بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
54. A slave or a manumitted slave can lead the Salat (prayer)
باب ۵۴ : إِمَامَةِ الْعَبْدِ وَالْمَوْلَى
غلام اور آزاد شدہ غلام کی امامت
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، (کہا :) یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ ابوتیاح نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت انس (بن مالکؓ) سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: سنو اور فرمانبرداری کرو۔ خواہ ایک ایسا حبشی ہی حاکم بنایا جائے؛ جس کا سر گویا منقّٰی کا دانہ ہے۔
55. If the Imam does not offer the Salat (prayer) perfectly and the followers offer it perfectly
باب ۵۵ : إِذَا لَمْ يُتِمَّ الإِمَامُ وَأَتَمَّ مَنْ خَلْفَهُ
جب امام اپنی نماز پوری نہ کرے اور وہ جو اُس کے پیچھے ہوں پوری کر لیں
56. Offering prayers behind a man who is a victim of Al-Fitan (trials and affections) or a heretic.
باب ۵۶ : إِمَامَةِ الْمَفْتُونِ وَالْمُبْتَدِعِ
فتنہ انگیز اور بدعتی کا امام ہونا
57. To stand on the right side of the Imam on the same line if only two persons (counting the Imam) are offering Salat (prayer) in congregation
باب ۵۷ : يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الإِمَامِ، بِحِذَائِهِ سَوَاءً إِذَا كَانَا اثْنَيْنِ
جب دو ہی ہوں تو ( مقتدی) امام کے دائیں طرف اس کے پہلو میں برابر کھڑا ہو
58. If a man stood on the left side of the Imam and the Imam drew him to his right side, then the Salat of none of them would be invalid
باب ۵۸ : إِذَا قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَسَارِ الإِمَامِ، فَحَوَّلَهُ الإِمَامُ إِلَى يَمِينِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلاَتُهُمَا
جب آدمی امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اس کو پھیر کر دائیں طرف لے آئے تو ان دونوں کی نماز فاسد نہیں ہوگی
59. If the Imam has not had the intention of leading the prayer and then some persons join him and he leads them
باب ۵۹ : إِذَا لَمْ يَنْوِ الإِمَامُ أَنْ يَؤُمَّ ثُمَّ جَاءَ قَوْمٌ فَأَمَّهُمْ
امام کی نیت نہ ہو کہ امامت کرے۔ پھر کچھ لوگ آجائیں تو وہ ان کا امام ہو جائے
60. If the Imam prolongs the Salat (prayer) and somebody has an urgent work or need and so he leaves the congregation and offers Salat alone.
باب ۶۰ : إِذَا طَوَّلَ الإِمَامُ وَكَانَ لِلرَّجُلِ حَاجَةٌ فَخَرَجَ فَصَلَّى
جب امام لمبی سورۃ شروع کر دے اور آدمی کو کوئی حاجت ہو تو وہ باہر چلا جائے اور نماز پڑھے
61. The shortening of the Qiyam (standing) by the Imam[in Salat (prayer)] but performing the bowings and the prostrations perfectly
باب ۶۱ : تَخْفِيفِ الإِمَامِ فِي الْقِيَامِ وَإِتْمَامِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
قیام میں امام کا اختصار سے کام لینا اور رکوع و سجود اطمینان کے ساتھ ادا کرنا
فضل بن سہل نے ہم سے بیان کیا، کہا: حسن بن موسیٰ اَشْیَب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرحمن بن عبد اللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (یہ امام) تم کو نماز پڑھاتے ہیں۔ اگر ٹھیک پڑھیں گے تو تمہیں ثواب ہوگا اور اگر غلطی کریں گے تو بھی تمہیں ثواب ہوگا اور اُن کو وبال۔
ابو عبداللہ نے کہا اور محمد بن یوسف نے ہم سے کہا اور اَوزاعی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) زُہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید بن عبدالرحمن سے، حمید نے عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت کی کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہٗ کے پاس گئے اور وہ محصور تھے اور کہا کہ آپؓ تو مسلمانوں کے امام ہیں اور جو مصیبت آپؓ پر آپڑی ہے وہ ہم دیکھ رہے ہیں اور فتنہ کا سرغنہ ہمیں نماز پڑھاتا ہے اور یہ ہم پر شاق ہے تو انہوں نے کہا: نماز ہی سب سے بہتر عمل ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ اس لئے جب لوگ اچھا کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو۔ اور زبیدی نے کہا: زہری کہتے تھے کہ ہماری رائے نہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ سوائے اس کے کہ کوئی ایسی مجبوری ہو کہ جس سے کوئی چارہ نہیں۔
محمد بن ابان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) غندر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابو تیاح سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوذرؓ سے فرمایا: سنو اور فرمانبرداری کرو۔ خواہ حبشی کی ہو جس کا سر گویا منقیٰ کا دانہ ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے حکم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے گھر میں ایک رات سویا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آئے اور چار رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ سو گئے۔ پھر اس کے بعد اٹھے۔ میں بھی آیا اور آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے مجھے اپنی دائیں طرف کر دیا۔ آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپؐ کا خراٹہ سنا۔ راوی نے لفظ غَطِیْطَہٗ یا خَطِیْطَہٗ کہا: اس کے بعد آپؐ نماز کے لئے نکلے۔
احمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے عبد ِرَبِّہ ابن سعید سے، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کُریب سے، کُریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے کہ میں (اپنی خالہ) حضرت میمونہؓ کے پاس سویا اور نبی ﷺ اس رات ان کے ہاں تھے۔ آپؐ نے وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور میں بھی آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کیا اور آپؐ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے۔ یہاں تک کہ آپؐ نے سانس لی اور جب سوتے تو گہری سانس لیتے۔ پھر آپؐ کے پاس مؤذن آیا اور آپؐ نے باہر جا کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عمرو نے کہا کہ میں نے بکیر سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے کریب نے اسی طرح بیان کیا تھا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں ایک رات سویا۔ نبی ﷺ اُٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی اُٹھ کر آپؐ کے ساتھ نماز پڑھنے لگا اور آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے مجھے سر سے پکڑا اور مجھ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا۔
مسلم نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی کہ حضرت معاذ بن جبلؓ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے۔
اور محمد بن بشار نے بھی مجھ سے بیان کیا ، کہا : غندر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت معاذ بن جبل ؓ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر واپس جاکر وہ اپنی قوم کی امامت کرتے۔ انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی اور سورہ بقرہ پڑھی۔ ایک شخص چلا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاذ ؓ نے اس کے متعلق بُرا منایا۔ یہ خبر نبی ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے تین دفعہ فرمایا: تم بہت ہی ابتلاء میں ڈالنے والے ہو۔ تم بہت ہی ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔ تم تو بہت ہی ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔ فَتَّانًا فرمایا ، یا فَاتِنًا اور آپؐ نے انہیں مفصل سورتوں میں سے دو درمیانی سورتیں پڑھنے کے لئے فرمایا۔ عمرو کہتے تھے: مجھے وہ دو سورتیں یاد نہیں رہیں۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: زُہیر نے ہمیں بتایا، کہا: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے قیس سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابومسعودؓ نے مجھے بتایا کہ ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! بخدا میں صبح کی نماز سے فلاں شخص کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہوں۔ اس لئے کہ وہ ہمیں نماز لمبی پڑھاتا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی نصیحت میں اس دن سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں بعض نفرت دلانے والے ہیں۔ پس تم میں سے جو لوگوں کو نماز پڑھائے تو چاہیے کہ وہ نماز مختصر پڑھے۔ کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی اور حاجت مند بھی۔