بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے موسیٰ بن عقبہ نے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب اللہ کسی بندے سے محبت رکھتا ہے تو وہ جبریلؑ کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت رکھتا ہے تم بھی اُس سے محبت رکھو۔ جبریلؑ اس سے محبت رکھتا ہے۔ پھر جبریل آسمان والوں میں پکارتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو تو آسمان والے بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ پھر زمین کے باشندوں میں اس کی قبولیت ڈال دی جاتی ہے۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: آدمی کوئی بھی ایمان کی حلاوت نہیں پاتا جب تک کہ وہ کسی آدمی سے محبت صرف اللہ ہی کے لئے رکھے۔ اور جب تک کہ آگ میں ڈالا جانا اس کو کفر کی طرف لوٹنے سے زیادہ پیارا ہو، بعد اس کے کہ اللہ نے اس کو کفر سے نجات دی۔ اور جب تک کہ اللہ اور اُس کا رسول اس کو اُن تمام چیزوں سے پیارے نہ ہوں جو اس کے ماسوا ہوں۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن زمعہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی اُن ہواؤں سے ہنسے جو نکلا کرتی ہیں اور فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو ایسے کیوں مارتا ہے جیسے کسی سانڈ کو مارا جاتا ہے۔ پھر شاید اُس کو گلے بھی لگاتا ہے۔ اور ثوری اور وہیب اور ابو معاویہ نے ہشام سے (یوں) روایت کیا، جیسے غلام کو کوڑے لگاتا ہے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ عاصم بن محمد بن زید نے ہمیں خبر دی۔ عاصم نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے منٰی میں فرمایا: تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اُس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ فرمایا: یہ معزز دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: معزز شہر۔ کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: معزز مہینہ۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر اللہ نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لئے ایسی ہی معزز کی ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں معزز ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے روایت کی۔ (منصور نے) کہا: میں نے ابووائل سے سنا۔ ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا گالی دینا فسق ہے اور اس کا لڑنا کفر ہے۔ (سلیمان کی طرح) محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔
ابو معمر (عبداللہ بن عمرو) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسین (بن ذکوان معلم) سے، حسین نے عبداللہ بن بُریدہ سے روایت کی کہ مجھ سے یحيٰ بن یعمر نے بیان کیا کہ ابوالاسود دیلی نے انہیں حضرت ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جو شخص کسی شخص کو فسق سے متہم کرے گا یا اس کو کفر سے متہم کرے گا، اگر جسے متہم کیا گیا ہے ایسا نہیں تو ضرور ہی یہ اُس (متہم کرنے والے) پر لَوٹے گا۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فُلَیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ ہلال بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ ہلال نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نہ بد اَخلاق تھے اور نہ ہی لعنت کرنے والے اور نہ گالیاں دینے والے تھے۔ ناراضگی کے وقت آپؐ اتنا فرمایا کرتے تھے: اسے کیا ہوگیا؟ اس کی پیشانی کو خاک لگے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا۔ علی بن مبارک نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوقلابہ سے روایت کی کہ حضرت ثابت بن ضحاکؓ نے اُن سے بیان کیا اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب (میں داخل ہو جانے) کی جھوٹی قسم کھائی تو پھر وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا۔ اور ابن آدم کے ذمہ ان امور میں نذر لازم نہیں ہوتی جن پر وہ اختیار نہیں رکھتا۔ اور جس شخص نے اپنے تئیں اس دنیا میں کسی چیز سے مار ڈالا اُسے قیامت کے دن اس چیز سے سزا دی جائے گی اور جس نے کسی مؤمن پر لعنت کی تو یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اس نے اس کو مار ڈالا اور جس نے کسی مؤمن پر کفر کا الزام لگایا تو یہ ایسا ہی ہے جیسا اُس نے اس کو مار ڈالا۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: عدی بن ثابت نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلیمان بن صُرَدؓ سے سنا جو نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص تھے۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ کے پاس دو اشخاص نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ ان میں سے ایک کو غصہ آیا اور اُس کو اتنا سخت غصہ آیا کہ اس کا چہرہ پھول گیا اور رنگ متغیر ہو گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: میں ایک کلمہ جانتا ہوں۔ اگر وہ اُسے کہے تو وہ غصہ اس سے دور ہو جائے جسے وہ محسوس کر رہا ہے۔ تو ایک شخص اس کے پاس چلا گیا اور اُسے نبی ﷺ کی بات بتائی اور کہا: شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو تو وہ کہنے لگا: بھلا بتاؤ مجھ میں کوئی روگ ہے؟ کیا میں مجنون ہوں؟ چلے جاؤ۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے روایت کی، کہا: حضرت انسؓ نے کہا: حضرت عبادہ بن صامتؓ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ باہر آئے کہ لوگوں کو لیلۃ القدر کے متعلق بتائیں۔ اتنے میں مسلمانوں سے دو آدمی ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں نکلا تھا کہ تمہیں بتاؤں کہ اتنے میں فلاں اور فلاں نے آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیں اور وہ ذہن سے اُتر گئی۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہو۔ اس لئے اب اس کو نویں اور ساتویں اور پانچویں رات میں ڈھونڈو۔