بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 71 hadith
ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا۔ مَعْن (بن عیسیٰ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم بن طہمان نے مجھے بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی کھانا لایا جاتا تو آپؐ اس کی بابت پوچھتے: آیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا: صدقہ، تو آپؐ اپنے صحابہ سے فرماتے: کھائو اور خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آنحضرت ﷺ اپنا ہاتھ بڑھاتے اور ان کے ساتھ کھاتے۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا کہ بریرہؓ کو صدقہ دیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث عبدالرحمن سے سنی۔ عبدالرحمن نے قاسم سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے بریرہؓ کو خریدنا چاہا اور ان لوگوں نے اس کے حق وراثت کی اپنے لئے شرط پیش کی۔ اس کا نبی ﷺ سے ذکر کیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: اسے خرید لو اور آزاد کردو، کیونکہ حق وراثت تو اسی کا ہوگا جس نے آزاد کیا اور بریرہؓ کو کچھ گوشت دیا گیا تو نبی ﷺ سے کہا گیا: یہ تو بریرہؓ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ، اور بریرہؓ کو (اپنے خاوند کے بارے میں) اختیار دیا گیا تھا۔ عبدالرحمن نے پوچھا: اس کا خاوند (مغیث) آزاد تھا یا غلام؟ شعبہ نے کہا: میں نے عبدالرحمن سے اس کے خاوند کی نسبت پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا آیا وہ آزاد تھا یا غلام۔
محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت امّ عطیہؓ سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نبی ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپؐ نے پوچھا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: نہیں، مگر یہ کچھ گوشت ہے جو امّ عطیہؓ نے بھیجا ہے، اس بکری کا ہے جو آپؐ نے اس کو اموال صدقہ سے دی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ اپنے محل پر پہنچ چکا۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: لوگ اپنے ہدیئے بھیجنے کے لئے میری باری کو زیادہ مناسب سمجھ کر انتظار کرتے تھے اور حضرت امّ سلمہ ؓ نے کہا: میری ساتھنیں سب میرے پاس اکٹھی ہوئیں (اور انہوں نے اس کے بارے میں کچھ کہا۔) میں نے آپؐ سے ذکر کیا تو آپؐ نے منہ پھیر لیا۔ (یعنی جواب نہیں دیا۔)
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے بھائی (عبدالحمید بن ابی اویس) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج دو ٹولیوں کی صورت میں تھیں۔ ایک میں عائشہؓ، حفصہؓ، صفیہؓ اور سودہؓ شامل تھیں اور دوسری میں امّ سلمہؓ اور رسول اللہ ﷺ کی باقی ازواج۔ اور مسلمانوں کو یہ علم ہو چکا تھا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہؓ کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں، تو جب ان میں سے کسی کے پاس کوئی ایسا ہدیہ ہوتا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا تو وہ اسے پیش کرنے میں اس وقت کا انتظار کرتا جبکہ رسول اللہ ﷺ عائشہؓ کے گھر میں ہوتے۔ امّ سلمہؓ کے فریق نے (امّ سلمہؓ سے) باتیں کیں اور اُن سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے کہو کہ لوگوں سے یہ فرمائیں کہ جو رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپؐ جس بیوی کے گھر میں بھی ہوں؛ وہ وہاں بھیج دیا کرے۔ جو انہوں نے کہا تھا امّ سلمہؓ نے وہ آپؐ سے کہہ دیا، تو آپؐ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور ان ازواج نے (امّ سلمہؓ سے) پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپؐ نے مجھے کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے امّ سلمہ سے کہا کہ تم آنحضرت (ﷺ) سے پھر کہو۔ امّ سلمہؓ کہتی تھیں: جب آپؐ میری باری پر میرے ہاں آئے تو میں نے آپؐ سے پھر کہا، تو آپؐ نے پھر انہیں جواب نہ دیا اور اُن ازواج نے امّ سلمہؓ سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپؐ نے مجھے کچھ جواب نہیں دیا۔ تو ازواج نے پھر اُن سے کہا کہ تم آنحضرت (ﷺ) سے کہتی رہو، یہاں تک کہ آپؐ کچھ جواب دیں۔ جب آپؐ امّ سلمہؓ کے پاس باری پر آئے تو انہوں نے پھر کہا۔ آپؐ نے حضرت امّ سلمہؓ سے فرمایا: مجھے عائشہؓ کی وجہ سے تکلیف نہ دو کیونکہ وحی عائشہؓ کے سوا کسی اور بیوی کے بستر پر نہیں ہوئی۔ حضرت امّ سلمہؓ کہتی تھیں: {میں نے کہا:{ یا رسول اللہ! آپؐ کو تکلیف دینے سے اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں۔ پھر اس کے بعد ان ازواج نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو بلایا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس انہیں بھیجا کہ آپؐ سے کہیں کہ آپؐ کی ازواج حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی سے متعلق انصاف کرنے کے لئے آپؐ کو (اللہ کی) قسم دیتی ہیں۔ چنانچہ حضرت فاطمہؓ نے آپؐ سے کہا۔ آپؐ نے فرمایا: اے میری بیٹی! کیا تم وہ بات پسند نہیں کرتی جو میں پسند کرتا ہوں؟ (حضرت فاطمہؓ نے) کہا: کیوں نہیں اور وہ ازواج کے پاس لَوٹ آئیں اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: تم آنحضرتؐ کے پاس پھر جاؤ تو حضرت فاطمہؓ نے پھر جانے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے حضرت زینب بنت جحشؓ کو بھیجا۔ وہ آپؐ کے پاس آئیں اور لب و لہجہ کچھ سخت تھا، یعنی انہوں نے کہا: آپؐ کی ازواج ابن ابی قحافہ کی لڑکی سے متعلق آپؐ کو انصاف کرنے کیلئے اللہ کی قسم دیتی ہیں اور اونچی آواز سے بولیں یہاں تک کہ حضرت عائشہؓ کو بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور حضرت عائشہؓ بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضرت زینبؓ حضرت عائشہ ؓ کو سخت سُست کہنے لگیں جس پر رسول اللہ
ابو معمر نے ہمیں بتایا۔ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا کہ عزرہ بن ثابت انصاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا۔ (عزرہ) کہتے تھے: میں ثمامہ کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھے خوشبو دی۔ کہنے لگے: حضرت انس رضی اللہ عنہ خوشبو کو ردّ نہیں کیا کرتے تھے۔ (ثمامہ نے) کہا اور حضرت انسؓ کہتے تھے کہ نبی ﷺ خوشبو کو ردّ نہیں کرتے تھے۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عُقَیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ نے بیان کیا کہ مِسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے انہیں خبر دی کہ جب نبی ﷺ کے پاس ہوازن کے نمائندے آئے تو آپؐ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دیکھو تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں نے مناسب خیال کیا کہ اُن کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ اس لئے جو تم میں سے اپنے دل کی خوشی سے ایسا کرنا چاہتا ہو چاہیے کہ وہ واپس کر دے اور جو اپنا حق (غلام کا فدیہ) لینا چاہے تو اس کا حصہ ہم اس پہلی غنیمت سے دیں گے جو اللہ ہمیں دے گا۔ لوگوں نے کہا: ہم نے آپؐ کا ارشاد خوشی سے قبول کیا۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عُقَیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ نے بیان کیا کہ مِسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے انہیں خبر دی کہ جب نبی ﷺ کے پاس ہوازن کے نمائندے آئے تو آپؐ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دیکھو تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں نے مناسب خیال کیا کہ اُن کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ اس لئے جو تم میں سے اپنے دل کی خوشی سے ایسا کرنا چاہتا ہو چاہیے کہ وہ واپس کر دے اور جو اپنا حق (غلام کا فدیہ) لینا چاہے تو اس کا حصہ ہم اس پہلی غنیمت سے دیں گے جو اللہ ہمیں دے گا۔ لوگوں نے کہا: ہم نے آپؐ کا ارشاد خوشی سے قبول کیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے اور خود بھی ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ وکیع (ابن جراح) اور محاضر (بن مورع) نے اپنی روایت میں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ روایت ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔
(تشریح)