بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 65 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اشعث بن سلیم سے، اشعث نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، معاویہ نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات باتیں کرنے کا حکم دیا اور سات باتوں سے ہمیں منع فرمایا۔ آپؐ نے ہمیں بیمار کی عیادت اور جنازوں کے ساتھ جانے اور چھینک مارنے والوں کے لئے دعا کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے اور عام طور پر ہر کس و ناکس کو سلام کہنے اور مظلوم کی مدد کرنے اور قسم (دے کر مانگنے) والوں کی قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا اور ہمیں سونے کی انگوٹھیاں پہننے اور چاندی کے برتن میں پینے اور ریشمی زین پوشوں پر سواری کرنے اور قسی، ریشم اور دیباج اور استبرق پہننے سے منع فرمایا۔
(تشریح)عمرو بن عباس نے مجھے بتایا کہ عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم ابونضر سے، سالم نے عمیر سے جو حضرت امّ الفضلؓ کے غلام تھے، عمیر نے حضرت امّ الفضلؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کو عرفہ کے دن نبی ﷺ کے روزے کے متعلق شک تھا تو انہوں (حضرت امّ الفضلؓ) نے آپؐ کو دودھ کا پیالہ بھیجا۔ آپؐ نے اس سے پیا۔
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ ابوغسان (محمد بن مطرف) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ مجھے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے بتایا۔ انہوں نے حضرت سہل بن سعد (ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے حضرت ابواُسید ساعدیؓ کو حکم دیا کہ اس کو لانے کے لئے کسی کو بھیجیں تو انہوں نے اس کی طرف کسی کو بھیجا اور وہ آئی اور بنی ساعدہ کے محل میں اتری۔ نبی ﷺ گھر سے نکلے اور اس کے پاس گئے۔ جب اندر پہنچے تو کیا دیکھا کہ ایک عورت ہے جو اپنا سر جھکائے بیٹھی ہے۔ جب نبی ﷺ نے اس سے بات کی تو کہنے لگی: میں آپؐ سے اللہ کی پناہ لیتی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہیں اپنے سے پناہ دی۔ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم جانتی ہو کہ یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ ہیں جو تمہیں پیام نکاح دینے آئے تھے۔ وہ کہنے لگی: تب تو میں اس سعادت سے بدنصیب رہی۔ نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہ اس دن آئے اور بنو ساعدہ کے منڈوے میں بیٹھ گئے پھر فرمایا: سہلؓ ہمیں پانی پلاؤ۔ تو میں ان کے لئے یہ پیالہ لایا اور اس میں میں نے ان کو پانی پلایا۔ یہ کہہ کر حضرت سہلؓ نے ہمارے لئے وہ پیالہ نکالا اور ہم نے اس سے پیا۔ ابوحازم کہتے تھے کہ پھر اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز نے وہ پیالہ ان سے مانگا اور حضرت سہلؓ نے وہ انہیں دے دیا۔
حسن بن مدرک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یحيٰ بن حماد نے مجھ سے بیان کیا۔ ابوعوانہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عاصم اَحول سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ کے پاس نبی ﷺ کا پیالہ دیکھا اور وہ تڑخ گیا تھا تو انہوں نے اس کو چاندی کی تار سے جوڑ لیا تھا۔ عاصم کہتے تھے اور وہ پیالہ اچھا چوڑا عمدہ لکڑی کا بنا ہوا تھا، کہتے تھے۔ حضرت انسؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس پیالے میں اتنی اتنی بار سے بھی زیادہ پلایا۔ عاصم کہتے تھے اور ابن سیرین نے کہا: اس میں لوہے کا کنڈا بھی تھا تو حضرت انسؓ نے چاہا کہ اس کی جگہ سونے یا چاندی کا کنڈا لگا دے مگر حضرت ابوطلحہؓ نے ان سے کہا کہ کوئی ایسی چیز ہرگز نہ بدلانا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنائی تھی تب انہوں نے اسے رہنے دیا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے کہا کہ مجھے سالم بن ابی الجعد نے بتایا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے ساتھ اپنے تئیں دیکھا اور اس وقت عصر کی نماز کا وقت آچکا تھا اور ہمارے ساتھ پانی نہ تھا مگر تھوڑا سا بچا ہوا تو وہی برتن میں ڈال دیا گیا اور نبی ﷺ کے پاس وہ لے آئے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا اور اپنی انگلیاں کھول دیں پھر فرمایا: وضو کرنے والو چلے آؤ! اللہ سے برکت ہوگئی۔ میں نے پانی کو دیکھا کہ آپؐ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہا تھا۔ لوگوں نے وضو کیا اور پیا۔ میں نے بھی اپنے پیٹ میں اس کو ڈالنے میں کمی نہیں کی کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ وہ برکت ہے۔ میں نے حضرت جابرؓ سے پوچھا: آپ لوگ اس دن کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: ایک ہزار چار سو۔ (سالم کی طرح) اس حدیث کو عمرو بن دینار نے بھی حضرت جابرؓ سے روایت کیا۔ اور حسین اور عمرو بن مرہ نے بھی سالم سے نقل کیا۔ سالم نے حضرت جابرؓ سے، انہوں نے کہا: پندرہ سو آدمی تھے۔ (اور سالم کی طرح) سعید بن مسیب نے بھی حضرت جابرؓ سے یہی روایت کی ہے۔
(تشریح)