بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 95 hadith
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ عبدالصمد (بن عبدالوارث) نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے واقد بن محمد سے، واقد نے نافع سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عمرؓ اس وقت تک نہیں کھاتے تھے جب تک کہ کسی مسکین کو نہ لایا جاتا جو ان کے ساتھ کھانے میں شریک ہو۔ پھر میں ایک شخص کو اندر لے آیا جو آپؐ کے ساتھ کھائے اور وہ بہت کھا گیا۔ کہنے لگے: نافع اس کو میرے پاس نہ لائیو۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: مؤمن ایک ہی آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن ایک ہی آنت میں کھاتا ہے اور کافر یا (فرمایا) منافق، (عبدہ کہتے ہیں:) میں نہیں جانتا کہ عبیداللہ نے ان دونوں میں سے کون سا لفظ کہا، سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ اور ابن بکیر نے کہا: ہمیں مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ابونہیک بڑا ہی کھانے والا شخص تھا تو حضرت ابن عمرؓ نے اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے۔ (یہ سن کر) وہ بولا: میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔
اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان ایک ہی آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ ایک شخص بہت کھانا کھایا کرتا تھا پھر وہ مسلمان ہوگیا تو تھوڑا کھانا کھایا کرتا تھا۔ نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: مؤمن ایک ہی آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر (بن کدام) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علی بن اقمر سے روایت کی۔ (علی نے کہا:) میں نے ابو جحیفہ (وہب بن عبداللہ سوائی) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تکیہ لگا کر نہیں کھاتا۔
عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے علی بن اقمر سے، علی نے ابو جحیفہ سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا تو آپؐ نے ایک شخص سے فرمایا جو آپؐ کے پاس تھا۔ میں نہیں کھاتا جبکہ میں تکیہ لگائے ہوئے ہوں۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابو اُمامہ بن سہل (بن حنیف) سے، ابو امامہ نے حضرت ابن عباسؓ سے، حضرت ابن عباسؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس بھنی ہوئی گوہ لائی گئی۔ آپؐ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ کھائیں تو آپؐ سے کہا گیا کہ یہ تو گوہ ہے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالدؓ نے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں مگر میری قوم کی زمین میں یہ نہیں ہوتی اس لئے میں اپنے آپ کو اس سے کراہت کرتے ہوئے پاتا ہوں۔ پھر خالدؓ نے کھائی اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔ مالک نے ابن شہاب سے یہ لفظ نقل کئے بِضَبٍّ مَحْنُوْذٍ یعنی بھنی ہوئی گوہ۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری نے بتایا کہ حضرت عتبان بن مالکؓ جو نبی ﷺ کے ان انصاری صحابہ میں سے تھے جو بدر میں شریک ہوئے، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں اپنی بینائی کو کمزور پاتا ہوں اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں جب بارشیں ہوتی ہیں تو وہ نالہ جو میرے اور ان کے درمیان ہے بہنے لگتا ہے۔ میں ان کی مسجد میں نہیں آسکتا کہ اُن کو نماز پڑھاؤں۔ اس لئے میری آرزو ہے یا رسول اللہ کہ آپؐ آئیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں تاکہ میں اس کو نماز گاہ بنا لوں۔ آپؐ نے فرمایا: ان شاء اللہ میں عنقریب آؤں گا۔ حضرت عتبانؓ کہتے تھے: چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ دوسرے دن جبکہ دن بلند ہو چکا تھا، آئے۔ نبی ﷺ نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے آپؐ کو اجازت دی۔ آپؐ گھر میں داخل ہو کر بیٹھے نہیں اور مجھے فرمایا: تم اپنے گھر میں کس جگہ پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔ میں نے آپؐ کو گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی ﷺ کھڑے ہو گئے اور اللہ اکبر کہا۔ ہم نے صفیں باندھ لیں۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا اور ہم نے آپؐ کو خزیرہ کھانے کے لئے، جسے ہم نے تیار کیا تھا، روک رکھا۔ گھر میں محلے والوں میں سے کچھ لوگ جو اچھی تعداد میں تھے اِدھر اُدھر سے آگئے اور جمع ہوگئے تو ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: مالک بن دُخشن ؓ کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: وہ منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: یہ نہ کہو۔ کیا تم اسے دیکھتے نہیں کہ اس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کا اقرار کیا ؟ وہ اس سے اللہ کی رضا مندی چاہتا ہے۔ اس نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ حضرت عتبانؓ کہتے تھے: ہم نے کہا: ہم اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں کے لئے دیکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کا اقرار کیا۔ وہ اس سے اللہ کی رضا مندی چاہتا ہے۔ ابن شہاب نے کہا: میں نے (محمود سے یہ سن کر) حصین بن محمد انصاری سے جو بنو سالم سے تھے محمود کی اس حدیث کے متعلق پوچھا اور وہ ان کے بڑے لوگوں میں سے تھے تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید (بن جبیر) سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میری خالہ نے نبی ﷺ کو کچھ سوسمار (گوہ)، پنیر اور دودھ تحفۃً بھیجا اور گوہ آپؐ کے دستر خوان پر رکھی گئی۔ اگر حرام ہوتی تو نہ رکھی جاتی اور آپؐ نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔