بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ابوبردہ (برید بن عبد اللہ) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میرے دادا ابوبردہ (عامر) نے اپنے باپ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: وہ دیانت دار خزانچی بھی صدقہ دینے والوں کا ثواب پائے گا جو بطیب خاطر اِتنا دیدے جتنا اسے دینے کا حکم ہوا ہو۔
ابن جریج نے یہ بھی کہا کہ عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بھی اپنے دادا (زُہیر بن عبداللہ) سے روایت کرتے ہوئے اسی قسم کا واقعہ مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ کو کاٹا۔ اس نے اس کا اگلا دانت نکال دیا۔ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے دانت کا کوئی بدلہ نہ دلایا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے قرہ بن خالد سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا کہ ہم سے ابوبردہ نے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) ص سے، انہوں نے کہا: میں (یمن سے) نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے۔ (جو کسی خدمت کے طلبگار تھے۔ انہوں نے آنحضرتؐ سے اس کی درخواست کی۔) میں نے عرض کیا: مجھے علم نہیں تھا کہ یہ دونوں کام کی خواہش رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہم ایسے لوگوں کو اپنے کام پر نہیں لگاتے جو اس کی خواہش رکھتے ہوں۔ (راوی کہتا ہے کہ نبیﷺ نے کلام کرتے ہوئے) لَنْ نَسْتَعْمِل فرمایا یا لَا نَسْتَعْمِلُ فرمایا۔
(تشریح)احمد بن محمد مکی نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے دادا (سعید بن عمرو) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ آپؐ کے صحابہؓ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کیا آپؐ نے بھی (چرائی ہیں؟) آپؐ نے فرمایا: ہاں، میں بھی چند قیراطوں کے بدلے مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) نبی ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے بنی دیل (کے قبیلے) کا ایک آدمی ملازم رکھا جو بنی عبد بن عدی (کے خاندان) سے تھا اور وہ بہت ہوشیار راہبر تھا۔ خِرِّیْتٌ کے معنی ہیں راستہ بتانے میں ماہر۔ اس نے بھی عاص بن وائل کے خاندان کے ساتھ معاہدے میں اپنا ہاتھ ڈبویا تھا اور وہ کفارِ قریش کے دین پر تھا۔ (آنحضرتﷺ اور حضرت ابوبکرؓ) دونوں نے اُس پر اِعتماد کیا اور اپنی اونٹنیاں اس کے حوالے کر دیں۔ اور اس سے تین دن کے بعد غارِ ثور پر ملنے کا وعدہ کیا۔ اور وہ ان کے پاس تیسری رات کی صبح کو اُونٹنیاں لے کر آگیا۔ (جب ہجرت کیلئے) دونوں روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ عامر بن فہیرہؓ (حضرت ابوبکرؓ کا غلام) اور دیلی قبیلہ کا رہبر بھی ساتھ ہوگیا اور انہیں مکہ کے نچلی طرف سمندر کے کنارے کنارے لے گیا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے عقیل سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (ہجرت کے وقت) رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے بنی دیل کے (قبیلہ سے) ایک شخص کو ملازم رکھا جو نہایت ہوشیار راہبر تھا اور کفار قریش کے ہی مذہب پر تھا اور اُن دونوں نے اپنی اُونٹنیاں اس کے حوالہ کیں اور اُس سے تین دِن بعد غارِ ثور پر ملنے کا وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تیسری رات کی صبح کو ان کی اُونٹنیاں لے کر ان دونوں کے پاس آجائے گا۔
یعقوب بن ابراہیم نے مجھے بتایا کہ اسماعیل بن عُلَیّہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صفوان بن یعلیٰ سے، صفوان نے حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں جیش العُسْرَۃ (یعنی جنگ تبوک) میں نبی ﷺ کے ساتھ جنگ میں شامل ہوا تھا اور میرے نزدیک یہ کام میرے اُن اعمال میں سے تھا جو (بلحاظِ ثواب) سب سے بڑھ کر قابل بھروسہ ہو سکتے تھے۔ (میرے ساتھ) میرا ایک مزدور بھی تھا جو ایک آدمی سے لڑ پڑا۔ لڑائی کے دوران ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کی اُنگلی کاٹ لی۔ جب اس نے اپنی اُنگلی کو زور سے کھینچا تو دوسرے کے دانت کو جھٹکا لگا جس سے وہ گر گیا۔ اس پر وہ نبی ﷺ کے پاس شکایت لے کر گیا۔ آپؐ نے اس کے دانت کا کوئی بدلہ نہ دلایا اور فرمایا: کیا وہ اپنی انگلی تیرے منہ میں رہنے دیتا کہ تو اسے چبا جاتا؟ (ابن جریج) کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ آپؐ نے یہ فرمایا: جس طرح سانڈ چباتا ہے۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا کہ یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کچھ بڑھ کر بیان کرتا تھا۔ ابن جریج نے یہ حدیث اَوروں سے بھی سنی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے انہیں بھی سعید (بن جبیر) سے ہی نقل کرتے سنا ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اُبی بن کعبؓ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے (تفسیر کی خاطر یہ آیت) پڑھی: وہ دونوں چل پڑے اور انہوں نے ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی۔ سعید نے کہا کہ (حضرت موسیٰ کے ساتھی نے) اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اُٹھایا (اور دیوار کو درست کیا) تو وہ ٹھیک ہوگئی۔ یعلیٰ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ سعید نے یہ بھی کہا تھا کہ (حضرت موسیٰ کے ساتھی نے) اس (دیوار) کو اپنے ہاتھوں سے درست کیا تو وہ ٹھیک ہوگئی۔ (حضرت موسیٰ نے کہا:) اگر تم چاہتے تو اس کام پر مزدوری لے لیتے۔ سعید نے کہا: ایسی اُجرت جس سے ہم کھاتے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسے شخص کی ہے جس نے کچھ مزدور لگائے اور کہا کہ صبح سے دوپہر تک ایک قیراط پر میرے لیے کون کام کرے گا؟ تب یہود نے کام کیا۔ پھر اُس نے کہا: ایک قیراط پر دوپہر سے لے کر عصر کی نماز تک کون کام کرے گا؟ تو نصاریٰ نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: میرے لئے عصر سے لے کر سورج ڈوبنے تک دو قیراط پر کون کام کرے گا؟ سو وہ تم ہو (جنہوں نے یہ کام کیا۔) اس پر یہود اور نصاریٰ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے: عجیب بات ہے کہ زیادہ کام کرنے والے تو ہم ہوں مگر مزدوری کم ملے۔ تب اس شخص نے کہا: کیا میں نے تمہیں تمہارے حق سے کچھ کم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ تو میرا انعام ہے جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔
اسماعیل بن ابی اویس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے غلام عبداللہ بن دینار سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی ہے جس نے مزدور لگائے اور کہا کہ میرے لئے ایک قیراط پر نصف النہار تک کون کام کرے گا؟ تو یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر نصاریٰ نے بھی ایک ایک قیراط پر (عصر کی نماز تک) کام کیا۔ اس کے بعد تم وہ لوگ ہو جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک دو دو قیراط پر کام کر رہے ہو۔ اس پر یہود اور نصاریٰ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے: ہم نے کام تو زیادہ کیا اور اُجرت کم ملی۔ تب اس شخص نے کہا: کیا میں نے تمہارے حق میں سے کچھ گھٹایا ہے؟ کہنے لگے: نہیں۔ (اس پر) اس نے کہا: یہ میرا انعام ہے جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔
(تشریح)