بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے زہری سے روایت کی کہ حمید بن عبدالرحمٰن نے اُنہیں بتایا کہ حضرت مسور بن مخرمہؓ نے ہمیں خبر دی کہ وہ لوگ جن کو حضرت عمرؓ نے خلافت کے لئے نامزد کیا تھا اکٹھے ہوئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے ان سے کہا: میں ایسا نہیں جو تمہارے مقابلہ میں اس امر کی خواہش کروں لیکن اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے تم میں سے کسی کا انتخاب کروں۔ چنانچہ اُنہوں نے اس فیصلہ کو حضرت عبدالرحمٰنؓ کے حوالہ کیا۔ جب اُنہوں نے اپنا معاملہ حضرت عبدالرحمٰنؓ کے سپرد کردیا تو لوگ حضرت عبدالرحمنؓ کی طرف مائل ہو گئے۔ یہاں تک کہ میں ایک آدمی کو بھی نہ دیکھتا تھا جو ان آدمیوں کے ساتھ جاتا اور نہ کوئی اُن کے پیچھے جاتا تھا اور لوگ حضرت عبدالرحمٰنؓ پر جھک پڑے۔ ان سے راتوں کو مشورے کرنے لگے۔ جب وہ رات ہوئی کہ جس کی صبح کو اُٹھ کر ہم نے حضرت عثمانؓ سے بیعت کی۔ حضرت مسورؓ نے کہا کہ حضرت عبدالرحمٰنؓ کچھ رات گزرنے کے بعد میرے پاس اچانک آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا جس سے میں جاگ پڑا۔ کہنے لگے: میں سمجھتا ہوں کہ تم سوئے ہوئے ہو۔ اللہ کی قسم! میں تو یہ تین راتیں کچھ زیادہ نہ سو سکا۔ چلو زبیرؓ اور سعدؓ کو بلاؤ۔ میں اُن کے پاس انکو بلا لایا اور اُنہوں نے ان دونوں سے مشورہ کیا۔ پھر اس کے بعد مجھے بلایا اور کہا کہ علیؓ کو میرے پاس بلا لاؤ اور میں ان کو بلا لایا۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ اتنی دیر تک ان سے درپردہ باتیں کرتے رہے کہ آدھی رات ہوگئی۔ اس کے بعد حضرت علیؓ ان کے پاس سے اُٹھ کر چلے گئے اور وہ امید رکھتے تھے اور حضرت عبدالرحمٰنؓ حضرت علیؓ سے کچھ ڈرتے بھی تھے۔ پھر اُنہوں نے کہا: حضرت عثمانؓ کو میرے پاس بلا لاؤ اور میں ان کو بلا لایا اور وہ اُن سے درپردہ باتیں کرتے رہے۔ حتی کہ مؤذن نے صبح کی اذان دے کر اُنہیں ایک دوسرے سے الگ کیا۔ جب وہ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا چکے اور یہ گروہ منبر کے پاس جمع ہوگیا تو حضرت عبدالرحمٰنؓ نے جو مہاجرین اور انصار موجود تھے ان کو بلا بھیجا نیر سرداران لشکر کو بھی بلوایا جو اتفاق سے اس حج میں آگئے تھے اور حضرت عمرؓ کے ساتھ اُنہوں نے حج کیا تھا۔ جب سب اکٹھے ہوگئے تو حضرت عبدالرحمٰنؓ نے تشہد پڑھا پھر کہا۔ اما بعد۔ اے علیؓ میں نے لوگوں کے معاملہ میں خوب غور کیا ہے اور مَیں اُنہیں نہیں دیکھتا کہ وہ حضرت عثمانؓ کے برابر کسی کو سمجھتے ہوں اس لئے اب آپ اپنے متعلق (ملامت کی) کوئی راہ نہ نکالیں۔ پھر حضرت عثمانؓ نے کہا: میں آپ سے اللہ کی شریعت اور اس کے رسول اور آپؐ کے بعد دونوں خلیفوں کی سنت کے مطابق بیعت کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر حضرت عبدالرحمٰنؓ نے ان سے بیعت کی اور دوسرے لوگوں مہاجرین اور انصار اور سرداران لشکر اور تمام مسلمانوں نے ان سے بیعت کی۔
(تشریح)ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا انہوں نے یزید بن ابی عبید سے، اُنہوں نے حضرت سلمہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے درخت کے تلے نبی ﷺ سے بیعت کی تھی۔ تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا: سلمہؓ تم نہیں بیعت کرتے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں پہلے بیعت کر چکا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اور دوسری بار بھی۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے محمد بن منکدر سے، اُنہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک بدوی نے رسول اللہ ﷺ کی اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کی۔ پھر اُس کو بخار آنے لگا تو کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیں تو آپؐ نے انکار کیا۔ پھر وہ آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھ سے میری بیعت فسخ کر دیں۔ آپؐ نہ مانے۔ وہ بدوی نکل کر چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو میل باہر پھینک دیتا ہے اور اس کی صاف چیز خالص ہو جاتی ہے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن یزید نے ہمیں بتایا۔ سعید نے جو ابو ایوب کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: ابو عقیل زہرہ بن معبد نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن ہشامؓ سے روایت کی اور انہوں نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا تھا اور اُن کی ماں حضرت زینب بنت حمیدؓ اُن کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی تھیں۔ اُن کی ماں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اس سے بیعت لیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ چھوٹا ہے اور آپؐ نے اُن کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اُن کے لئے دعا کی۔ اور حضرت عبداللہ بن ہشامؓ اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے۔
(تشریح)عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے محمد بن منکدر سے، ابن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کی۔ پھر اس بدوی کو مدینہ میں ہی بخار آنے لگا۔ تو وہ بدوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ! میری بیعت صبح کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے انکار کیا۔ پھر وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیں۔ آپ نے نہ مانا۔ پھر وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیں۔ تب بھی آپ نے نہ مانا۔ اس پر وہ بدوی نکل کر چل دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنی میل کو باہر پھینک دیتا ہے اور اس کی صاف چیز خالص ہو جاتی ہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو حمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین شخص ہیں اللہ قیامت کے دن اُن سے بات نہیں کرے گا اور نہ اُنہیں پاک صاف کرے گا اور اُن کو دردناک سزا ہوگی۔ ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں بچا ہوا پانی ہو مسافر کو اس سے محروم رکھے اور ایک وہ شخص جو امام سے بیعت کرے محض دنیا ہی کی خاطر اُس سے بیعت کر رہا ہو اگر وہ اس کو دے جو چاہتا ہے تو اس سے وفا کرے اور اگر نہ دے تو اس سے وفا نہ کرے اور ایک وہ شخص جو عصر کے بعد کسی آدمی کو کوئی سامان بیچ رہا ہو اور اللہ کی قسمیں کھائے کہ مجھے تو اس کا اتنا اتنا دیا گیا تھا تو وہ اس کو سچا سمجھ کر اس سامان کو لے لے حالانکہ اسے اس کا اتنا نہیں دیا گیا تھا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی۔ نیز لیث نے کہا: یونس نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوادریس خولانی نے مجھے خبر دی کہ اُنہوں نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا اور ہم اس وقت مجلس میں تھے تم مجھ سے بیعت کرو کہ کسی چیز کو بھی تم اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ گے اور نہ تم چوری کرو گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ ہی اپنی اولاد کو قتل کرو گے اور نہ کوئی تم ایسا بہتان باندھو گے جسے تم دیکھتے بھالتے اپنے سامنے اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو اور معروف بات میں تم نافرمانی نہیں کرو گے۔ سو جس نے تم میں سے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہوگا اور جس نے ان باتوں میں سے کوئی بات کی اور دنیا میں اس کو سزا دے دی گئی تو وہ سزا اس کے لئے کفارہ ہوگئی اور جس نے ان باتوں میں سے کوئی بات کی اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس کو سزا دے چاہے تو معاف کر دے چنانچہ انہی باتوں پر ہم نے آپؐ سے بیعت کی۔
محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپ فرماتی ہیں: نبی ﷺ عورتوں سے اس آیت کے مطابق یعنی اس شرط پر کہ وہ اللہ کا شریک کسی کو قرار نہیں دیں گی۔ زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔ آپ بیان کرتی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا سوائے اس عورت کے جس کے آپؐ مالک ہوتے تھے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب سے، ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے حضرت اُم عطیہؓ سے روایت کی۔ آپ بیان کرتی ہیں: ہم نے نبی ﷺ سے بیعت کی تو آپؐ نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی یعنی اس شرط پر کہ وہ اللہ کا شریک کسی کو قرار نہیں دیں گی۔ اور ہمیں بین کرنے سے روکا۔ (یہ سن کر) ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ کر سکیڑ لیا اور بولیں فلاں عورت نے میری مدد کی تھی اور میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ ادا کروں۔ آپؐ نے کچھ نہیں فرمایا۔ وہ گئی اور پھر لوٹ آئی۔ کسی عورت نے بھی وفا نہ کی مگر اُم سلیمؓ اور اُم علاءؓ اور ابوبسرہؓ کی بیٹی نے جو معاذؓ کی بیوی تھیں۔ یا کہا: ابو سبرہؓ کی بیٹی اور معاذؓ کی بیوی نے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی۔ میں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک بدوی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اسلام پر قائم رہنے کی بیعت مجھ سے لے لیں۔ چنانچہ آپؐ نے اس سے اسلام پر رہنے کی بیعت لی۔ پھر وہ دوسرے دن بخار میں مبتلا ہو کر آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپؐ نے انکار کر دیا۔ جب اس نے پیٹھ پھیری آپؐ نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے وہ اپنی میل باہر پھینک دیتا ہے اور اس کی صاف چیز خالص ہو جاتی ہے۔
(تشریح)