں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی، کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائش! یہ جبریلؑ ہیں۔ تمہیں سلام کہتے ہیں۔ میں نے کہا: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ۔ فرماتی تھیں: اور آپؐ وہ کچھ دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت اُم سُلیمؓ بھی اُن عورتوں میں تھیں جو اُونٹوں پر جا رہی تھیں اور انجشہ نبی ﷺ کا غلام ان اونٹوں کو چلا رہا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: انجش! آہستہ آہستہ۔ تم شیشوں کو لے جا رہے ہو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالتیاح سے، ابوالتیاح نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سب لوگوں سے اخلاق میں اچھے تھے۔ اور میرا ایک بھائی تھا جسے ابوعمیر کہتے تھے۔ (حضرت انسؓ) کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ جس نے ابھی دودھ چھوڑا تھا۔ جب وہ آتا آپؐ فرماتے: ابوعمیر! وہ چڑیا نغیر کیسی ہے؟ نُغر ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا۔ کبھی نماز کا وقت آجاتا اور اس وقت آپؐ ہمارے گھر میں ہی ہوتے تو آپؐ اس چٹائی کے متعلق جو آپؐ کے نیچے ہوتی حکم دیتے جسے جھاڑ کر دھو دیا جاتا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوتے اور ہم بھی آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان نے ہمیں بتایا، کہا: ابوحازم نے مجھ سے بیان کیا۔ ابوحازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ناموں میں سے سب سے پیارا نام ان کو ابوتراب تھا اور وہ بہت ہی خوش ہوا کرتے تھے جو اُنہیں اس نام سے پکارا جاتا۔ اور نبی ﷺ نے ہی اُن کا نام ابوتراب رکھا۔ ایک دن وہ حضرت فاطمہؓ سے ناراض ہو کر باہر چلے آئے اور مسجد میں دیوار کے ساتھ لگ کر لیٹ گئے۔ اتنے میں نبی ﷺ آئے اور ان کے پیچھے گئے۔ کسی نے کہا: وہ یہ دیوار کے ساتھ لیٹے ہوئے ہیں۔ نبی ﷺ اُن کے پاس آئے اور ان کی پیٹھ مٹی سے بھر گئی تھی تو نبی ﷺ اُن کی پیٹھ سے مٹی پونچھنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: ابوتراب! اُٹھ بیٹھو۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک نہایت گھنَونا نام اُس شخص کا ہے جو اپنا نام شہنشاہ رکھواتا ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے (یوں) کہا: نہایت ہی ذلیل نام اللہ کے نزدیک۔ اور سفیان نے کئی بار (یوں) کہا: نہایت ہی ذلیل نام اللہ کے نزدیک اس شخص کا ہے جو مَلِک الْأَمْلَاک کہلاتا ہے۔ سفیان نے کہا کہ دوسرے راوی کہتے ہیں: اس کے معنی ہیں شہنشاہ۔
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ اور اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے محمد بن ابی عتیق سے، محمد نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے اُنہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی چادر پڑی تھی اور حضرت اُسامہؓ آپؐ کے پیچھے بیٹھے تھے۔ آپؐ بنی حارث بن خزرج کے محلے میں حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کو جا رہے تھے۔ یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے۔ وہ دونوں چلے گئے۔ اتنے میں وہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن اُبیّ ابن سلول بھی تھا اور یہ پیشتر اس کے ہے کہ عبداللہ بن ابی مسلمان ہوا۔ تو کیا دیکھا اس مجلس میں مسلمان اور مشرک بت پرست اور یہود ملے جلے لوگ تھے۔ اور مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ جب جانور کی گرد مجلس پر پڑنے لگی تو ابن اُبیّ نے اپنی چادر سے اپنی ناک ڈھانک لی اور کہا: ہم پر گرد مت اُڑاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے اُن کو السلام علیکم کہا۔ پھر ٹھہر گئے اور نیچے اُتر آئے۔ آپؐ نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن پڑھا۔ عبداللہ بن اُبیّ ابن سلول سن کر کہنے لگا: آدمی جو تم کہتے ہو اُس سے بہتر اور کوئی بات نہیں۔ اگر یہ حق ہے تو پھر ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں اس سے نہ ستایا کرو۔ جو تمہارے پاس آئے اُنہی کو یہ قصے سنایا کرو۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے کہا: نہیں یا رسول اللہ! بلکہ آپؐ ہماری مجلسوں میں آیا کریں کیونکہ ہم یہ باتیں پسند کرتے ہیں۔ اس پر مسلمان، اور مشرک اور یہود نے ایک دوسرے کو گالیاں دینی شروع کیں یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے۔ رسول اللہ ﷺ اُن کے جوش کو دھیما کرتے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے جانور پر سوار ہو کر چلے گئے اور حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سعد! تم نے نہیں سنا جو ابوحباب نے کہا؟ یعنی عبداللہ بن اُبیّ نے۔ اُس نے ایسا ایسا کہا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے (سن کر) کہا: یا رسول اللہ میرے باپ آپؐ پر قربان۔ اسے معاف فرمائیں اور اس سے درگزر کریں۔ اُس ذات کی قسم جس نے آپؐ پر کتاب نازل کی۔ اللہ اس حق کو لے آیا ہے جو اُس نے آپؐ پر نازل کیا۔ اس بستی کے لوگوں نے یہ ٹھہرا لیا تھا کہ اس کو (یعنی عبداللہ بن اُبیّ کو) تاج پہنائیں اور اس کے سر پر سرداری کا عمامہ باندھیں۔ جب اللہ نے اسے اُس حق کی وجہ سے جو اُس نے آپؐ کو دیا منظور نہ کیا تو اس سے اس کا گلا گھٹ گیا۔ یہی وجہ ہے جو اُس نے کیا ہے جو آپؐ نے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے درگزر کیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے درگزر کیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ نے انہیں حکم دیا۔ اور اُن کی ایذا دہی پر صبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں (تم سے پہلے) کتاب دی گئی تھی (بہت دکھ دینے والا کلام) سنو گے۔ اور فرمایا: اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ چاہتے ہیں (کہ تمہیں پھر کافر بنا دیں) تو رسول اللہ ﷺ ان احکام کے مطابق جو اللہ نے آپؐ کو دئیے تھے ان سے عفو فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپؐ کو ان کے متعلق اجازت دی۔ جب رسول اللہ ﷺ بدر میں جنگ کے لئے گئے اور اللہ نے کفار کے جن سرکردہ لوگوں اور قریش کے سرداروں کو وہاں قتل کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہ غالب ہو کر اپنے ساتھ کفار کے سرکردہ اور قریش کے سرداروں کو قید میں کئے ہوئے واپس لوٹے تو ابن اُبیّ ابن سلول اور جو اُس کے ساتھ مشرک بت پرست تھے کہنے لگے: یہ کام تو اَب بہت بڑا ہو گیا ہے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اسلام پر بیعت کرلی اور وہ مسلمان ہوگئے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالملک نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، عبداللہ نے حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ نے ابوطالب کو کچھ فائدہ پہنچایا؟ کیونکہ وہ آپؐ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپؐ کی خاطر ناراض ہوا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ وہ ٹخنوں تک آگ میں ہیں۔ میں اگر نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت بنانی سے، ثابت نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ اپنے ایک سفر میں جا رہے تھے تو اُونٹ کے چلانے والے نے حداء اونٹ کے چلانے کے گیت پڑھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انجشہ افسوس! ان شیشوں پر رحم کرو۔