بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
121. And what is said regarding the limit of the completion of bowing and of keeping the back straight and the calmness with which it is performed.
باب ۱۲۱ : حَدِّ إِتْمَامِ الرُّكُوعِ وَالاِعْتِدَالِ فِيهِ وَالاِطْمَأْنِينَةِ
رکوع کو اعتدال اور اطمینان سے پورا کرنے کی حد
بدل بن محبر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حکم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت براءؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ کا رکوع اور آپؐ کا سجود اور دونوں سجدوں کے درمیان قعود (بیٹھنا) اور رکوع کے بعد قیام یہ تقریبا ً برابر ہوتے تھے۔ سوائے قیام اور قعود کے۔
122. The order of the Prophet (pbuh) to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer)
باب ۱۲۲ : أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهُ بِالإِعَادَةِ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دینا جو پورا رکوع نہیں کرتا تھا
123. Invocation in bowing.
باب ۱۲۳ : الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ
رکوع میں دعا کرنا
124. What the Imam and the followers say on raising their heads from bowing.
باب ۱۲۴ : مَا يَقُولُ الإِمَامُ وَمَنْ خَلْفَهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
امام اور وہ جو اُس کے پیچھے ہوں جب رکوع سے سر اٹھا ئیں تو کیا کہیں
125. The superiority of saying Allahumma Rabbana lakal hand (O Allah, Our Lord!, All the praises and thanks are for You)
باب ۱۲۵ : فَضْلِ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہنے کی فضیلت
126. Chapter
باب ۱۲۶
127. To stand Straight with calmness on raising the head from bowing
باب ۱۲۷ : الاِطْمَأْنِينَةِ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
اطمینان سے کھڑا ہونا ، جب رکوع سے سر اٹھائے
مسدد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : یحيٰ بن سعید نے مجھے بتایا۔ عبیداللہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ مسجد میں تشریف لائے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی۔ پھر آیا اور آپؐ کو سلام کیا۔ آپؐ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ اس نے نماز پڑھی اور پھر آکر نبی ﷺ کو سلام کیا۔ آپؐ نے فرمایا : واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ اس نے نماز پڑھی اور پھر آکر نبی ﷺ کو سلام کیا۔ آپ نے فرمایا : واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ آپؐ نے اس طرح تین بار اسے لوٹایا۔ تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ آپؐ مجھے سکھائیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو۔ پھر قرآن سے جو کچھ تمہیں میسر ہو پڑھو۔ پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تمہیں رکوع میں اطمینان ہو جائے۔ پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔ پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔ پھر اسی طرح ساری نماز میں کرو۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ اپنے رکوع و سجود میں یہ دعا کیا کرتے تھے: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ پاک ذات ہے تیری اے اللہ جو ہمارا رب ہے اور تو اپنی خوبیوں کے ساتھ ہے۔ اے اللہ تو میری مغفرت فرما۔
آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا : ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہتے تو اس کے بعد یہ پڑھتے اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ اور نبی ﷺ جب رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے تب بھی اللہ اکبر کہتے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سمی سے، سمی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہے تو تم کہو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔ کیونکہ جس کا قول ملائکہ کے قول کے مطابق ہو جائے گا اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں ان کی مغفرت کی جائے گی۔
معاذ بن فضالہ نے ہمیں بتایا انہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے یحيٰ سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں (تمہاری نماز) نبی ﷺ کی نماز کے قریب کردوں گا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر اور عشاء اور صبح کی نمازوں کی آخری رکعت میں سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہنے کے بعد کھڑے ہوکر عاجزی سے دعا کیا کرتے تھے۔ مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کافروں کے لئے بددعا۔
عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: دعائے قنوت مغرب اور فجر کی نماز میں ہوا کرتی تھی۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نعیم بن عبداللہ مجمر سے، نعیم نے علی بن یحيٰ بن خلاد زُرَقی سے۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت رفاعہ بن رافع زرقیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم ایک دن نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپؐ نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپؐ نے فرمایا: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْْ حَمِدَہٗ ایک شخص (حضرت رفاعہؓ) نے آپ کے پیچھے سے کہا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: بولنے والا کون ہے؟ اس نے کہا: میں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان الفاظ کی طرف لپک رہے تھے کہ کون پہلے انہیں لکھتا ہے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت ہمیں بتا رہے تھے۔ چنانچہ وہ نماز پڑھتے اور جب رکوع سے سر اُٹھاتے تو کھڑے رہتے۔ یہاں تک کہ ہم خیال کرتے کہ حضرت انسؓ بھول گئے۔
ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کا رکوع اور سجدہ اور رکوع سے سر اٹھا کر کھڑے رہنا اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا یہ تقریباً برابر ہوتا۔