بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: معمر اور یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ وہ کہتے تھے: ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی زوجہ نے ان سے بیان کیا۔ کہتی تھیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے مکان سے جو سُنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اتر کر مسجد میں گئے اور لوگوں سے بات نہیں کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اندر آئے اور سیدھے نبی ﷺ کی طرف گئے اور آپؐ کو دھاریوں والی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا۔ (حضرت ابوبکرؓ ) نے آپؐ کے منہ سے کپڑا ہٹایا۔ پھر آپؐ پر جھکے اور آپؐ کا بوسہ لیا اور پھر روپڑے اور کہا: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ اللہ تعالیٰ آپؐ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔ وہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے مقدر کی ہوئی تھی آپؐ پر وارد ہو چکی ہے۔ ابوسلمہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے۔ (حضرت ابوبکرؓ ) نے کہا: بیٹھو۔ وہ نہ مانے۔ پھر کہا: بیٹھو وہ نہ مانے۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے کلمۂ شہادت پڑھا اور لوگ ان کی طرف بڑھے اور حضرت عمرؓ کو چھوڑ دیا تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اما بعد۔ اگر تم میں سے کوئی محمد ﷺ کی پرستش کرتا تھا تو یہ دیکھو محمد ﷺ فوت ہو چکے ہیں اور جو اللہ کی پرستش کرتا تھا اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے وہ کبھی مرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور محمدؐ تو ایک پیغمبر ہی ہے اس سے پہلے بھی پیغمبر فوت ہو چکے ہیں۔{ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے گا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ اور اللہ یقینا شکر گزاروں کو جزا دے گا۔} اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے لوگ اس وقت تک کہ حضرت ابوبکرؓ نے اسے پڑھا، جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی تھی اور گویا لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ سے اس آیت کا علم حاصل کیا ہے، پھر تو جس انسان کو سنو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: معمر اور یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ وہ کہتے تھے: ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی زوجہ نے ان سے بیان کیا۔ کہتی تھیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے مکان سے جو سُنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اتر کر مسجد میں گئے اور لوگوں سے بات نہیں کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اندر آئے اور سیدھے نبی ﷺ کی طرف گئے اور آپؐ کو دھاریوں والی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا۔ (حضرت ابوبکرؓ ) نے آپؐ کے منہ سے کپڑا ہٹایا۔ پھر آپؐ پر جھکے اور آپؐ کا بوسہ لیا اور پھر روپڑے اور کہا: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ اللہ تعالیٰ آپؐ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔ وہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے مقدر کی ہوئی تھی آپؐ پر وارد ہوچکی ہے۔ ابوسلمہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے۔ (حضرت ابوبکرؓ ) نے کہا: بیٹھو۔ وہ نہ مانے۔ پھر کہا: بیٹھو وہ نہ مانے۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے کلمۂ شہادت پڑھا اور لوگ ان کی طرف بڑھے اور حضرت عمرؓ کو چھوڑ دیا تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اما بعد۔ اگر تم میں سے کوئی محمد ﷺ کی پرستش کرتا تھا تو یہ دیکھو محمد ﷺ فوت ہو چکے ہیں اور جو اللہ کی پرستش کرتا تھا اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے وہ کبھی مرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور محمدؐ تو ایک پیغمبر ہی ہے اس سے پہلے بھی پیغمبر فوت ہو چکے ہیں۔{ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے گا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ اور اللہ یقینا شکر گزاروں کو جزا دے گا۔ } اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے لوگ اس وقت تک کہ حضرت ابوبکرؓ نے اسے پڑھا، جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی تھی اور گویا لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ سے اس آیت کا علم حاصل کیا ہے، پھر تو جس انسان کو سنو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہم سے مہدی بن میمون نے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) واصل (بن حیان) احدب نے ہمیں بتایا۔ واصل نے معرور بن سوید سے، معرور نے حضرت ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا یا آپ نے فرمایا اس نے مجھے بشارت دی کہ جو میری امت سے ایسی حالت میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہیں ٹھہراتا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو، گو اس نے چوری کی ہو؟ فرمایا: گو اس نے زنا کیا ہو، گو اس نے چوری کی ہو۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا، (کہا:) شقیق (بن سلمہ) نے ہمیں بتایا کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرے گا وہ آگ میں داخل ہوگا اور میں (یعنی عبد اللہ بن مسعودؓ) کہتا ہوں: جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اشعث (ابن ابی شعثائ) سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن کو حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ وہ کہتے تھے: ہمیں نبی ﷺ نے سات باتیں کرنے کا حکم دیا اور سات ہی باتوں سے ہمیں روکا۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم جنازوں کے ساتھ جایا کریں، بیمار کی عیادت کریں، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں، مظلوم کی مدد کریں، قسم کو پورا کریں، سلام کا جواب دیا کریں، چھینکنے والے کو دعا دیں اور چاندی کے برتن، سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے اور دیباج اور قسی اور استبرق (پہننے) سے ہمیں منع فرمایا۔
محمد (ذہلی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عمرو بن ابی سلمہ (تنیسی) نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے ہمیں خبر دی، کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: مسلمان پر مسلمان کے حق پانچ ہیں۔ سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کو دعا دینا۔ (عمرو بن ابی سلمہ کی طرح) عبدالرزاق نے (بھی) اس (حدیث) کو بیان کیا، کہا: معمر نے ہمیں بتایا اور سلامہ نے عقیل سے سن کر اس کو روایت کیا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھے بتایا کہ حضرت امّ العلاءؓ نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی ﷺ کی بیعت کی ہوئی تھی، انہیں بتایا۔ مہاجرین قرعہ ڈال کر تقسیم کر دئے گئے۔ حضرت عثمان بن مظعونؓ ہمارے حصہ میں آئے اور ہم نے ان کو اپنے گھروں میں مہمان رکھا۔ پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں انہوں نے وفات پائی۔ جب وہ فوت ہوئے اور انہیں غسل دیا گیا اور وہ اپنے ہی کپڑوں میں کفنائے گئے تو رسول اللہ ﷺ اندر آئے۔ میں نے کہا: اے ابوالسائب (عثمان بن مظعونؓ)! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ تمہاری نسبت میری گواہی ہے کہ ضرور ہی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت دی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ آپؐ پر قربان۔ پھر اللہ اور کس کو عزت دے گا؟ تو آپؐ نے فرمایا: اس کی تو یہ حالت ہے کہ اس پر موت وارد ہو چکی ہے اور بخدا میں اس کے لئے بھلائی ہی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم مجھے بھی معلوم نہیں حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا گزرے گی۔ حضرت امّ العلاءؓ کہتی تھیں: بخدا اس کے بعد تو میں کسی کی نسبت کبھی نہیں کہوں گی کہ وہ پاک ہے۔ سعید بن عُفیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں اس طرح بتایا اور نافع بن یزید نے عقیل سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کئے (کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:) میں نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور (عقیل کی طرح) شعیب اور عمرو بن دینار اور معمر نے بھی یہ حدیث بیان کی۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) غندر نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے محمد بن منکدر سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: جب میرے باپ کو شہید کیا گیا تو میں ان کے چہرے سے کپڑا اُتار کر رونے لگا اور لوگ مجھے روکتے تھے اور نبی ﷺ مجھے نہیں روکتے تھے۔ میری پھوپھی حضرت فاطمہؓ بھی رونے لگیں۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا: تم روئے یا نہ روئے؛ اس وقت تک کہ تم نے اس کو اُٹھایا ملائکہ اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے رہے ہیں۔ (شعبہ کی طرح) ابن جریج نے بھی یہ روایت بیان کی۔ (محمد) بن منکدر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاشیؓ کے مرنے کی خبر اُسی دن دی تھی جس دن وہ فوت ہوا۔ آپؐ عید گاہ کو گئے اور لوگوں کو صفیں بندھوائیں اور چار تکبیریں کہیں۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید بن ہلال سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: زیدؓ نے جھنڈا لیا۔ وہ شہید ہوئے۔ پھر جعفرؓ نے اسے لیا۔ وہ بھی شہید ہوئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے اسے لیا۔ وہ بھی شہید ہوئے۔ (آپؐ یہ فرماتے جاتے تھے) اور حالت یہ تھی کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ پھر حضرت خالدؓ بن ولید نے اسے بغیر سردار ہونے کے لیا اور انہیں فتح ہوئی۔
(تشریح)