بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 95 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم جمعہ کے دن بہت ہی خوش ہوتے۔ ہماری ایک بڑھیا تھی وہ چقندر کی جڑیں لیتی اور ان کو اپنی ایک ہانڈی میں ڈال دیتی اور ان میں جَو کے کچھ دانے بھی ڈال دیتی جب ہم نماز پڑھ چکتے تو اس کو ملنے آتے اور وہ اسے ہمارے سامنے رکھتی۔ اس وجہ سے ہم جمعہ کے دن خوشی مناتے اور کھانا نہ کھاتے اور نہ ہی قیلولہ کرتے مگر جمعہ کے بعد۔ بخدا اس میں نہ چربی ہوتی اور نہ چکنائی۔
(تشریح)عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ حماد (بن زید) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے شانے کی ہڈی کا گوشت کھایا پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
اسی سند سے ایوب (سختیانی) اور عاصم (بن سلیمان اَحول) سے مروی ہے۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ہانڈی سے گوشت کی ہڈی نکالی اور اسے کھایا پھر آپؐ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ عثمان بن عمر نے مجھے بتایا۔ فلیح (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا۔ ابوحازم (سلمہ بن دینار) مدنی نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن ابو قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ ان کے باپ نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے۔
نیز مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ (اُوَیسی) نے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے عبداللہ بن ابی قتادہ سلمی سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں ایک دن نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کے ساتھ ایک منزل میں بیٹھا تھا جو مکہ کے راستے میں تھی اور رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے اترے ہوئے تھے اور سب لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں احرام باندھے نہ تھا۔ انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور میں مشغول تھا اپنی جوتی کو ٹانکے لگا رہا تھا۔ انہوں نے مجھے خبر نہیں دی اور چاہتے تھے کہ کاش میں اس کو دیکھوں۔ میں جو مڑا تو میں نے اس کو دیکھ لیا۔ میں اٹھ کر گھوڑے کے پاس گیا اور اس پر زین کسا اور سوار ہو گیا اور کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا۔ میں نے اُن سے کہا: مجھے کوڑا اور نیزہ پکڑاؤ۔ انہوں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہم تو تمہیں اس کے شکار میں کچھ بھی مدد نہیں دیں گے۔ میں اس سے ناراض ہو گیا اور اُتر کر میں نے ان دونوں کو لیا پھر میں سوار ہو گیا اور اس گورخر پر زور سے حملہ کیا اور اسے زخمی کر ڈالا۔ پھر میں اس کو لایا اور وہ مرچکا تھا۔ تو پھر وہ اس پر آ پڑے اور سب اس کو کھانے لگے پھر اس کے بعد انہوں نے جو اس کو کھایا اس میں شک کرنے لگے اور وہ احرام کی حالت میں تھے۔ ہم چل پڑے اور میں نے اپنے ساتھ اس کا ایک بازو چھپا رکھا اور ہم رسول اللہ ﷺ سے جا ملے اور میں نے آپؐ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ میں نے آپؐ کو وہ بازو دیا اور آپؐ نے اس سے کھایا اور دانتوں سے نوچ کر صاف کر دیا اور آپؐ بھی احرام باندھے ہوئے تھے۔ محمد بن جعفر نے کہا: اور مجھے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابوقتادہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتایا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، وہ کہتے ہیں مجھے جعفر بن عمرو بن امیہ نے بتایا کہ ان کے باپ حضرت عمرو بن امیہ (ضمریؓ) نے ان کو بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ ایک بکری کے شانے سے جو آپؐ کے ہاتھ میں تھا چھری سے کاٹ کاٹ کر لے رہے تھے۔ اتنے میں نماز کے لئے بلائے گئے تو آپؐ نے اس شانے کو اور اس چھری کو جس سے آپؐ گوشت کاٹ رہے تھے رکھ دیا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوحازم (سلمان اشجعی) سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے کبھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا۔ اگر اس کو چاہا تو کھا لیا، اگر ناپسند کیا تو اسے چھوڑ دیا۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابو غسان (محمد بن مطرف لیثی) نے ہمیں بتایا۔ وہ کہتے ہیں ابو حازم (سلمہ بن دینار) نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سہلؓ (بن سعد ساعدی) سے پوچھا: کیا آپ لوگوں نے نبی ﷺ کے زمانہ میں میدہ دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، (ابو حازم نے پوچھا:) آپ لوگ جَو کو چھانتے بھی تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم پھونک کر چھلکا اڑا دیتے تھے۔
ابونعمان (محمد بن فضل عارم سدوسی) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عباس (بن فرو) جُریری سے، عباس نے ابوعثمان (عبدالرحمٰن بن مل) نہدی سے، ابوعثمان نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کے درمیان کھجوریں تقسیم کیں تو آپؐ نے ہر شخص کو سات کھجوریں دیں۔ مجھے بھی آپؐ نے سات کھجوریں دیں۔ ان میں سے ایک کھجور ردّی تھی۔ اور ان میں سے ایک کھجور بھی ایسی نہ تھی جو مجھے اس سے زیادہ پسند آئی ہو، وہ چبانے میں سخت تھی۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا کہ وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے، قیس نے حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے وہ زمانہ دیکھا ہے کہ جب میں نبی ﷺ کے ساتھ سات شخصوں میں سے ساتواں تھا ہمیں کھانے کو سوائے کیکر کے پتوں یا پھلیوں کے کچھ نہ ملتا۔ یہ حالت تھی کہ ہم میں سے ایک اسی طرح مینگنیاں کرتا تھا جیسے بکری کرتی ہے۔ پھر اب بنو اسد مجھے ملامت کرتے اور اسلام کے آداب سکھلاتے ہیں تب تو میں گھاٹے میں رہا اور میری ساری محنت رائیگاں گئی۔