بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا: زُہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (بن عبداللہ بن عتبہ) سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباسؓ سے، حضرت ابن عباسؓ نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ مقامِ ابواء یا ودان میں میرے پاس سے گزرے۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ جن مشرکوں سے لڑائی ہے اگر ان کے گھر والوں پر شب خون مارا جائے اور اس کے نتیجہ میں ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں تو اس بارہ میں حضورؐ کا کیا خیال ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ بھی تو قوم کا حصہ ہی ہیں اور میں نے آپؐ کو یہ بھی فرماتے سنا: کوئی رَکھ نہیں مگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے۔
اور زُہری سے روایت ہے کہ انہوں نے عبیداللہ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے تھے کہ (انہوں نے کہا:) حضرت صعب (بن جثامہؓ) نے عورتوں اور بچوں کے بارے میں ہم سے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ (سفیان نے کہا:) عمرو (بن دینار) یہ حدیث بسند ابن شہاب ہم سے بیان کیا کرتے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ پھر ہم نے زُہری سے یہ حدیث یوں سنی انہوں نے کہا: عبیداللہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے، حضرت ابن عباس نے حضرت صعب (بن جثامہؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ الفاظ فرمائے: ’’وہ انہی میں سے ہیں‘‘ اور جس طرح عمرو نے بیان کیا ہے، آپؐ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ’’وہ اپنے آباء ہی کی اولاد ہیں۔‘‘
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ عبداللہ (بن عمرو) نے انہیں خبر دی۔ نبی ﷺ کی جنگوں میں سے کسی ایک جنگ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو آپؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کئے جانے کو ناپسند فرمایا۔
اسحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابواسامہ (حماد بن اسامہ) سے پوچھا: کیا عبیداللہ نے تمہیں یہ حدیث نافع سے روایت کرتے ہوئے بتائی کہ (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی جنگوں میں سے کسی جنگ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بکیر (بن عبداللہ) سے، بکیر نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور آپؐ نے فرمایا: اگر تم فلاں فلاں شخص کو پائو تو انہیں آگ سے جلا دو۔ پھر جب ہم نکلنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں شخص کو آگ سے جلا دینا۔ مگر آگ سے تو صرف اللہ ہی سزا دیتا ہے۔ اس لئے اگر تم ان دونوں کو پائو تو انہیں قتل کر دو۔
علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے عکرمہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو آگ سے جلوایا اور یہ خبر حضرت ابن عباسؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: اللہ کی سزا جیسی کسی کو سزا نہ دو اور میں انہیں قتل کروا دیتا جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: جو اپنے دین کو تبدیل کرے (اور محاربین میں شامل ہو جائے تو) اسے قتل کر دو۔
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عُکل قبیلہ کے آٹھ آدمی نبیؐ کے پاس آئے (اور مسلمان ہوگئے۔) انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمیں دودھ منگوا دیں۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارے لئے یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ جہاں اونٹوں کے ریوڑ ہیں وہاں چلے جائو۔ چنانچہ وہ چلے گئے اور انہوں نے ان کے پیشاب اور دودھ پئے۔ یہاں تک کہ تندرست اور موٹے ہوگئے اور چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے گئے اور مسلمان ہونے کے بعد وہ کافر ہوگئے۔ ایک فریادی نبیؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے سواروں کو اُن کا پیچھا کرنے کے لئے بھیجا۔ ابھی دن نہیں چڑھا تھا کہ ان کو پکڑ کر لے آئے۔ آپؐ نے (ان کے جرم کے بدلے) ان کے ہاتھ اور پائوں کٹوائے۔ پھر لوہے کی سلائیاں گرم کرنے کو فرمایا۔ وہ گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیری گئیں اور حرّہ میدان میں وہ پھینکوا دیے گئے۔ پیاس کے مارے پانی مانگتے تھے اور انہیں پانی نہ دیا جاتا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ابوقلابہ کہتے تھے: ان لوگوں نے مسلمانوں کو قتل کیا۔ پھر چوری کی اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے اور ان سے لڑائی کی اور ملک میں فساد کیا۔ (اس لئے ان کو یہ سزا دی گئی۔)
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے اور ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: کسی نبی کو ایک نملہ نے کاٹ کھایا تو اس نبی نے نملہ کی بستی کو جلا دینے کا حکم دیا اور وہ جلا دی گئی تو اللہ نے انہیں وحی کی کہ ایک نملہ نے تجھے کاٹا تھا، تو نے ایک قوم کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: قیس بن ابی حازم نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: حضرت جریر (بن عبداللہ بجلیؓ) نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا ذوالخلصہ سے مجھے چھٹکارا نہیں دلائو گے اور یہ خثعم قبیلے میں ایک بت خانہ تھا جسے کعبۂ یمانی کہا کرتے تھے۔ حضرت جریرؓ کہتے تھے: میں احمس قبیلہ کے ایک سو پچاس سوار لے کر روانہ ہوگیا اور یہ لوگ سواری میں ماہر تھے۔ کہتے تھے: میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے میرے سینہ پر (اتنے زور سے) ہاتھ مارا {کہ آپؐ کی انگلیوں کے نشان میں نے اپنے سینے پر دیکھے{ اور آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! اسے گھوڑے پر بیٹھنے کی توفیق دے اور اسے راہنما اور راست رَو بنا۔ چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلیؓ وہاں چلے گئے اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور جلا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ایک شخص (ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ نامی) کو بھیجا کہ آپؐ کو خبر دے۔ حضرت جریرؓ کے ایلچی نے کہا: اسی ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپؐ کے پاس نہیں آیا جب تک ذوالخلصہ کو ایسا جلا بھنا نہیں چھوڑا جیسے کوئی کھوکھل اونٹ یا خارشی اونٹ ہوتا ہے۔ حضرت جریرؓ کہتے تھے: آپؐ نے احمس کے }گھوڑوں} اور ان کے سواروں کے لئے پانچ بار فرمایا: اللہ انہیں برکت دے۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے بنو نضیر کی کھجوروں کے درخت جلا دئیے تھے۔