بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نمیری نے ہمیں بتایا کہ ثوبان نے ہم سے بیان کیا۔ اور لیث (بن سعد) نے کہا: یونس نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر اور (سعید) بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے متعلق مجھے بتایا اور ان کی روایت کی بعض باتیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ یعنی جب بہتان باندھنے والوں نے (حضرت عائشہؓ پر) بہتان باندھا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت اُسامہؓ کو بلایا۔ یہ اس وقت ہوا جب وحی رُک گئی تھی۔ آپؐ نے ان دونوں سے اپنی زوجہ کو چھوڑ دینے کے بارے میں مشورہ چاہا۔ حضرت اُسامہؓ نے تو یہ کہا: آپؐ کی زوجہ ہیں اور ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ بریرہؓ نے کہا: میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس کو میں ان کے لیے معیوب سمجھوں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات ہے ایک کم عمر لڑکی ہیں۔ اپنے گھر والوں کا گُندھا آٹا چھوڑ کر سوجاتی ہیں اور بکری آتی ہے اسے کھا جاتی ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ایسے شخص کا الزام ہم سے دور کرے جس نے میری بیوی کی نسبت مجھے سخت تکلیف دی ہے؟ بخدا مجھے اپنی بیوی کے بارے میں سوائے بھلائی کے اور کسی بات کا علم نہیں۔ اور وہ لوگ ایسے شخص کا ذکر کرتے ہیں۔ جس کی نسبت بھی میں یہی جانتا ہوں کہ وہ اچھا (انسان) ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ سالم نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابی بن کعبؓ انصاری چل پڑے۔ دونوں کا رخ اس نخلستان کی طرف تھا جس میں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ وہاں پہنچے تو آپؐ کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں اپنے آپ کو چھپائے ہوئے چلنے لگے اور آپؐ کی کوشش تھی کہ چپکے سے ابن صیاد سے کچھ سن لیں، پیشتر اس کے کہ وہ آپؐ کو دیکھ پائے اور ابن صیاد اپنے بستر پر اپنی چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ چادر میں سے گنگناہٹ کی آواز آرہی تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی ﷺ کو دیکھ لیا جبکہ آپؐ کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں بچتے بچاتے آرہے تھے۔ اس نے ابن صیاد سے کہا: یہ محمدؐ آگئے ہیں۔ ابن صیاد رک گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اگر (اس کی ماں) اسے رہنے دیتی تو وہ (اپنے آپ کو) ظاہر کردیتا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قرظی کی بیوی (تمیمہ) نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا: میں رفاعہ کے پاس تھی تو اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور طلاق بھی قطعی۔ اس پر میں نے عبدالرحمن بن زبیرؓ سے نکاح کر لیا مگر اس کا تو کپڑے کے حاشیہ کی طرح ہے۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تو اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور وہ تجھ سے فائدہ نہ اٹھائے۔ اس وقت حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت خالد بن سعیدؓ بن عاص دروازے پر انتظار کر رہے تھے کہ ان کو اندر آنے کی اجازت دی جائے۔ (خالدؓ نے پُکار کر) کہا: ابوبکرؓ کیا آپؓ اس کی بات سن رہے ہیں جو یہ نبی ﷺ کے پاس کھلم کھلا بیان کر رہی ہے؟
حبان (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ عمر بن سعید بن ابی حسین نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی ملیکہ نے حضرت عقبہ بن حارثؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے ابواِہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی تو ان کے پاس ایک عورت آئی تو اس نے کہا: میں نے عقبہؓ کو اور اسی عورت کو جس سے انہوں نے شادی کی ہے، دودھ پلایا تھا تو عقبہؓ نے اس سے کہا: میں نہیں جانتا کہ تم نے مجھے دودھ پلایا تھا اور نہ تم نے مجھے بتایا۔ پھر عقبہؓ نے ابواِہاب کے خاندان سے پچھوا بھیجا۔ انہوں نے کہا: ہم نہیں جانتے کہ اس عورت نے ہمارے ساتھی کو دودھ پلایا ہو۔ اس پر وہ سوار ہو کر نبی ﷺ کے پاس مدینہ پہنچے اور انہوں نے آپؐ سے پوچھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اب کیا ہو جبکہ یہ بات کہی گئی ہے۔ اس پر عقبہؓ نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور ایک اور بیوی سے نکاح کیا۔
حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عتبہ نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بعض لوگوں سے وحی کی بناء پر مؤاخذہ کیا جاتا تھا اور اب وحی تو منقطع ہو چکی ہے اور ہم تم سے صرف تمہارے انہی عملوں کی بناء پر مواخذہ کریں گے جو ہم پر ظاہر ہوں۔ سو جس نے ہمیں بھلے کام دکھائے ہم اس سے مطمئن ہوں گے اور اس کو ہم اپنے قریب کریں گے اور اس کے اَندرُونے کا ہم سے کچھ واسطہ نہیں۔ اللہ اس کے اَندرُونے کا (اس سے) حساب لے گا۔ اور جس نے ہمیں برے کام دِکھلائے ہم اس سے مطمئن نہیں ہوں گے اور نہ اسے سچا سمجھیں گے، اگرچہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ اس کا اَندرُونہ اچھا ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے۔ لوگوں نے اس کی اچھی تعریف کی۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے لئے (جنت) واجب ہوگئی۔ پھر اس کے بعد ایک اور (جنازہ) لے کر آپؐ کے پاس سے گزرے اور لوگوں نے اس کی مذمت کی یا راوی نے اس کے علاوہ اور لفظ کہا: تو آپؐ نے فرمایا: اس کے لئے (دوزخ) واجب ہوگئی۔ آپؐ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! آپؐ نے اس کے لئے بھی فرمایا کہ (جنت) واجب ہو گئی اور اس کے لئے بھی فرمایا (آگ) واجب ہوگئی۔ آپؐ نے فرمایا: جماعت کی گواہی ہے۔ مومن تو زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ دائود بن ابی الفرات نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن بریدہ نے ابوالاسود سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: میں مدینہ میں آیا اور اس میں وبا تھی اور لوگ بری موت مر رہے تھے۔ میں حضرت عمر ص کے پاس بیٹھ گیا تو اتنے میں ایک جنازہ گزرا۔ اس کی اچھی تعریف کی گئی اور حضرت عمرؓ نے کہا: واجب ہوگئی۔ پھر دوسرا جنازہ گزرا اور اس کی بھی اچھی تعریف کی گئی اور حضرت عمرؓ نے کہا: واجب ہوگئی۔ پھر تیسرا گزرا اور اس کی مذمت کی گئی، تو حضرت عمرؓ نے کہا: واجب ہوگئی۔ میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! یہ واجب ہوگئی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی کہا جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا۔ جس مسلمان کے حق میں چار شخص بھلائی کی گواہی دیں اس کو اللہ جنت میں داخل کر دے گا۔ ہم نے پوچھا: اور تین بھی۔ آپ نے فرمایا: تین بھی۔ ہم نے کہا: دو بھی۔ آپ نے فرمایا: دو بھی۔ پھر اس کے بعد ہم نے ایک کے متعلق نہیں پوچھا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا ( کہ انہوں نے کہا:) حکم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عراک بن مالک سے، عراک نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی تھیں: افلح نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے ان کو اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے پردہ کرتی ہو بحالیکہ میں تمہارا چچا ہوں۔ میں نے کہا: یہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: میری بھاوج نے تم کو میرے بھائی کا دودھ پلایا ہے، کہتی تھیں: میں نے اس کی بابت رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: افلح نے سچ کہا ہے، اسے اندر آنے کی اجازت دو۔
مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جابر بن زید سے، جابر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت حمزہؓ کی بیٹی سے متعلق فرمایا کہ وہ میرے لئے جائز نہیں۔ جو رشتہ نسب کی وجہ سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتا ہے۔ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے، عبداللہ نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ ان کے پاس تھے اور انہوں نے ایک شخص کی آواز سنی جو حضرت حفصہؓ کے گھر میں آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے، حفصہؓ کا رضاعی چچا۔ (ایک نسخہ بخاری میں یوں ہے:) حضرت عائشہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ مرد آپؐ کے گھر میں آنے کی اجازت مانگتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے یہ فلاں ہے جو حفصہؓ کا رضاعی چچا ہے، تو حضرت عائشہؓ نے کہا: اگر فلاں زندہ ہوتا یعنی اپنے رضاعی چچا کی نسبت کہا تو وہ بھی میرے پاس آتا۔ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ہاں۔ رضاعت بھی انہی رِشتوں کو محرم بنا دیتی ہے جو پیدائش کی وجہ سے محرم ہوتے ہیں۔