بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
18. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in 'Arafat and Al-Muzdalifa too
باب ۱۸ : الأَذَانِ لِلْمُسَافِرِ إِذَا كَانُوا جَمَاعَةً، وَالإِقَامَةِ، وَكَذَلِكَ بِعَرَفَةَ وَجَمْعٍ
مسافروں کے لئے اذان دینا اور اقامت کہنا جب وہ جماعت ہوں
اسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: جعفر بن عون نے ہمیں بتایا، کہا: ابوالعمیس نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے، عون نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ابطح میں دیکھا۔ آپؐ کے پاس حضرت بلالؓ آئے اور نماز کی اطلاع دی۔ پھر حضرت بلالؓ برچھی لے کر باہر آئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ابطح میں اسے گاڑ دیا اور نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی۔
19. Should the Mu'adh-dhin turn his mouth (face) and look from side to side during the Adhan?
باب ۱۹ : هَلْ يَتَتَبَّعُ الْمُؤَذِّنُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا، وَهَلْ يَلْتَفِتُ فِي الأَذَانِ
کیا مؤذن اذان دیتے وقت اپنا منہ ( اذان کے ساتھ ) اِدھر اُدھر کرے اور کیا وہ ادھر اُدھر مڑے
20. The saying of a person "We have missed As-Salat (the prayer)"
باب ۲۰ : قَوْلِ الرَّجُلِ فَاتَتْنَا الصَّلاَةُ
آدمی کا یہ کہنا کہ نماز ہم سے چھوٹ گئی
21. One should not run for As-Salat (the prayer) but present himself with calmness and solemnity
باب ۲۱ : لاَ يَسْعَى إِلَى الصَّلاَةِ، وَلْيَأْتِ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ
نماز کی طرف دوڑ کر نہ آئے بلکہ سکینت اور وقار سے آئے
22. When should the people get up for the Salat (prayer) if they see the Imam (the person leading Salat) during the Iqama?
باب ۲۲ : مَتَى يَقُومُ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الإِمَامَ عِنْدَ الإِقَامَةِ
لوگ جب اقامت کے وقت امام کو دیکھیں تو کب کھڑے ہوں؟
23. One should not stand for As-Salat (the prayer) hurriedly but with calmness and solemnity.
باب ۲۳ : لاَ يَسْعَى إِلَى الصَّلاَةِ مُسْتَعْجِلاً، وَلْيَقُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ
لَا يَسْعَى إِلَى الصَّلَاةِ مُسْتَعْجِلًا وَلْيَقُمْ بِالسَّكِيْنَةِ وَالْوَقَارِ
24. Can one go out of the mosque (after the Adhan, or the Iqama) if there is a genuine excuse?
باب ۲۴ : هَلْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِعِلَّةٍ
کیا بسبب کسی ضرورت کے مسجد سے نکلے ؟
25. If the Imam says, "Remain at your places till I return", then wait for him
باب ۲۵ : إِذَا قَالَ الإِمَامُ مَكَانَكُمْ. حَتَّى رَجَعَ انْتَظَرُوهُ
جب امام کہے: اپنی جگہ پر رہو یہاں تک کہ ہم لوٹ آئیں تو وہ اس کا انتظار کریں
26. The saying of a man to the Prophet (pbuh), "We have not prayed."
باب ۲۶ : قَوْلِ الرَّجُلِ مَا صَلَّيْنَا
آدمی کا یہ کہنا کہ ہم نے نماز نہیں پڑھی
27. If the Imam is confronted with a problem after the Iqama
باب ۲۷ : الإِمَامِ تَعْرِضُ لَهُ الْحَاجَةُ بَعْدَ الإِقَامَةِ
اقامت کے بعد امام کو حاجت پیش آ جائے
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے، عون نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت بلالؓ کو دیکھا کہ اذان دے رہے ہیں تو میں بھی اذان کے ساتھ ان کی طرح اِدھر اُدھر منہ پھیرنے لگا۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابو قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: اس اثناء میں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ نے کچھ آدمیوں کا شور سنا۔ جب آپؐ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: تمہیں کیا ہوگیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم نماز کے لئے جلدی جلدی آ رہے تھے۔ فرمایا: ایسا نہ کیا کرو جب تم نماز کو آؤ تو تمہیں آرام سے آنا چاہیے۔ جو تم پالو اسے پڑھو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کرو۔
آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا، کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی... اور زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم تکبیر اقامت سنو تو نماز کے لئے چلے آئو اور اطمینان اور وقار کو اپنا شیوہ بناؤ اور تم جلدی نہ کیا کرو۔ جو رکعت تم پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کر لو۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا، کہا: یحيٰ (ابن ابی کثیر) نے مجھے لکھا: عبداللہ بن ابی قتادہ سے مروی ہے۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تکبیر اقامت کہی جائے تو تم اس وقت تک کہ مجھے نہ دیکھو؛ کھڑے نہ ہو۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحیٰ سے، یحیٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تکبیرِ اقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہو۔ یہاں تک کہ تم مجھے دیکھو کہ میں کھڑا ہو گیا ہوں اور تمہیں اطمینان اپنا شیوہ بنانا چاہیے۔ علی بن مبارک نے بھی (یحیٰ سے اسی طرح) بیان کیا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ باہر آئے اور تکبیر اقامت ہو چکی تھی اور صفیں برابر کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ جب آپؐ اپنی نماز گاہ میں کھڑے ہوگئے تو ہم انتظار میں تھے کہ آپؐ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہیں گے۔ اتنے میں آپؐ مڑے، فرمایا: اپنی جگہ پر ہی رہو۔ ہم جیسے تھے ٹھہرے رہے۔ آخر آپؐ ہمارے پاس باہر آئے۔ آپؐ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپؐ نے غسل کیا تھا۔
اسحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور لوگوں نے صفیں درست کیں اور رسول اللہ ﷺ آئے اور آگے بڑھے اور آپؐ جنبی تھے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو اور آپؐ لوٹ گئے اور نہائے۔ پھر باہر آئے اور آپؐ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپؐ نے ان کو نماز پڑھائی۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو سلمہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت جابر بن عبداللہؓ نے ہمیں بتایا کہ نبی ﷺ کے پاس حضرت عمر بن خطابؓ خندق کے دن آئے اور کہا: یا رسول اللہ! بخدا مجھے تو نماز بھی نہ ملی۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا اور یہ اس وقت کے بعد کا وقت تھا جب روزہ دار نے روزہ افطار کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بخدا! میں نے بھی نہیں پڑھی۔ پھر نبی ﷺ بطحان کی طرف اتر گئے اور میں آپؐ کے ساتھ تھا۔ آپؐ نے وضو کیا۔ پھر سورج غروب ہونے کے بعد نماز پڑھی۔ یعنی عصر کی۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن صُہَیب نے ہمیں بتایا کہ حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ وہ کہتے تھے: نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور نبی ﷺ مسجد کی ایک طرف کسی آدمی سے علیحدگی میں کچھ فرما رہے تھے اور آپؐ اس وقت تک نماز کے لئے کھڑے نہیں ہوئے کہ لوگ سونے لگے۔