بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
54. The rows for a funeral prayer
باب ۵۴ : الصُّفُوفِ عَلَى الْجِنَازَةِ
جنازہ کے سامنے صفیں باندھنا
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ (سلیمان) شیبانی نے ہمیں بتایا۔ شعبی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اس شخص نے مجھے بتایا۔ جو نبی ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپؐ ایک الگ تھلگ قبر پر آئے۔ آپؐ نے لوگوں کی صفیں بندھوائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ میں نے کہا: اے ابوعمرو! آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے۔
55. The lining up of boys in rows with men in the funeral
باب ۵۵ : صُفُوفِ الصِّبْيَانِ مَعَ الرِّجَالِ عَلَى/فِي الْجَنَائِزِ
جنازوں میں مردوں کے ساتھ بچوں کا صفیں باندھنا
56. The legal way of offering the funeral prayer
باب ۵۶ : سُنَّةِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ
جنازوں کے لئے دعا کرنے کا مسنون طریقہ
57. Superiority of accompanying funeral processions
باب ۵۷ : فَضْلِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ
جنازوں کے ساتھ جانے کی فضیلت
58. Whoever waits till the deceased is buried
باب ۵۸ : مَنِ انْتَظَرَ حَتَّى تُدْفَنَ
انتظار کرے یہاں تک دفنا دیا جائے
59. The offering of the funeral salat (prayer) by boys along with the men
باب ۵۹ : صَلاَةِ الصِّبْيَانِ مَعَ النَّاسِ عَلَى الْجَنَائِزِ
لوگوں کے ساتھ بچوں کا جنازوں کی نماز پڑھنا
60. To offer the funeral Salat (prayer) at the Musalla and at the Mosque
باب ۶۰ : الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ بِالْمُصَلَّى وَالْمَسْجِدِ
عید گاہ اور مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: عطاء نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: آج حبشیوں میں سے ایک نیک آدمی فوت ہو گیا ہے۔ آئو اس کا جنازہ پڑھیں۔ (حضرت جابرؓ) کہتے تھے: ہم نے صفیں باندھیں اور نبی ﷺ نے نماز پڑھائی۔ جب کہ ہم صف بستہ تھے اور ابو زبیر نے حضرت جابرؓ سے یوں نقل کیا: میں دوسری صف میں تھا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالواحد (بن زیاد) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) شیبانی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر (شعبی) سے، عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبر پر سے گزرے جس میں رات کو میّت دفن کی گئی تھی۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کب دفن ہوئی؟ لوگوں نے کہا: گزشتہ رات۔ تو آپؐ نے فرمایا: کیوں مجھے اطلاع نہ دی۔ انہوں نے کہا: ہم نے رات کی تاریکی میں اس کو دفنایا ہے اور ہم نے پسند نہ کیا کہ آپؐ کو جگائیں۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور ہم نے آپؐ کے پیچھے صفیں باندھیں۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: میں بھی ان میں تھا۔ پھر آپؐ نے اس کا جنازہ پڑھا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سلیمان) شیبانی سے، شیبانی نے شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اس شخص نے مجھے بتایا۔ جو تمہارے نبی ﷺ کے ساتھ ایک الگ سی قبر پر سے گزرا تھا کہ آپؐ ہمارے امام ہوئے اور ہم نے آپؐ کے پیچھے صفیں باندھیں۔ ہم نے (شعبی سے) پوچھا: ابوعمرو ! آپ کو کس نے بتایا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) جریر بن حازم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے نافع سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمرؓ سے بیان کیا گیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کہتے تھے: جو جنازے کے ساتھ گیا اس کے لئے ایک قیراط (ثواب) ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہؓ نے ہم سے بہت باتیں بیان کی ہیں۔
تو حضرت عائشہؓ نے حضرت ابوہریرہؓ کی تصدیق کی اور کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو یہی فرماتے سنا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو پھر ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیئے ہیں۔ فَرَّطْتُ کے معنی ہیں ؛ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کر دیا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابن ابی ذئب کے سامنے پڑھا۔ سعید بن ابی سعید مقبری سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ { اور عبداللہ بن محمد (مسندی) نے بھی مجھ سے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام (بن یوسف) نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے (سعید) بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ } (اور) احمد بن شبیب بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: یونس (بن یزید) نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب نے کہا اور عبدالرحمن اعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جنازے میں اس وقت تک شریک رہے کہ اس کے لئے نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے تو اس کو ایک قیراط (ثواب) ہوگا اور جو دفنانے تک شریک رہے، اس کو دو قیراط۔ پوچھا گیا: یہ دو قیراط کتنے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کی طرح۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ بن ابی بکیر نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) زائد (بن قدامہ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابواسحق شیبانی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر (شعبی) سے، عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک قبر پر آئے۔ لوگوں نے کہا: یہ کل رات دفنایا گیا ہے یا کہا : دفنائی گئی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ہم نے آپؐ کے پیچھے صفیں باندھ لیں اور پھر آپؐ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے روایت کی۔ ان دونوں نے (ابن شہاب) کو بتایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حبشیوں کے بادشاہ نجاشیؓ کے فوت ہونے کی خبر ہمیں اسی دن دی جس دن کہ وہ فوت ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت مانگو۔
اور ابن شہاب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ نے عید گاہ میں صفیں بندھوائیں اور ان کے لئے چار تکبیریں کہیں۔ (یعنی چار تکبیروں کے ساتھ ان کا جنازہ پڑھا)۔