بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ بن سعید انصاری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ابوصالح (ذکوان زیات) نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں کسی لشکر میں شامل ہونے سے باز نہ رہتا۔ (یعنی ہر جنگ میں شامل ہوتا) لیکن میں سواری کے جانور ہر ایک کو دینے کے لئے نہیں پاتا اور میں اتنی سواریاں کہاں سے مہیا کر سکتا ہوں کہ سب کو دوں اور مجھ پر یہ بھی گراں گزرتا ہے کہ وہ (یعنی صحابہ) جہاد کے وقت میرے پیچھے رہ جائیں اور میری تو خواہش ہے کاش میں اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں۔ پھر مارا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے، صفوان نے اپنے باپ (حضرت یعلی بن امیہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میں تبوک کی جنگ میں گیا۔ میں نے ایک جوان اونٹ (دوسرے غازیوں کی) سواری کے لئے دیا اور میرے نزدیک یہ عمل میرے تمام اعمال میں سے سب سے زیادہ قابل اعتماد تھا۔ میں نے ایک مزدور کو رکھ لیا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا۔ تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کو کاٹا تو دوسرے نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے جھٹکا دے کر کھینچا اور اس کا دانت نکال دیا۔ پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپؐ نے اس کے دانت کا بدلہ نہیں دلوایا اور فرمایا: کیا یہ اپنے ہاتھ کو تیرے سپرد کر دیتا اور تو اسے چبا جاتا جس طرح سانڈ چباتا ہے۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا، کہا: لیث نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: عقیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ثعلبہ بن ابی مالک قرظی نے مجھے بتایا کہ حضرت قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے علم بردار تھے انہوں نے حج کا ارادہ کیا تو اپنے بالوں میں کنگھی کی۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے، یزید نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ خیبر میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان کی آنکھیں دُکھتی تھیں۔ پھر کہنے لگے کہ کیا میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ جائوں یہ کہہ کر وہ روانہ ہوگئے اور نبی ﷺ سے جا ملے۔ جب شام ہوئی جس کی صبح کو حضرت علیؓ نے خیبر فتح کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کل صبح میں ایسے شخص کو عَلَم دوں گا یا فرمایا: ایسا شخص عَلَم لے گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت رکھتا ہے یا فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اس کے ذریعہ اللہ فتح دے گا۔ تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ آ رہے ہیں اور ان کے آنے کی ہمیں امید نہ تھی۔ صحابہ نے کہا: یہ حضرت علیؓ آ گئے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو عَلَم دیا اور اللہ نے ان کو فتح دی۔ طرفاہُ: ۳۷۰۲، ۴۲۰۹۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نافع بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عباسؓ سے سنا۔ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہما سے کہہ رہے تھے کہ نبی ﷺ نے تم سے فرمایا ہے کہ عَلَم یہاں گاڑ دو۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسی باتیں دے کر بھیجا گیا ہے جو جامع ہیں اور رُعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ ساری زمین کے خزانوں کی چابیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھی گئیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ تو چلے گئے اور اَب تم یہ خزانے نکال رہے ہو۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زُہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی۔ ابوسفیانؓ نے انہیں بتایا کہ ہرقل نے ان کو بلوا بھیجا جبکہ وہ شام کے ملک میں تھے۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا۔ جب وہ یہ خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس بڑا شور برپا ہوگیا اور آوازیں بلند ہوئیں اور ہم باہر نکال دئیے گئے۔ جب ہمیں نکال دیا گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابوکبشہ کے بیٹے کی تو دھاک بندھ گئی ہے۔ اس سے تو بنی اصفر کا بادشاہ بھی ڈر رہا ہے۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا اور فاطمہ (بنت منذر) نے بھی مجھے بتایا کہ حضرت اسماء (بنت ابی بکر) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی تھیں: جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے حضرت ابو بکرؓ کے گھر میں آپؐ کے لئے توشہ سفر تیار کیا۔ کہتی تھیں: توشہ باندھنے کیلئے ہمیں کپڑا نہ ملا اور نہ مشکیزہ باندھنے کیلئے تو میں نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا: بخدا! میں اپنی کمر پر باندھنے والے کپڑے کے سوا اور کوئی شئے نہیں پاتی جس میں توشہ باندھوں۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا: پھر اس کو ہی دو ٹکڑے کرلو۔ ایک سے مشکیزہ باندھ دو اور دوسرے میں توشہ۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ اس وجہ سے حضرت اسماءؓ کو ذات النطاقین کہا جانے لگا۔ طرفاہُ: ۳۹۰۷، ۵۳۸۸۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عطاء نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ کے زمانے میں ہم قربانیوں کا گوشت مدینہ جاتے وقت بطور زادِ راہ لیا کرتے تھے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے سنا۔ انہوں نے کہا: بُشَیر بن یسار نے مجھے بتایا کہ حضرت سُوَید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ جس برس خیبر فتح ہوا وہ نبی ﷺ کے ساتھ نکلے۔ جب صہباء میں پہنچے { اور یہ خبیر ہی کے علاقے میں ہے } اور اس کے نزدیک ہے تو انہوں نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر نبی ﷺ نے کھانا منگوایا تو نبی ﷺ کے پاس صرف ستو ہی لائے گئے۔ ہم نے وہی منہ سے اِدھر اُدھر پھیر کر کھائے اور پانی پیا۔ پھر اس کے بعد نبی ﷺ اُٹھے اور آپؐ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی۔