بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
علی بن عیاش نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب بن ابی حمزہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اذان سننے کے وقت یہ دعا کی کہ اے اللہ! جو اس دعوۃِ تامّہ اور اس قائم ہونے والی نماز کا ربّ ہے، محمد ﷺ کو ہر قسم کی کامیابی کا ذریعہ عطا فرما اور ہر طرح کی برتری عطا فرما اور انہیں مقامِ محمود پر پہنچا، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے تو قیامت کے دن میری سفارش اس کے لئے واجب ہوگئی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سُمَّی سے، جو کہ حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ سُمَّی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ جانتے کہ اذان میں اور پہلی صف میں کیا (ثواب) ہے اور پھر سوائے قرعہ ڈالنے کے کچھ چارہ نہ پاتے تو وہ ضرور ہی قرعہ ڈالتے اور اگر وہ جانتے کہ اوّل وقت ظہر پڑھنے میں کیا (ثواب) ہے تو وہ بے تحاشہ اس کی طرف دوڑتے اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کیا (ثواب) ہے تو وہ آتے خواہ گھسٹتے ہوئے ہی آنا پڑتا۔
(تشریح)مُسدّد نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب اور عبد الحمید رفیقِ زیادی اور عاصم احول سے۔ انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ نے بارش اور کیچڑ والے دن ہمیں خطبہ دیا۔ جب مؤذن حَيَّ عَلَی الصَّلٰوۃ پر پہنچا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ وہ یہ پکارے: اَلصَّلٰوۃُ فِی الرِّحَالِ کہ نماز اپنی اپنی جگہ پر پڑھ لی جائے۔ اس پر لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ اس ذات نے کیا تھا جو اس سے بہتر تھی اور نماز جمعہ واجب ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابھی رات ہوتی ہے کہ بلالؓ اذان دیتا ہے۔ سو تم کھائو اور پیو؛ یہاں تک کہ ابن اُمِ مکتومؓ اذان دے۔ کہتے تھے: حضرت ابن اُمّ مکتومؓ نابینا تھے۔ وہ اذان نہیں دیا کرتے تھے، جب تک ان سے کہا نہ جائے کہ تم نے صبح کردی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت حفصہؓ نے مجھے بتایا کہ جب مؤذن صبح کی اذان دے کر بیٹھ جاتا اور صبح نمودار ہوتی تو رسول اللہ ﷺ ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پیشتر اس کے کہ باجماعت نماز شروع کی جاتی۔
ابو نُعَیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ صبح کی نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان ہلکی سی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابھی رات ہوتی ہے کہ بلال ؓ اذان دیتا ہے۔ تم کھائو اور پیو؛ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم ؓ اذان دیں۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: زُہَیر نے ہمیں بتایا، کہا: سلیمان تیمی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، ابوعثمان نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: لَا یَمْنَعَنَّ احَدَکُمْ یا فرمایا: احَدًا مِّنْکُمْ یعنی تم میں سے کسی کو بلالؓ کی اذان سحری کے کھانے سے نہ روکے۔ کیونکہ وہ رات کو اذان دیتا ہے یا فرمایا: پکارتا ہے، تا تم میں سے جو کھڑا نمازِ تہجد پڑھ رہا ہو اسے گھر کو واپس کر دے اور تم میں سے جو سویا ہوا ہو اُسے جگا دے اور فجر یا ( فرمایا:) صبح یوں ظاہر نہیں ہوتی اور آپؐ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ان کو اوپر اُٹھایا اور نیچے کی طرف جھکایا؛ یہاں تک کہ اس طرح ہو جائے اور زُہَیر نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ ان میں سے ایک دوسری کے اوپر تھی۔ پھر ہر ایک کو اس نے اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف کھینچا۔
اسحاق (واسطی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواُسامہ نے ہمیں بتایا، کہا: عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) انہوں نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہؓ اور نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا… اور مجھ سے یوسف بن عیسیٰ مروَزی نے بھی بیان کیا، کہا: فضل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبیداللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قاسم بن محمد سے اور قاسم نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بلالؓ تو رات کو اذان دیتا ہے۔ اس لئے تم کھائو اور پیو؛ یہاں تک کہ ابن ام مکتومؓ اذان دے۔
(تشریح)