بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے اللہ کی راہ میں گھوڑا سواری کے لئے دیا۔ پھر انہوں نے اسے بکتا دیکھا اور چاہا کہ اسے خود خرید لیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے نہ خریدو اور اپنے صدقہ سے نہ پلٹو۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کیلئے دیا۔ جس کے پاس تھا اس نے بیچنا چاہا۔ اس نے اس کو خراب کردیا۔ اس لئے میں نے اسے خریدنا چاہا اور میں نے خیال کیا کہ وہ اس کو سستا ہی بیچ دے گا۔ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے نہ خریدو خواہ وہ ایک درہم پر ہی کیوں نہ ملے۔ کیونکہ اپنی دی ہوئی چیز سے پلٹنے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حبیب بن ابی ثابت نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابوالعباس شاعر سے سنا اور حدیث کی روایت میں وہ متہم نہ تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے جہاد کے متعلق اجازت مانگی۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر تم ان کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے، عبداللہ نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔ عبداللہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابوبشیرؓ نے کہا: لوگ اپنی اپنی خواب گاہوں میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے پیغام بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں کوئی شئے گھنٹی تندی وغیرہ نہ رہے اور وہ کاٹ دی جائے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے ابومعبد (نافذ) سے، ابومعبد نے (حضرت عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ محرم رشتہ دار ہو سفر کرے۔ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! فلاں فلاں غزوہ میں میرا نام لکھا گیا ہے اور میری بیوی حج کرنے کے لئے نکلی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ میں نے یہ حدیث ان سے دو دفعہ سنی۔ انہوں نے کہا: حسن بن محمد نے مجھے بتایا، کہا: عبیداللہ بن ابی رافع نے مجھے بتایا، کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیرؓ اور مقداد بن اسودؓ کو بھیجا۔ آپؐ نے فرمایا: تم چلے جائو۔ جب تم روضۂ خاخ میں پہنچو تو وہاں ایک شتر سوار عورت ہوگی اور اس کے پاس ایک خط ہے۔ تم وہ خط اس سے لے لو۔ ہم چل پڑے۔ ہمارے گھوڑے سرپٹ دوڑتے ہوئے ہمیں لے گئے۔ جب ہم روضۂ خاخ میں پہنچے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شتر سوار عورت موجود ہے۔ ہم نے کہا: خط نکالو۔ وہ کہنے لگی: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا: تمہیں خط نکالنا ہوگا ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے (اور تلاشی لیں گے۔) اس پر اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا اور ہم وہ خط رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے۔ دیکھا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ {کے مشرکوں } کے نام۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے کسی ارادے کی ان کو اِطلاع دے رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے (اسے بلا بھیجا اور) پوچھا: حاطب یہ کیا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرے متعلق جلدی نہ فرمائیں۔ میں ایک ایسا آدمی تھا جو قریش میں آکر مل گیا تھا۔ ان میں سے نہ تھا اور دوسرے مہاجرین جو آپؐ کے ساتھ تھے ان کی مکہ میں رشتہ داریاں تھیں جن کے ذریعہ وہ اپنے گھر بار اور مال و اسباب کو بچاتے رہے ہیں۔ میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر کوئی احسان کردوں۔ کیونکہ ان میں کوئی رشتہ داری تو میری تھی ہی نہیں۔ شاید وہ اس احسان ہی کی وجہ سے میرا پاس کریں اور میں نے کسی کفر یا ارتداد کی وجہ سے یہ نہیں کیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کبھی پسند نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نے تم سے سچ بیان کیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ تو جنگ بدر میں موجود تھا اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا: جو تم چاہو کرو۔ میں نے تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی کردی ہے۔ سفیان نے کہا: یہ سند بھی کیا ہی عمدہ سند ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: جب بدر کی جنگ ہوئی تو (کافروں کے) قیدی لائے گئے اور عباسؓ بھی لائے گئے۔ ان پر کوئی کپڑا نہ تھا۔ نبی ﷺ نے ان کے لئے کرتہ تلاش کیا۔ لوگوں نے عبداللہ بن اُبی ّ کا کرتہ ان کیلئے ٹھیک پایا۔ نبی ﷺ نے وہی ان کو پہنا دیا اور اس وجہ سے نبی ﷺ نے (عبداللہ بن اُبی ّ کے لئے اس کے مرنے پر) اپنا کرتہ اُتار کر اسے دے دیا کہ وہ اسے پہنایا جائے۔ ابن عیینہ کہتے تھے: نبی ﷺ سے اس نے نیک سلوک کیا تھا تو نبی ﷺ نے بھی چاہا کہ اس سے نیک سلوک فرمائیں۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت سہل بن سعد (انصاری) رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا، کہا: نبی ﷺ نے غزوئہ خیبر میں فرمایا: کل میں ایسے شخص کو پرچم دوں گا جس کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ خیبر فتح کروائے گا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ لوگ رات بھر اس خیال میں رہے کہ ان میں سے کس کو جھنڈا دیا جائے گا۔ صبح آئے، ہر ایک کو یہی آرزو تھی کہ پرچم اسے دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: علیؓ کہاں ہیں؟ کہا گیا: ان کی آنکھیں دُکھتی ہیں۔ آپؐ نے ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا اور دعا کی۔ وہ بالکل اچھے ہوگئے گویا ان کو کوئی بیماری ہی نہ ہوئی تھی۔ آپؐ نے ان کو پرچم دیا۔ انہوں نے پوچھا: کیا میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں کہ وہ ہماری طرح مسلمان ہوجائیں؟ آپؐ نے فرمایا: آہستگی سے جاؤ یہاں تک کہ جب تم ان کے آنگن میں ڈیرے لگادو۔ پھر اس کے بعد ان سے اسلام قبول کرنے کے لئے کہو اور جو باتیں ان کے لئے ضروری ہوں وہ انہیں بتائو۔ بخدا اگر اللہ تمہارے ذریعہ کسی شخص کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں خبر دی (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، ابن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ ان لوگوں پر تعجب کرے گا جو جنت میں زنجیروں سے جکڑے ہوئے داخل ہوں گے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ صالح بن حيّ ابو حسن نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے شعبی سے سنا۔ کہتے تھے کہ ابو بردہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے باپ (حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ) سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جنہیں دوہرا اَجر دیا جائے گا۔ ایک وہ شخص جس کی ایک لونڈی ہو اور وہ اس کو تعلیم دے اور نہایت عمدہ تعلیم دے اور اس کو آداب سکھائے اور بہترین آداب سکھائے۔ { پھر اس کے بعد وہ اس کو آزاد کر دے} اور اس سے نکاح کر لے۔ ایسے شخص کو دو ثواب ملیں گے اور اہل کتاب میں سے وہ شخص جو (اپنے پیغمبر پر) ایمان رکھتا ہو اور پھر وہ نبی ﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اس کو بھی دو ثواب ملیں گے اور وہ غلام جو اللہ کا حق بجا لائے اور اپنے آقا کی خیر خواہی کرتا رہے۔ یہ حدیث بیان کرکے شعبی نے کہا: میں نے تم کو یہ تمہارے مشقت اُٹھانے کے بغیر سنائی ہے۔ بحالی کہ آدمی معمولی سی بات کے لئے مدینہ تک سفر کیا کرتا تھا۔