بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے سمی ابوبکر (بن عبدالرحمن) کے آزاد کردہ غلام سے، سمی نے ابوصالح (سمان) سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ کہے تو تم آمین کہو۔ جس کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہو گیا، اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں ان کی مغفرت کی جائے گی۔ (سمی کی طرح) محمد بن عمرو نے بھی ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی اور نعیم مجمر نے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے (نبی ﷺ تک پہنچاتے ہوئے) روایت کی۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، کہا: ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعلم سے جو زیاد (بن حسان) ہیں۔ اعلم نے حسن سے، حسن نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی کہ وہ نبی ﷺ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپؐ رکوع میں تھے تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کر دیا اور اس کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا: اللہ آپؐ کو نیکی کی حرص اور زیادہ دے۔ پھر ایسا نہ کرنا۔
(تشریح)اسحاق (بن شاہین) واسطی نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جریری سے، جریری نے ابوالعلاء سے، ابوالعلاء نے مطرف سے، مطرف نے حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت کی، کہا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: اس شخص نے ہمیں وہ نماز یاد دلادی ہے جو ہم رسول اللہؐ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ جب سر جھکاتے یا اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ وہ (لوگوں کو) نماز پڑھایا کرتے تھے۔ تو جب سر جھکاتے اور اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: تمہاری (نماز کی) نسبت میری نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ ملتی جلتی ہے۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے غیلان بن جریر سے، غیلان نے مطرف بن عبداللہ سے روایت کی کہ میں نے اور حضرت عمرانؓ بن حصین نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب آپؓ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے۔ تب بھی اللہ اکبر کہتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو بھی اللہ اکبر کہتے۔ جب آپؓ نماز پڑھ چکے تو حضرت عمرانؓ بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے تو حضرت محمد ﷺ کی نماز مجھے یاد دِلا دی ہے۔ یا کہا: لاریب انہوں نے تو ہمیں حضرت محمد ﷺ کی نماز پڑھائی ہے۔
عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہُشَیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر نے عکرمہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے ایک شخص کو مقامِ (ابراہیم) کے نزدیک دیکھا۔ وہ ہر دفعہ سر جھکانے اور اٹھانے پر اللہ اکبر کہتا اور اس وقت بھی جب وہ کھڑا ہوتا اور جب سجدہ میں جاتا۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا۔ تو انہوں نے کہا: بے مادر! کیا یہ نبی ﷺ کی نماز نہیں؟
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمام نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے مکہ میں ایک بزرگ کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے بائیس تکبیریں کہیں۔ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا کہ یہ بے وقوف ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: تیری ماں تجھے کھوئے۔ یہ تو ابوالقاسمؐ کی سنت ہے۔ موسیٰ نے کہا: ابان نے یہ حدیث ہم سے یوں روایت کی ہے: ہم سے قتادہ نے بیان کیا۔ ہمیں عکرمہ نے بتایا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا ، کہا : لیث نے ہمیں بتایا۔ عقیل سے روایت ہے۔ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ ابن شہاب کہتے تھے: ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اس وقت اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ سیدھی کرتے تو کہتے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ۔ پھر رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے اور اس وقت آپؐ کھڑے ہی ہوتے۔ (اور) عبداللہ بن صالح نے لیث سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: وَلَکَ الْحَمْدُ۔ پھر اللہ اکبر کہتے جب آپؐ (سجدہ کے لئے) جھکتے۔ پھر اللہ اکبر کہتے جب آپؐ اپنا سر اُٹھاتے پھر اللہ اکبر کہتے جب سجدہ کرتے پھر اللہ اکبر کہتے جب اپنا سر اٹھاتے۔ پھر آپؐ ساری نماز میں اسی طرح تکبیریں کہتے جاتے۔ یہاں تک کہ اسے ختم کرتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو اس وقت بھی اللہ اکبر کہتے۔
(تشریح)ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابویعفور (وقدان اکبر) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے مصعب بن سعد سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی۔ میں نے (رکوع میں) دونوں ہتھیلیاں ملادیں۔ پھر رانوں کے درمیان رکھیں۔ میرے باپ نے مجھے منع کیا اور کہا کہ ہم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں روک دیا گیا اور ہمیں حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کریں۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت حذیفہؓ نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع اور سجدے پورے طور پر نہیں کرتا تھا۔ تو انہوں نے کہا: تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر تم مر جاؤ تو تم ایسی فطرت پر مرو گے جو اس فطرت کے خلاف ہے، جس پر اللہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو پیدا کیا۔
(تشریح)