بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
عمرو بن عباس نے مجھے بتایا کہ محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی کہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے اعلانیہ طور پر سنا، پوشیدگی میں نہیں۔ آپؐ فرماتے تھے کہ ابی (فلاں) کا خاندان۔ عمرو (بن عباس) کہتے تھے: محمد بن جعفر کی کتاب میں ابی کے بعد جگہ خالی تھی۔ وہ میرے عزیز نہیں، میرے عزیز تو اللہ اور نیک مؤمن ہیں۔ عنبسہ بن عبدالواحد نے بیان (بن بشر) سے، بیان نے قیس سے، قیس نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ مگر ان کا ایک رشتہ ہے جسے میں جوڑے رکھتا ہوں اسی سلوک سے جو اس کے ساتھ کرنے کا حق ہے۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش اور حسن بن عمرو اور فطر (بن خلیفہ) سے، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کی۔ سفیان کہتے تھے کہ اعمش نے اس حدیث کو نبی ﷺ تک نہیں پہنچایا اور حسن اور فطر نے اسے نبی ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ ہی ادا کرتا ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب اُس سے تعلق توڑ دیا جائے تو وہ اس کو جوڑے۔
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت حکیم بن حزامؓ نے ان کو بتایا کہ حکیمؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ کام تھے جنہیں میں زمانہ جاہلیت میں نیکی سمجھ کر کیا کرتا تھا۔ یعنی صلہ رحمی اور بردہ آزاد کرنا اور خیرات کرنا۔ کیا مجھے ان کا بھی کچھ اجر ملے گا؟ حضرت حکیمؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم انہی نیکیوں کی وجہ سے مسلمان ہوگئے ہو جو تم سے پہلے ہو چکیں۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ أَتَحَنَّثُ (کا لفظ) ابو الیمان سے منقول ہے، اور معمر اور صالح اور ابن مسافر نے کہا: أَتَحَنَّثُ، ابن اسحاق نے کہا: تحنث کے معنی ہیں نیکی کرنا اور ہشام نے بھی اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے انہی کی طرح روایت بیان کی۔
حبان (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن سعید سے، خالد نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت اُم خالد بنت خالد بن سعیدؓ سے روایت کی۔ کہتی تھیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے باپ کے ساتھ آئی اور میں ایک زرد قمیص پہنے ہوئے تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واہ واہ کیا اچھی ہے۔ عبداللہ نے کہا کہ سَنَہْ حبشی زبان میں اچھی کو کہتے ہیں۔ کہتی تھیں: میں نبوت کی مہر کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے باپ نے مجھے جھڑکا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے رہنے دو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یوں دعا کی: دیر تک پہنتی رہو پھر دیر تک پہنتی رہو۔ تین دفعہ فرمایا۔ عبداللہ کہتے تھے: وہ زندہ رہی۔ یہاں تک کہ ان کی (لمبی) عمر کا انہوں نے ذکر کیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ مہدی نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد بن عبداللہ) ابن ابی یعقوب نے ہم سے بیان کیا۔ ابن ابی یعقوب نے (عبدالرحمٰن) ابن ابی نعم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمرؓ کے پاس موجود تھا جبکہ ایک شخص نے مچھر کا خون کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کن لوگوں سے ہو؟ اس نے کہا: اہل عراق سے۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: اس شخص کو دیکھو کہ مجھ سے مچھر کے خون کے متعلق پوچھتا ہے حالانکہ انہوں نے نبی ﷺ کے بیٹے کو مار ڈالا اور میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: وہ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے کہا: مجھے عبداللہ بن ابوبکر نے بتایا کہ عروہ بن زبیر نے ان کو خبر دی۔ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ نے ان کو بتایا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی اس کے ساتھ دو بیٹیاں تھیں۔ وہ مجھ سے مانگنے لگی مگر میرے پاس سوائے ایک کھجور کے کچھ نہ پایا۔ میں نے اس کو وہی دے دی تو اس نے اس کھجور کو اپنی دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم کیا پھر اُٹھ کر باہر چلی گئی۔ اتنے میں نبی ﷺ آئے اور میں نے آپؐ سے یہ حال بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص بھی ان بیٹیوں میں سے کسی کا سرپرست ہو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو یہ اس کے لئے آگ سے بچاؤ ہوں گی۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن سلیم نے ہمیں بتایا کہ ابو قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ہمارے پاس باہر آئے اور اُمامہ بنت ابی العاص آپؐ کے کندھے پر تھی۔ آپؐ نے نماز پڑھی۔ جب آپؐ رکوع کرتے تو اس کو نیچے رکھ دیتے اور جب سر اُٹھاتے تو اس کو اُٹھا لیتے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علیؓ کو بوسہ دیا اور آپؐ کے پاس اَقرع بن حابس تمیمی بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرعؓ نے یہ دیکھ کر کہا: میرے دس بچے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو بھی کبھی بوسہ نہیں دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا پھر فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپؐ بچوں کو پیار دیتے ہیں۔ ہم تو کبھی پیار نہیں دیتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہارے لئے کچھ کر سکتا ہوں؟ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت کو نکال لیا ہو۔
(ابن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ ابوغسان (محمد بن مطرف) نے ہم سے بیان کیا۔ ابو غسان نے کہا: زید بن اسلم نے مجھ سے بیان کیا۔ زید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے۔ کیا دیکھا کہ ان قیدیوں میں ایک عورت ہے جس کے پستان سے دودھ اس وجہ سے پھوٹ پڑا کہ وہ کسی بچے کو دودھ پلایا کرتی تھی۔ جب بھی وہ ان قیدیوں میں کسی بچے کو پاتی تو اُسے لے لیتی اور اپنے پیٹ سے اسے لگا لیتی اور اس کو دودھ پلاتی۔ نبی ﷺ نے یہ دیکھ کر ہم سے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے کہا: جب تک وہ اس کو آگ میں نہ ڈالنے کی طاقت رکھے گی، ہرگز نہیں (ڈالے گی) تو آپؐ نے فرمایا: اللہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ عورت اپنے بچے پر۔