بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
عمر بن حفص (بن غیاث) نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے معرور سے جو سُوَید کے بیٹے ہیں، معرور نے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذرؓ کو دیکھا کہ وہ ایک بُر دار چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی ویسی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ میں نے کہا: اگر تم یہ لے لیتے اور اس کو پہنتے تو یہ ایک جوڑا ہوتا اور اُسے کوئی اور کپڑا دیتے تو انہوں نے کہا: میرے اور کسی اور آدمی کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی اور اس کی ماں عجمی تھی۔ میں نے اس کی ماں کو گالی دی تو اُس نے نبی ﷺ سے میرے متعلق شکایت کی۔ آپؐ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے فلاں کو گالی دی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اُس کی ماں کو بُرا کہا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو ایسے آدمی ہو کہ تم میں ابھی تک جاہلیت ہے۔ میں نے کہا: بہت بڑھاپے کی وجہ سے میں اب تک ایسا ہی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں وہ تمہارے بھائی ہیں۔ ان کو اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ اس لئے جس کے بھائی کو اللہ نے اس کے ماتحت کیا ہو تو چاہیئے کہ وہ اس کو اس کھانے سے کھلائے جو وہ کھاتا ہے اور اس کو اس کپڑے سے پہنائے جو وہ پہنتا ہے اور اس کو اس کام کے کرنے کی تکلیف نہ دے جو اُس کو بے بس کردے۔ اگر اس نے اس کو ایسے کام کی تکلیف دی ہے جو اس کو بے بس کردے تو چاہیئے کہ وہ اس کام میں اس کی مدد کرے۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ہمیں ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر آپؐ نے سلام پھیر دیا۔ پھر آپؐ اُٹھ کر ایک لکڑی کے پاس گئے جو مسجد کے سامنے تھی اور آپؐ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا۔ اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ تھے تو وہ آپؐ کو کہنے سے جھینپے۔ اور لوگوں میں سے جلد باز باہر چلے گئے اور کہنے لگے: کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ اور لوگوں میں ایک شخص تھا، نبی ﷺ اس کو ذوالیدین کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ کہنے لگا: یا نبی اللہ! کیا آپؐ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میں بھولا نہیں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ! بلکہ آپؐ بھول گئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ذوالیدین نے سچ کہا ہے۔ پھر آپؐ کھڑے ہوگئے اور آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ پھر اس کے بعد اللہ اکبر کہا اور آپؐ نے سجدہ کیا ویسے ہی جیسے آپؐ سجدہ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا۔ پھر آپؐ نے اپنا سر اُٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔ پھر آپؐ نے ویسے ہی سجدہ کیا جیسا کہ آپؐ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا۔ اس کے بعد آپؐ نے سر اُٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔
یحيٰ (بن موسیٰ بلخی) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔ وہ طاؤس سے بیان کرتے ہیں۔ طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: انہیں تو سزا دی جا رہی ہے اور کسی بڑی بات پہ انہیں سزا نہیں دی جا رہی۔ یہ جو ہے تو پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور یہ جو ہے تو یہ چغلی کرتا پھرتا تھا۔ پھر آپؐ نے کھجور کی ایک بڑی ٹہنی منگوائی اور اس کو درمیان سے چیر کر دو ٹکڑے کیا۔ ایک کو اِس قبر پر گاڑ دیا اور ایک کو اُس قبر پر۔ پھر فرمایا: شاید جب تک یہ خشک نہ ہو ان سے سزا ہلکی کی جائے۔
(تشریح)قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو اُسید ساعدیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: انصار کے بہتر گھرانے بنو نجار ہیں۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔ میں نے ابن منکدر سے سنا۔ (ابن منکدر نے کہا:) میں نے عروہ بن زبیر سے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی۔ وہ کہتی تھیں: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ آپؐ نے فرمایا: اسے اجازت دو۔ بُرے خاندان کا بھائی ہے یا فرمایا: بُرے خاندان کا بیٹا ہے۔ جب وہ اندر آیا تو آپؐ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے ایسا فرمایا تھا۔ پھر آپؐ نے اُس سے نرمی سے گفتگو کی؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ! بدترین لوگ وہ ہیں جن کو لوگ ان کی بدخلقی سے بچنے کی وجہ سے ترک کر دیں یا (فرمایا:) چھوڑ دیں۔
(محمد) ابن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ عبیدہ بن حُمَید ابو عبدالرحمٰن نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ مدینہ کے باغوں میں سے کسی باغ سے باہر نکلے تو آپؐ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں اپنی قبروں میں سزا دی جارہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں سزا دی جارہی ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں دی جا رہی اور یہ بڑا بھی ہے۔ ان میں سے ایک پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔ پھر آپؐ نے کھجور کی ایک ٹہنی منگوائی اور اس کو دو ٹکڑے کیا یا (کہا) دو پھانکیں کیں اور ایک ٹکڑا اِس قبر میں لگا دیا اور ایک ٹکڑا اُس قبر میں اور فرمایا: شاید جب تک یہ سوکھے نہیں اِن سے سزا ہلکی کی جائے۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے ہمام (بن حارث) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ (بن یمانؓ) کے ساتھ تھے تو اُن سے کسی نے پوچھا۔ ایک شخص حضرت عثمانؓ کو باتیں پہنچاتا ہے۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سعید) مقبری سے، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو جھوٹ بولنا اور فریب کرنا اور جہالت نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ احمد (بن یونس) نے کہا کہ ایک شخص نے مجھے اس حدیث کی سند یاد دلا دی۔
(تشریح)عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ ابو صالح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ کے نزدیک لوگوں میں سے بدترین اُس کو پاؤ گے جو دو رُخا ہے۔ جو اِن کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس ایک منہ۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کچھ مال بانٹا تو انصار میں سے ایک شخص کہنے لگا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی نہیں چاہی۔ (یہ سن کر) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ کا چہرہ متغیر ہوگیا اور فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے۔ ان کو اس سے زیادہ ستایا گیا۔ انہوں نے صبر کیا۔