بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مشکوں کے منہ موڑنے سے منع کیا یعنی یہ کہ اس کے منہ موڑ کر ان سے پانی پیا جائے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ مشکوں کے منہ موڑنے سے روکتے تھے۔ عبداللہ (بن مبارک) کہتے تھے کہ معمر یا ان کے سوا کسی اور نے کہا: اس سے مراد ان کے مونہوں سے منہ لگا کر پانی پینا ہے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: عکرمہ نے ہم سے کہا: کیا میں تمہیں چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتاؤں کہ جو ہم سے حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیں؟ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزہ یا مشک کے منہ سے پانی پینا منع فرمایا اور یہ کہ وہ اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل (بن عُلَیّہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے مشک کے منہ سے پینا منع فرمایا۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے مشک کے منہ سے پینا منع فرمایا۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب کوئی تم میں سے پیشاب کرے تو اپنے دائیں ہاتھ سے ذَکَر (شرمگاہ) کو صاف نہ کرے اور جب تم میں سے کوئی استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔
(تشریح)ابو عاصم اور ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: ہمیں عزرہ بن ثابت نے بتایا۔ عزرہ نے کہا: مجھے ثمامہ بن عبداللہ نے بتایا۔ وہ کہتے تھے: حضرت انسؓ برتن سے دو یا تین سانس لے کر پانی پیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ نبی ﷺ تین بار سانس لے کر پیا کرتے تھے۔
(تشریح)حفص بن عمر (حوضی) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم (بن عتیبہ) سے، حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت حذیفہؓ (بن یمان) مدائن میں تھے تو انہوں نے پانی مانگا تو ایک کسان ان کے پاس چاندی کا پیالہ لایا۔ آپؓ نے وہ پیالہ اس پر پھینک دیا اور کہنے لگے: میں نے اسے نہیں پھینکا مگر اس لئے کہ میں نے اس کو منع کیا ہے اور وہ باز نہیں آیا۔ اور نبی ﷺ نے ریشمی کپڑوں اور دیباج اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے ہمیں منع کیا۔ اور فرمایا: یہ چیزیں دنیا میں ان کے لئے ہیں اور وہ آخرت میں تمہارے لئے ہوں گی۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن عون سے، ابن عون نے مجاہد (بن جبر) سے، مجاہد نے (عبدالرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہؓ (بن یمان) کے ساتھ باہر گئے اور حضرت حذیفہؓ نے نبی ﷺ کا ذکر کیا کہ آپؐ نے فرمایا: سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور نہ ریشم اور دیباج پہنو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے زید بن عبداللہ بن عمر سے، زید نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق سے، عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت امّ سلمہؓ نبی ﷺ کی زوجہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پئے گا تو وہ صرف جہنم کی آگ ہی اپنے پیٹ میں غٹا غٹ ڈالتا ہے۔