بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 77 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابو ایوب (انصاری) رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ایوبؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کسی مسلمان کو یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ آپس میں ملیں تو یہ بھی رُکے اور یہ بھی رکے اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کہے۔ اور سفیان نے ذکر کیا کہ انہوں نے یہ حدیث زُہری سے تین بار سنی۔
(تشریح)یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ یونس نے مجھ سے بیان کیا۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے بتایا کہ وہ دس برس کے تھے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت دس برس کی۔ یعنی جب تک آپؐ زندہ رہے۔ اور میں سب لوگوں سے پردے کے حکم کو زیادہ جانتا ہوں۔ جب وہ نازل کیا گیا اور حضرت ابيّ بن کعبؓ بھی مجھے اس کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔ اور سب سے پہلے جو یہ حکم نازل ہوا تو اس وقت جب رسول اللہ ﷺ حضرت زینب بنت جحشؓ کو اپنے گھر لائے نبی ﷺ صبح کو ان کے دلہا تھے۔ آپؐ نے لوگوں کو دعوت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا اور پھر چلے گئے اور چند آدمی ان میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے رہے اور دیر تک بیٹھے رہے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور باہر چلے گئے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ چلا گیا تا کہ وہ لوگ نکلیں۔ رسول اللہ ﷺ چلے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے حجرے کی دہلیز پر پہنچے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے خیال کیا کہ وہ چلے گئے ہوں گے۔ یہ خیال کر کے رسول اللہ ﷺ لوٹے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ لوٹا اور حضرت زینبؓ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں ابھی تک منتشر نہیں ہوئے۔ نبی ﷺ یہ دیکھ کر پھر لوٹے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ ہی لوٹا اور حضرت عائشہؓ کے حجرے کی دہلیز تک پہنچے اور پھر خیال کیا کہ اب تو وہ ضرور ہی نکل گئے ہوں گے۔ یہ خیال کرکے آپؐ لوٹے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ لوٹا۔ کیا دیکھا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ تب حجاب کے متعلق آیت نازل کی گئی اور آپؐ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈالا۔
ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے کہا: ابو مجلز نے ہم سے بیان کیا۔ ابو مجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ نے حضرت زینبؓ سے نکاح کیا تو لوگ اندر آئے اور انہوں نے کھانا کھایا پھر باتیں کرنے بیٹھ گئے تو آپؐ نے یوں اظہار کیا گویا آپؐ اُٹھنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں مگر وہ نہ اُٹھے۔ جب آپؐ نے یہ دیکھا تو آپؐ کھڑے ہوئے جب آپؐ کھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے وہ بھی کھڑے ہوئے جو کھڑے ہوئے اور باقی بیٹھ رہے اور نبی ﷺ اندر جانے کے لئے آئے تو کیا دیکھا کہ وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں نے نبی ﷺ کو بتایا۔ آپؐ آئے اور اندر چلے گئے اور میں بھی اندر جانے لگا مگر آپؐ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اُتارا۔ یعنی اے مؤمنو! نبی کے گھروں میں ہرگز داخل نہ ہوا کرو۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: یہ بات سمجھنے والی ہے کہ آپؐ نے ان سے اجازت نہیں لی۔ جب آپؐ کھڑے ہوئے اور باہر گئے۔ اور اس میں یہ ہے کہ آپؐ کھڑے ہونے کے لئے تیار ہوئے اور آپؐ کا مقصد یہ تھا کہ وہ اُٹھ جائیں۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: اپنی ازواج سے پردہ کرائیں۔ فرماتی تھیں: مگر آپؐ نے ایسا نہ کیا اور نبی ﷺ کی ازواج رات کو ہی مناصع کی طرف جایا کرتی تھیں۔ حضرت سودہ بنت زمعہؓ نکلیں اور وہ دراز قامت عورت تھیں تو حضرت عمر بن خطابؓ نے انہیں دیکھ لیا۔ وہ کسی مجلس میں تھے۔ کہتے تھے: سودہؓ! میں نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ اس لئے کہ انہیں یہ بہت ہی خواہش تھی کہ پردے کا حکم نازل کیا جائے۔ فرماتی تھیں: پھر اللہ عزوجل نے وہ آیت نازل کی جس میں حجاب کا حکم ہوا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ زہری نے کہا کہ یہ حدیث میں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے سن کر ایسے ہی یاد رکھی ہے جیسے کہ تمہیں یہ یقین ہے کہ تم یہاں ہو۔ (حضرت سہلؓ نے) کہا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے حجروں میں ایک سوراخ سے جھانک کر دیکھا اور نبی ﷺ کے پاس پشت خار تھا جس سے آپؐ اپنے سر کو کھجلا رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر میں جانتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں ضرور وہی تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔ اجازت لینا اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن ابی بکر سے، عبیداللہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے کسی حجرے میں جھانک کر دیکھا تو نبی ﷺ چپٹے پھل کا ایک تیر یا کہا کچھ تیر لے کر اس کی طرف جانے کے لئے اٹھے۔ گویا میں آپؐ کو اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ آپؐ دبے پاؤں اس شخص کی طرف جا رہے تھے تا کہ اس کو ماریں۔
(تشریح)(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) ابن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہؓ کے قول سے زیادہ مناسب اور کوئی قول میں لَمَم کی تفسیر میں نہیں پاتا۔ اور محمود (بن غیلان) نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن طاؤس سے، ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوہریرہؓ کے اس قول سے بڑھ کر لَمَم کے مفہوم کے مشابہ اور کوئی قول نہیں دیکھتا جو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کیا کہ اللہ نے ابن آدم کے لئے جو اس کا حصہ زنا سے ہے لکھ دیا ہے جس کو وہ ضرور پالے گا۔ آنکھ کا زنا نظر ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس بھی آرزو کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے اور شرمگاہ ان سب کو سچا کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔
اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ثمامہ بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کی عادت تھی کہ جب سلام کہتے تو تین بار سلام کہتے اور جب کوئی بات فرماتے تو اس کو تین بار دہراتے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ یزید بن خُصیفہ نے ہم سے بیان کیا۔ یزید نے بسر بن سعید سے، بسر نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں انصار کی مجلسوں میں سے ایک مجلس میں تھا۔ اتنے میں حضرت ابوموسیٰؓ آئے جیسے وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمرؓ سے تین بار اندر آنے کی اجازت مانگی۔ انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی اس لئے میں لوٹ آیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے مجھ سے کہا: تم کھڑے کیوں نہیں رہے ؟ میں نے کہا: میں نے آپؓ سے تین بار اجازت مانگی اور آپؓ نے اجازت نہیں دی اس لئے میں لوٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے اسے اجازت نہ دی جائے تو پھر وہ لوٹ جائے۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا: اللہ کی قسم تمہیں اس حدیث پر کوئی ثبوت پیش کرنا ہو گا۔ کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے یہ نبی ﷺ سے سنا؟ حضرت اُبيّ بن کعبؓ نے کہا: اللہ کی قسم تمہارے ساتھ شہادت کے لئے وہ جائے گا جو لوگوں میں سب سے چھوٹا ہوگا۔ (حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے) میں سب لوگوں سے چھوٹا تھا میں اُٹھ کر ان کے ساتھ گیا۔ میں نے حضرت عمرؓ کو بتایا کہ نبی ﷺ نے ایسا فرمایا۔ اور ابن مبارک نے کہا: مجھے ابن عیینہ نے بتایا کہ مجھ سے یزید (بن خصیفہ) نے بیان کیا کہ انہوں نے بُسر سے روایت کی کہ میں نے حضرت ابوسعیدؓ سے یہ سنا۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عمر بن ذر نے ہمیں بتایا اور محمد بن مقاتل نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا، (کہا:) عمر بن ذر نے ہم سے بیان کیا کہ مجاہد نے ہمیں بتایا۔ مجاہد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اندر گیا تو آپؐ نے پیالے میں کچھ دودھ پایا۔ آپؐ نے فرمایا: ابو ہر اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بلا لاؤ۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: میں ان کے پاس آیا اور ان کو بلایا۔ وہ چلے آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی اور انہیں اجازت دی گئی۔ پھر وہ اندر آئے۔