بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس دنیا میں شراب پی پھر اس نے توبہ نہ کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہ گیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کو جس رات اسراء کروایا گیا تو ایلیا میں لے جایا گیا۔ دو پیالے شراب اور دودھ کے لائے گئے۔ آپؐ نے ان کو غور سے دیکھا پھر دودھ لے لیا۔ جبریلؑ نے کہا: سب حمد اللہ کے لئے ہے جس نے آپؐ کو فطرت کی راہنمائی کی اور اگر آپؐ شراب لے لیتے تو آپؐ کی امت ٹیڑھا راستہ اختیار کرتی۔ (شعیب کی طرح) معمر اور (یزید بن عبداللہ) بن الہاد اور عثمان بن عمر نے زہری سے اس حدیث کو روایت کیا۔
مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ ہشام (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک بات سنی جو تمہیں میرے سوا کوئی نہیں بتائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: اس گھڑی کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ جہالت جابجا پھیل جائے گی اور علم کم ہو جائے گا اور زنا کھلم کھلا ہوگا اور شراب پی جائے گی۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ایک شخص ہی سرپرست ہوگا۔
احمد بن صالح (ابوجعفر) نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور (سعید) بن مسیب سے سنا، وہ دونوں کہتے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: آدمی جب زنا کرتا ہے تو ایسی حالت میں نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو، جب شراب پیتا ہے تو ایسی حالت میں شراب نہیں پیتا کہ وہ مؤمن ہو اور چور جب چوری کرتا ہے تو ایسی حالت میں نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو۔ ابن شہاب نے کہا اور مجھے عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ ابوبکر ان کو یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہوئے بتاتے تھے۔ پھر کہتے تھے کہ ابوبکر ان باتوں کے ساتھ اتنا اور بڑھاتے تھے اور آدمی جو بھی ڈاکہ ڈالتا ہے ایسا کہ لوگ اس میں اپنی نگاہیں اس کی طرف اٹھاتے ہوں تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ مؤمن ہو جب وہ ایسا ڈاکہ ڈالتا ہے۔
(تشریح)حسن بن صباح نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن سابق نے ہمیں بتایا کہ مالک نے جو مغول کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا۔ مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: انگور کی شراب حرام کی گئی اور اس وقت مدینہ میں اس شراب کی کوئی قسم بھی نہ تھی۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابو شہاب عبد ربہ بن نافع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ثابت بنانی سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس وقت ہم پر شراب حرام کی گئی تو اس وقت ہم انگور کی شراب بہت ہی کم پاتے تھے یعنی مدینہ میں۔ اور ہماری عام شراب کچی کھجوروں اور پکی ہوئی کھجوروں کی ہوا کرتی تھی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحیان سے کہ عامر نے ہم سے بیان کیا۔ عامر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ حضرت عمرؓ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اما بعد! شراب کی حرمت نازل ہوئی ہے اور وہ پانچ چیزوں کی ہوتی ہے انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو۔ اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔
اسماعیل بن عبداللہ (اُوَیسی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک بن انس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ میں ابوعبیدہؓ اور ابوطلحہؓ اور اُبَیّ بن کعبؓ کو کچی اور پکی کھجوروں کی شراب پلا رہا تھا۔ اتنے میں ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کی گئی ہے۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: انسؓ اٹھو اور اس کو بہا دو۔ میں نے اس کو بہا دیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان بن طرخان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ ان کے باپ نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں اپنے محلے میں کھڑا اپنے چچاؤں کو کچی کھجوروں کی شراب پلا رہا تھا اور میں ان سب سے چھوٹا تھا۔ اتنے میں کسی نے کہا: شراب حرام کی گئی ہے تو وہ کہنے لگے: اس کو انڈیل دو اور میں نے اس کو انڈیل دیا۔ میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: ان کی شراب کس چیز کی تھی؟ انہوں نے کہا: پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی تھی۔ ابوبکر بن انس کہنے لگے اور یہی ان کی شراب ہوا کرتی تھی تو حضرت انسؓ نے انکار نہیں کیا۔ (سلیمان کہتے تھے:) میرے بعض ساتھیوں نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ کو کہتے سنا: ان دنوں یہی ان کی شراب ہوا کرتی تھی۔
محمد بن ابی بکر مقدمی نے مجھ سے بیان کیا کہ یوسف ابو معشر براء (بن یزید) نے ہمیں بتایا۔ وہ کہتے تھے: میں نے سعید بن عبید اللہ سے سنا۔ سعید نے کہا: بکر بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالکؓ نے ان کو بتایا کہ شراب حرام کی گئی اور ان دنوں شراب کچی کھجوروں اور پکی کھجوروں کی ہوا کرتی تھی۔
(تشریح)