بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
بشر بن مرحوم نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ یزید بن ابوعبید نے حضرت سلمہ (بن اکوع) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: (ایک سفر میں) لوگوں کے زاد کم ہوگئے اور ان کے پاس کچھ نہ رہا اور وہ نبی ﷺ کے پاس اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگنے آئے۔ آپؐ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر حضرت عمرؓ ان لوگوں سے ملے اور انہوں نے حضرت عمرؓ کو بتایا تو حضرت عمرؓ نے کہا: اپنے اونٹوں کے بعد تم کیسے گزارہ کرو گے؟ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نبی ﷺ کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! وہ اپنے اونٹوں کے بعد کیسے گزارہ کریں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں منادی کرو کہ سب اپنا بچا ہوا زادِ راہ لے آئیں۔ پھر آپؐ نے دعا کی اور اس زادِ راہ کو برکت دی۔ پھر ان کے برتن منگوائے اور لوگوں نے لپ بھر بھر کر لینا شروع کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
(تشریح)صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے وہب بن کیسان سے، وہب نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم جہاد کیلئے نکلے اور ہم تین سو آدمی تھے۔ ہم اپنے مونڈھوں پر اپنے زادِ سفر اُٹھاتے تھے۔ پھر ہمارے زادِ سفر ختم ہوگئے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہم میں سے ایک شخص ہر روز ایک کھجور کھایا کرتا تھا۔ ایک شخص نے کہا: ابو عبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا بنتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جب ہمارے پاس وہ بھی نہ رہی تب نہ ملنے پر اس کی قدر معلوم ہوئی۔ آخر ہم سمندر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مچھلی ہے جسے سمندر نے باہر پھینک دیا ہے۔ ہم اس سے اٹھارہ دن تک جس قدر بھی ہمیں خواہش ہوئی کھاتے رہے۔
عمرو بن علی (فلاس) نے ہمیں بتایا۔ ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا کہ عثمان بن اسود نے ہمیں بتایا۔ ابومُلَیکہ کے بیٹے نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کے صحابہ حج اور عمرہ کا ثواب لے کر لوٹیں گے اور میں نے حج سے زیادہ کچھ نہیں کیا تو آپؐ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: تم جاؤ اور عبدالرحمنؓ تمہیں پیچھے بٹھا لے۔ پھر آپؐ نے عبدالرحمنؓ سے فرمایا کہ انہیں تنعیم سے عمرہ کرائو اور رسول اللہ ﷺ مکہ کی بالائی سمت میں ان کا انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ وہ آگئیں۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو بن دینار نے عمرو بن اوس سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں حضرت عائشہؓ کو پیچھے بٹھا لوں اور ان کو تنعیم سے عمرہ کرائوں۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ابوطلحہ ؓ کے پیچھے ایک ہی جانور پر سوار تھا اور لوگ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لئے اکٹھے لبیک پکار رہے تھے۔
قُتَیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوصفوان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس بن یزید سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار ہوئے۔ اس پر پالان تھا اور پالان پر چادر تھی اور آپؐ نے حضرت اسامہؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا کہ یونس نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ کی بالائی سمت سے آئے۔ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ اسامہ بن زیدؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا اور بلالؓ اور عثمان بن طلحہؓ بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے آپؐ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے صحن مسجد میں اپنی اونٹنی بٹھائی اور عثمانؓ سے فرمایا کہ وہ بیت اللہ کی چابی لائیں۔ انہوں نے بیت اللہ کا دروازہ کھولا اور رسول اللہ ﷺ اندر گئے اور آپؐ کے ساتھ اسامہؓ، بلالؓ اور عثمانؓ تھے۔ آپؐ دن کا بڑا حصہ کعبہ میں ٹھہرے رہے۔ پھر آپؐ باہر آئے اور لوگ اندر جانے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ پہلے شخص تھے جو داخل ہوئے اور حضرت بلالؓ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا۔ انہوں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ تو انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کرکے ان کو بتایا جہاں آپؐ نے نماز پڑھی تھی۔ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ ) کہتے تھے کہ میں بلالؓ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپؐ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔
اسحق (بن منصور بن بہرام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دن جبکہ سورج نکلتا ہے لوگوں کے ہر جوڑ کی ہڈی کے ذمہ ایک صدقہ ہوتا ہے۔ جو شخص دو آدمیوں کے درمیان عدل کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی آدمی کو اس کے جانور پر سوار ہونے میں مدد دے اور اس کو اس پر چڑھائے یا اس کا سامان اس پر اُٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات کہنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو وہ نماز کے لئے اُٹھاتا ہے صدقہ ہے اور تکلیف دینے والی چیز کو راستہ سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمن کے ملک میں قرآن کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے خیبر پر صبح کے وقت حملہ کیا اور وہ اپنے کندھوں پر کدالیں لئے ہوئے باہر نکل چکے تھے۔ جب انہوں نے آپؐ کو دیکھا تو کہا: یہ لو - محمد مع لشکر آگیا ہے۔ محمد مع لشکر آگیا ہے اور انہوں نے بھاگ کر قلعہ میں پناہ لی۔ انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ کر نبی ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا: اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا۔ ہم جب کسی قوم کے آنگن میں ڈیرے لگاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنہیں قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دیا ہو اور ہم نے غنیمت میں کچھ گدھے پائے اور نہیں پکایا۔ نبی ﷺ کے منادی نے پکارا کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں۔ ہانڈیاں مع اس کے جو اُن میں تھا انڈیل دی گئیں۔ عبداللہ بن محمد کی طرح علی (بن مدینی) نے بھی سفیان سے یہی نقل کیا ہے۔ (اس میں بھی یہ الفاظ ہیں) نبی ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے۔