بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوحمید ساعدیؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے بنو سلیم کے صدقے وصول کرنے کے لئے ابن لتبیہ کو کارکن مقرر کیا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ نے اس سے حساب لیا تو اس نے کہا: یہ تو تمہارا ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہے کہ تمہارے ہدیے تمہارے پاس آتے، اگر تم سچے ہو ؟ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے لوگوں کو مخاطب کیا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: اما بعد میں ان کاموں پر جس کا نگران اللہ نے مجھے بنایا ہے تم میں سے کچھ لوگوں کو مقرر کرتا ہوں تو تم میں کوئی آتا ہے اور کہتا ہے یہ تمہارا ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا کہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا اگر وہ سچا ہے؟ اللہ کی قسم ! تم میں سے جو کوئی بھی ان صدقات میں سے کچھ بھی لے گا، ہشام نے کہا: اپنے حق کے علاوہ، تو ضرور وہ قیامت کے دن اللہ کے پاس اس کو اٹھائے ہوئے لائے گا۔ دیکھو سنو! وہ جو اللہ کے پاس لائے گا میں اسے ضرور پہچان لوں گا، وہ اونٹ لے کر آئے گا جو بلبلا رہا ہو گا یا ایک گائے کو جو بیں بیں کر رہی ہوگی یا ایک بکری کو جو ممیا رہی ہوگی۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنے اونچے اٹھائے کہ میں نے آپؐ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ فرمایا: سنو! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟
(تشریح)اور یہ کہ ہم حکومت کے متعلق اُن لوگوں سے جھگڑا نہیں کریں گے جو اس کے اہل ہیں اور ہم حق پر عمل کریں گے اور حق بات کہیں گے جہاں کہیں بھی کہ ہم ہوں گے۔ اللہ کے لئے ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
اصبغ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ یونس نے مجھ سے بیان کیا۔ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے، اُنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا اور نہ ہی کوئی ایسا خلیفہ بنایا جس کے دو راز دار رفیق نہ ہوں۔ ایک رفیق اس کو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس کی ترغیب دیتا ہے اور ایک رفیق اس کو شر کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس کی ترغیب دیتا رہتا ہے اور معصوم وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بچایا۔ اور سلیمان (بن بلال) نے یحيٰ (انصاری) سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ ابن شہاب نے بھی یہی مجھ کو بتایا اور اُنہوں نے ابن ابی عتیق اور موسیٰ (بن عتبہ) سے روایت کی۔ اُن دونوں نے بھی ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا۔ اور شعیب نے زہری سے نقل کیا کہ ابوسلمہ نے حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے اُن کا یہی قول بیان کیا اور اوزاعی اور معاویہ بن سلام نے کہا کہ زہری نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ اور ابن ابی حسین اور سعید بن زیاد نے ابوسلمہ سے نقل کیا کہ انہوں نے حضرت ابوسعیدؓ سے ان کا یہ قول روایت کیا اور عبیداللہ بن ابی جعفر نے کہا کہ مجھ سے صفوان نے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوایوب سے روایت کی اُنہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ بن سعید سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا : عبادہ بن ولید نے مجھے بتایا کہ میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ اُن کے باپ نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بیعت کی کہ خوشی اور ناخوشی میں سننا اور ماننا ہوگا.
عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن حارث نے ہمیں بتایا۔ حمید نے ہم سے بیان کیا۔ حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک صبح سردی کے وقت باہر آئے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ بھلائی درحقیقت آخرت کی ہی بھلائی ہے۔ اس لئے انصار اور مہاجرین کی کمزوریوں پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر فرما۔ صحابہ نے (یہ سن کر) جواب میں کہا: ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمدؐ سے بیعت کی ہے کہ جب تک ہم زندہ رہیں گے ہمیشہ جہاد کرتے رہیں گے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبداللہ بن دینار سے، اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم جب رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرتے کہ ہم آپؐ کا حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گے تو آپؐ ہم سے یہ کہتے: جہاں تک تم سے ہو سکے۔
مسدّد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: میں اس وقت حضرت ابن عمرؓ کے پاس موجود تھا جب لوگ عبد الملک (کے ہاتھ) پر اکٹھے ہو گئے تھے۔ ابن دینار کہتے تھے کہ اُنہوں نے یہ خط لکھا: میں اللہ کے بندے عبدالملک امیر المؤمنین کا حکم جہاں تک مجھ سے ہو سکا اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق سننے اور ماننے کا اقرار کرتا ہوں اور میرے بیٹوں نے بھی ایسا ہی اقرار کیا ہے۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ سیار نے ہم سے بیان کیا۔ سیار نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے بیعت کی کہ میں سنوں گا اور مانوں گا اور آپؐ نے مجھے یہ سکھایا جہاں تک مجھ سے ہو سکا اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کروں گا۔
عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کرتے ہوئے کہا: عبد اللہ بن دینار نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ان کو لکھا کہ اللہ کے بندے امیر المومنین عبدالملک کا حکم اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جہاں تک مجھ سے ہو سکا سنوں گا اور مانوں گا اور میرے بیٹوں نے بھی یہی اقرار کیا ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یزید بن ابی عبید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلمہ (بن اکوعؓ) سے پوچھا: آپ لوگوں نے حدیبیہ کے دن نبی ﷺ سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ اُنہوں نے کہا: موت پر۔