بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 49 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی (بن ثابت انصاری) سے، عدی نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اُس کے وارثوں کا ہوگا اور جو کوئی بوجھ چھوڑ جائے تو وہ ہمارے ذمہ ہوگا۔
(تشریح)میں نے یہ حدیث حضرت ابوبکرہؓ سے ذکر کی۔ انہوں نے کہا: اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ سے میرے دونوں کانوں نے اس کو سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا۔
ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے علی بن حسین سے، علی نے عمرو بن عثمان سے، عمرو نے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر مسلمان کا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور عبد بن زمعہ نے ایک لڑکے کے متعلق جھگڑا کیا۔ سعد نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، وہ مجھے وصیت کر گیا تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے، آپؐ اس کی مشابہت کو دیکھیں اور عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے بچھونے پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی مشابہت کو دیکھا تو عتبہ سے واضح طور پر ملتے جلتے دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: عبد بن زمعہ یہ تمہارا ہی ہے۔ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر جنا گیا ہو اور زانی کو پتھر پڑتے ہیں۔ سودہ بنت زمعہؓ تم اس سے پردہ کیا کرو۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اس کے بعد اس نے حضرت سودہؓ کو کبھی نہیں دیکھا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے جو عبداللہ (طحان) کے بیٹے ہیں، ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) خالد (بن مہران حذاء) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوعثمان (نہدی) سے، ابوعثمان نے حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہوا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اُس کا باپ نہیں تو جنت اس پر حرام ہوگی۔
اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن حارث مصری) نے مجھے خبر دی۔ عمرو نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے عراک (بن مالک) سے، عراک نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم اپنے باپ دادوں سے نفرت نہ کرو۔ جس نے اپنے باپ سے نفرت کرکے اعراض کیا تو یہ کفر ہوگا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا، کہا: ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ ابوالزناد نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو عورتیں تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کا بیٹا لے گیا، اس نے اپنی ساتھی سے کہا: وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے۔ دوسری نے کہا: وہ تو تمہارا بیٹا لے گیا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنا جھگڑا فیصلہ کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو انہوں نے بڑی عورت کو بچہ دئے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وہاں سے نکل کر حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس آئیں اور ان سے اپنا حال بیان کیا۔ تو حضرت سلیمانؑ نے کہا: میرے پاس چھری لاؤ، میں اس بچے کو چیر کر ان دونوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہوں۔ چھوٹی عورت بولی: اللہ آپؑ پر رحم کرے، ایسا نہ کرنا، یہ اسی کا لڑکا ہے۔ اس پر حضرت سلیمانؑ نے چھوٹی کو وہ بچہ دینے کا فیصلہ کیا۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں نے سکین کا لفظ کبھی نہیں سنا تھا۔ صرف اسی دن سنا اور ہم چھری کو مُدیہ ہی کہا کرتے تھے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے۔ آپؐ خوش تھے۔ آپؐ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز (ابن اعور بن جعدہ مدلجی) نے ابھی زید بن حارثہؓ اور اُسامہ بن زیدؓ کو دیکھا اور کہا کہ یہ قدم تو ایک دوسرے سے ہیں۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس آئے اور آپؐ خوش تھے۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی یہاں آیا اور اُس نے اُسامہؓ اور زیدؓ کو دیکھا۔ اُن دونوں پر ایک چادر تھی جس سے انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور اُن کے قدم کھلے تھے۔ تو اُس نے کہا: یہ قدم تو ایک دوسرے سے ہیں۔
(تشریح)