بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 27 hadith
18. The wages of one who has the profession of cupping
باب ۱۸ : خَرَاجِ الْحَجَّامِ
حجام کی اُجرت ( کے بارے میں حکم )
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن عامر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ پچھنے لگوایا کرتے تھے اور کسی کو بھی اُس کی مزدوری سے کم نہ دیتے۔
19. Whoever appealed to the masters to reduce his taxes
باب ۱۹ : مَنْ كَلَّمَ مَوَالِيَ الْعَبْدِ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ
20. The earnings of prostitutes and female-slaves
باب ۲۰ : كَسْبِ الْبَغِيِّ وَالإِمَاءِ
کنچنی اور لونڈیوں کی کمائی ( کے بارے میں حکم )
21. (Charging for) the semen of a male animal
باب ۲۱ : عَسْبِ الْفَحْلِ
نر جانور کی جفتی کی کمائی ( کے بارے میں )
22. If somebody rents land and he or the owner of the land dies (will the contract be cancelled)?
باب ۲۲ : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَرْضًا فَمَاتَ أَحَدُهُمَا
اگر کوئی شخص کسی سے زمین ٹھیکے پر لے اور پھر دونوں ( معاہدہ کرنے والوں ) میں سے کوئی مر جائے ( تو کیا ٹھیکہ قائم رہے گا یا فسخ ہو جائے گا ؟ )
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید طویل سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک حجام غلام کو بلوایا اور اُس نے آپؐ کو پچھنے لگائے اور آپؐ نے اُس کو ایک صاع یا دو صاع یا (کہا:) مُدّ یا دو مُدّ (اناج) دینے کے لئے فرمایا اور اُس کے متعلق سفارش کی۔ پس اُس کا لگان کم کر دیا گیا۔
قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے، انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت اور کنچنی کی کمائی اور کاہن (جوتشی وغیرہ) کی شیرینی سے منع فرمایا۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، (کہا) کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن جُحادہ سے، محمد بن جُحادہ نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث اور اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علی بن حکم سے، علی نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے نر جانور کی جفتی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر اس شرط پر یہودیوں کو دیا تھا کہ وہ اس میں محنت کریں اور کاشت کریں اور جو اس سے پیدا ہو، اُس کا آدھا اُن کے لئے ہوگا۔ اور حضرت ابن عمرؓ نے (نافع سے) بیان کیا کہ کاشت کی زمینیں کچھ لگان مقرر کرکے دی جاتی تھیں۔ نافع نے اس لگان کی تعیین کی تھی لیکن مجھے یاد نہیں۔
اور حضرت رافع بن خدیجؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے کھیتوں کو لگان پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ اور عبید اللہ نے بھی نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے یہی روایت نقل کی۔ (اور یہ الفاظ زائد بیان کئے) یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے انہیں جلا وطن کردیا۔